ڈاکٹر نگہت نسیم تمہیں‌کینسر ہے ! قسط نمبر 45

0
1511

سب ایک ایک کر کے اپنے اپنے کمروں میں سونے کے لئے جا چکے تھے ۔۔ آفتاب سب سے زیادہ تھکے تھے ۔۔ انہیں سب کے لئے کام کر کے بہت خوشی ملتی تھی ۔۔ ہم سب انہیں “‌بورن پرووائڈر

(Born Provider)

“‌کہتے تھے ۔۔ جذباتی ہوتے تو خاموش ہو جاتے ۔۔ ہنستے تو آواز کہیں رہ جاتی تھی ۔۔ ہم سب کے مزاج آشنا تھے ۔۔ کروٹیں بدل رہے تھے تو کبھی موبائل اٹھا لیتے ۔۔
سو جائیں یار ۔۔ کچھ نہیں ہوگا مجھے ۔۔ میں نے موبائل ان کے ہاتھ سے لے کر سائیڈ‌ٹیبل پر رکھ دیا
اللہ نہ کرے ۔۔ انہوں نے پیار سے میرے سر پر ہاتھ رکھ کر جینے کی دعا دی
سو جائیں ۔۔۔ پلیز ۔۔ کل کا دن بہت لمبا اور مشکل ہے ۔۔آپ کوبچوں کے ساتھ تسلی کی طرح‌ ہونا ہے ۔۔
ہاں‌۔۔۔ آفتاب دائیں کروٹ‌ پر سوتے تھے ۔۔ انہوں نے سونے کے لئے کروٹ ‌بدلتے ہوئے مجھے بھی سونے کے لئے کہا
جی ۔۔۔ پر مجھے نیند کہاں تھی ۔۔ یوں‌لگ رہا تھا جیسے عمر بھر کی نیند اب کل ہی پوری ہو گی ۔۔ ڈاکٹر برلنگ نے بتایا تھا کہ آپریشن تین گھنٹے سے زیادہ کا ہوگا ۔۔۔ پوسٹ آپریشن کے بعد کا وقت کا تعین مشکل ہوتا ہے ۔۔ ہاں میں یہ جانتی تھی پر آپریشن کے بعد کی رات بڑی درد بھری ہوتی ہے ۔۔اس کا مجھے بہت تجربہ تھا ۔۔۔ یا للہ رحم ۔۔میرے مالک ۔۔ مجھے کمزور نہ پڑنے دینا ۔۔ میری لاج رکھنا ۔۔ میری گھر کوشاد و آباد رکھنا ۔۔ میری آنکھوں میں آنسو تھے ۔۔نیند تو کہیں نہ تھی۔

شام کو میں نے اپنے تمام بہن بھائیوں کو وڈیو کال کی تھی ۔۔ پیار اور دعائیں‌جو دینی اور لینی تھیں ۔۔۔۔اور سب سے اہم رخصت کی اجازت لینی تھی ۔ صرف شاہد اور نادیہ سے بات نہ ہو پائی تھی ۔۔ انہیں دل ہی دل میں بہت پیار اور دعائیں ‌بھیج دیں ۔۔۔اور اجازت بھی لے لی ۔۔ چچا مقصود کو بتایا اور ان سے دعائیں لیں ۔
تمام دوستوں کو فون کر کے بتایا ۔۔ فریحہ ، شاہین ، شاہدہ ، شبانہ ، جورجینا ، روینہ اور ارم ۔۔سب جیسے دعاؤں‌ کی شمعیں ‌روشن کر کے بیٹھ گئے تھے
ہوسپٹل یونٹ ‌کے وٹس گروپ پر بھی سب کو اطلا ع کر دی ۔۔ سب نے بہت دعائیں بھیجیں تھیں‌
پھر ۔۔۔ اپنی جم انسٹرکٹر مونیکا کو میسج کیا ۔۔ مالی سے بات کی ۔۔۔


سب سے آخر میں‌ ایس ایچ (صفدر ہمدانی ) سے باتیں کیں ۔۔ جانے کیوں ان کی تسلی سے مجھ میں جان سی پڑ جاتی تھی ۔ اس لیئے سب سے آخرمیں انہیں‌سے بات کرتی اور ان ہی کی مانتی تھی ۔۔ انہوں نے میرے گرد ُناد علی کا حصار کھینچ دیا تھا اور آپریشن کی کامیابی کے لئے دعاؤں کو پڑھنا تو یکم جون ہی سے شروع کر رکھا تھا ۔۔ مجھے یقین تھا کہ اب مجھے کچھ نہیں ہوگا۔

بقول نجیب کے میرے لئے سب اتنی دعائیں کر رہے ہیں کہ گوڈ‌ بھی ہائی الرٹ‌ ہوگئے ہیں ۔ ۔۔میں ہنس رہی تھی ۔۔ اف نجیب ۔۔ کبھی نہ سدھرنا ۔۔ ایسے ہی رونقی رہنا ۔ ۔۔دنیا میں ایسے جیتے جاگتے لوگوں کی اشد ضرورت ہے ۔

نیند ابھی بھی کوسوں دور تھی ۔۔اور چھ بجنے میں دو گھنٹے رہ گئے تھے ۔۔۔ چا ربجے بڑی بزرگی والا وقت ہوتا ہے ۔۔ میڈیٹیشن کرنے والے اسی وقت اٹھتے تھے ۔۔ تہجد کابھی یہی وقت تھا ۔۔ پوری کائینات کے ہر دین مذہب میں یہ وقت جاگنے کا ہوتا ہے ۔۔ چڑیوں کی طرح چہچانے کا وقت ۔۔ حمدو ثنا کا وقت تھا۔۔۔ میں دھیرے سے اٹھی اور بیٹھ گئی ایسے جیسے کوئی وہم سا پڑ گیا ہو ۔۔ وقت جو کم رہ گیا تھا ۔۔ امی جی ہمیشہ کہتی تھی کہ ویلے دی نماز تےکویلے دی ٹکراں‌۔۔ اور اس وقت مجھے تو ویلے کی نمازیں بھی ٹکروں‌ جیس لگ رہی تھیں‌۔۔

رَبَّ اَنِّىْ مَغْلُوْبٌ فَانْتَصِرْ
میرے رب
میں‌بے بس ہوں
میری مدد فرما

میرے آنسو بہہ رہے تھے ۔۔ اپنے خد اکے سامنے کمزور پڑنا بہت سکون دے رہا تھا ۔۔

مجھے معاف کر دینا ۔۔ میرے مالک ۔۔ اپنے حقوق بھی اور اپنی مخلوق کے حقوق بھی ۔۔۔ میں تیری طرف خالی ہاتھ آ رہی ہو‌ں‌ ۔۔ میرے پاس صرف یقین کی اثاثہ ہے کہ توں خالی ہاتھ والوں کے دامن بھر دیتا ہے ۔۔ابا جی بتاتے تھے اللہ کے حضور بھرے دامن پہنچنے کے لئے سب سے پہلے یہ یقین کرنا ہوتا ہے کہ اس دنیا میں اپنی کوئی چیز نہیں ہے ۔۔ اپنی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔۔ اپنی کوئی خوشی نہیں ہے ۔۔ اپنی کوئی غمی نہیں ہے ۔۔ اپنے کوئی رشتے نہیں ہیں ۔۔ اپنی کوئی دولت کاروبار نہیں ہے ۔۔ اپنی کوئی عزت نہیں ہے ۔۔۔۔ اس دنیا اور اس سے وابسطہ کچھ بھی اپنا نہیں ہے ۔۔۔ سب میرے مالک کا ہے ۔۔ سب اس کی عطا ہے۔اپنی حیات میں تو میں نے ایسا اپنے ابا جی رح‌ کو ہی دیکھا تھا کہ وہ ایسے ہی یقین کی تفسیر تھے ۔۔ وہ واقعی اسی منزل کے حقدار تھے جہاں وہ ہیں‌ ۔۔اور یہ منزل ہر ایک کے نصیب میں کہاں۔

میرے رب یہ سچ ہے کہ میں نے تجھے بہت بار بھلایا پر تو نے مجھے کبھی نہیں بھلایا ۔۔۔ اب بھی مجھ پر اپنی رحمت بنائے رکھنا ۔۔ میرے لئے ہر سفر آسان رکھنا ۔۔ میں تیری شکرگزار ہوں‌ یارب توں نے مجھے زندگی کی ہر نعمت اور خوشی سے نوازا ۔۔ میں ہی تیرا ایسا شکر ادا نہ کر پائی جیسا تیرا حق تھا ۔۔ میری کمی کوتاہی معاف کر دے یارب ۔۔ منت گزار ہوں میرے بعد مجھ سے منسلک ہر فرد کو اپنی امان میں‌رکھنا ۔

خاموش دعایئں !
میرے خدا
کچھ دل
کچھ روحیں
بہت اداس اور بےچین ہیں
یارب ۔۔!
خاموش سماعتوں کو صدائیں عطا ہوں
اداس تنہا راتوں کوماہ تمام عطا ہو
یارب ۔۔!
کچھ خاموش دعائیں ہیں
تیری بارگاہ میں رکھ رہی ہوں
ہجر گزیدہ کو متاع صبرعطا ہو
الہی آمین
ڈاکٹر نگہت نسیم

جاری ہے
ڈاکٹر نگہت نسیم

SHARE

LEAVE A REPLY