پاکستان اور افغان فورسز کے درمیان طورخم سرحد پر فائرنگ کا تبادلہ، گزرگاہ آمد و رفت کے لیے بند

0
1597

پاکستان اور افغانستان کو ملانے والی طورخم سرحد پر دونوں ملکوں کی فورسز کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے جس کے بعد گزر گاہ کو آمد و رفت کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔

پشاور سے وائس آف امریکہ کے نمائندے شمیم شاہد کے مطابق پاکستانی فورسز اور طالبان حکومت کی فورسز کے درمیان فائرنگ کا سلسلہ اتوار کی شب شروع ہوا جو پیر کی صبح تک جاری ہے۔

فوری طور پر فائرنگ کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی ہے۔ البتہ دوطرفہ شدید فائرنگ کے بعد طورخم سرحد کو آمد و رفت اور تجارت کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔

طورخم میں فرائض سر انجام دینے والے ایک بینک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز اور طالبان اہلکاروں کے درمیان پیر کی صبح فائرنگ کا تبادلہ شروع ہوا جس کے بعد پاکستان کی حدود میں تمام سرکاری اور نجی سرگرمیاں معطل ہو گئی ہیں۔

قبائلی ضلع خیبر کے سرحدی قصبے لنڈی کوتل سے تعلق رکھنے والے صحافی مہراب آفریدی نے وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ طالبان نے علاج کی غرض سے پاکستان آنے والے مریضو ں سے متعلق پالیسی کی تبدیلی پر ناراضگی کا اظہار کیا ہے اور اس ضمن میں انہوں نے طورخم سرحد کو بند کر دیا ہے۔
پاکستان نے سرحد پر ہونے والی کشیدگی سے متعلق تاحال کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے تاہم مہران آفریدی کے مطابق پاکستانی حکام افغانستان کے طالبان عہدیداروں کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

افغانستان کے ایک طالبان عہدیدار مولوی صدیق اللہ نے سرحدی گزرگاہ کے بند ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ پاکستان نے آمد ورفت بالخصوص مریضوں کے علاج معالجے کے بارے میں پالیسی کو تبدیل کر دیا ہے جس کی وجہ سے سرحد کو بند کر دیا گیا ہے۔

سرحدی گزرگاہ بند ہونے کی وجہ سے دونوں جانب سامان سے لدے ٹرکوں اور ٹرالروں کی لمبی لمبی قطاریں لگنا شروع ہو گئی ہیں۔

واضح رہے کہ طورخم سرحد پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کو افغان صوبے ننگرہار سے ملاتی ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان آمد و رفت اور تجارت کے لیے یہ مصروف ترین سرحد ہے۔

طورخم سرحد پر سیکیورٹی کی ذمے داری پاکستان کی سرحدی فورس فرنٹیئر کانسٹبلری ایف سی کے پاس ہے جب کہ افغانستان کی بارڈر پولیس سرحد پر سیکیورٹی کی ذمے دار ہے۔

دونوں ملکوں کے لیے اہم سمجھی جانے والی یہ سرحد افغانستان میں طالبان کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد کئی مرتبہ بند ہوتی رہی ہے۔

افغانستان میں طالبان کی حکومت نے ستمبر 2021 میں پہلی مرتبہ اس سرحدی گزرگاہ کو کنٹینر رکھ کر بطور احتجاج بند کیا تھا۔ طالبان قیادت کا پاکستان سے مطالبہ تھا کہ سرحدی گزرگاہوں پر دوطرفہ آمد و رفت کو آسان بنایا جائے اور پاکستان میں مقیم افغان باشندوں کی مشکلات کو کم کیا جائے۔

ماضی قریب میں طورخم سرحد سمیت چمن بارڈر پر بھی دونوں ملکوں کے درمیان فائرنگ کے واقعات پیش آ چکے ہیں جس کی وجہ سے کئی روز تک سرحد کو بند کیا جاتا رہا ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY