ڈاکٹر نگہت نسیم تمہیں‌کینسر ہے ! قسط نمبر 41

0
1533

منیب ، جیسیکا اور ایمیلیا گھر پہنچ گئے ۔۔ یو‌ں جیسے گھر خوشیوں‌ سے مہک گیا ہو ۔۔ تھوڑی ہی دیر میں‌نجیب اور نیکول بھی پہنچ گئے ۔۔ ہماری خوشیاں مکمل ہو چکی تھیں‌۔ ۔۔ سب میرے ارد گرد بیٹھے ہوئے تھے اور ایمیلیا میری گود میں سکون سے بیٹھی ہوئی تھی ۔ یوں لگ رہا تھا جیسے پرندے اپنی پرواز سے واپس گھونسلے میں لو‌ٹ آئے تھے ۔سب مجھے یوں دیکھ رہے تھے جیسے پہلی بار دیکھ رہے تھے یا آخری بار ۔۔ میرے دل پر ان کی ہر کیفیت رقم ہو رہی تھی ۔ رات کے کھانے بعد پھر ہم سب ایک ساتھ بیٹھ گئے تھے ۔۔ نجیب حسب معمول مجھ سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا ۔۔ منیب میرے پاؤں دبا رہا تھا اور آمنہ ، جیسیکا اور نیکول کوبتا رہی تھی صبح‌ سے سارے کام وہ کر رہی تھی اور اب امی کیسے دونو‌ں‌ بیٹوں‌کے ساتھ زیادہ خوش نظر آ رہی ہیں ۔

ہم سب ہنس رہے تھے ۔۔۔ رات بہت تیزی سے گزر رہی تھی ۔۔ خوشیوں‌کو پر جو لگے ہوتے ہیں ۔
ممی آپ کو ڈر تونہیں لگ رہا ۔۔ نجیب نے میرے ماتھے پر پیار کرتے ہوئے پوچھا ۔۔ اچانک کمرے میں‌ سب چپ ہو گئے تھے ۔
تم اپنی ماں کو کیا سمجھتے ہو ؟‌
بہت بہادر ۔۔ اس سے بھی زیادہ جب ایک کوویڈ‌ پیشنٹ‌ آپ کے کندھے پر گر گئی تھی ۔۔۔ اور اس سے بھی زیادہ جب آپ نے ایمبیولنس میں جا کر کوویڈ‌ کے مریض کودیکھا تھا ۔۔ اس وقت آپ نے دستانے بھی نہیں پہنے تھے صرف ایک ماسک پہنے آپ دوڑتی ہوئی گئی تھی کہ وہ آخری بات آپ سے کہنا چاہتا تھا ۔۔۔ اس سے بھی زیادہ بہادر ۔۔ موت کو شکست دینے والی ماں سمجھتا ہوں‌۔
پھر ۔۔ بیٹا کچھ بھی ہو اس کوقبول کر لینا ۔۔تم سب بھی تو اسی بہادر ماں کے بچے ہو ۔
میں وعدہ کرتی ہوں ۔۔ واپس آنے کی کوشش بھی کرونگی اور دعائیں‌ بھی کرتی ہوں ۔

محبتوں میں جھو‌ٹ ملاوٹ‌ ہے ۔۔ اور ہم نے اپنے بچوں‌سے کبھی کچھ نہ چھپایا تھا بلکہ ہر لمحہ انہیں باخبر رکھا تھا ۔ میں اپنی ساری رپورٹس کی کاپی وٹس اپ پر فیملی گروپ میں بھیجتی رہی تھی ۔۔ پھر روزانہ ہماری فیس چیٹ ‌بھی ہوتی تھی ۔۔آج ہم سب نے اپنے اپنے خوف آمنے سامنے رکھ رہے تھے ۔ میں نے اپنی خواہشات کا زکر وصیت کی صورت ایکبار پھر دہرایا ۔ انہیں‌بتایا میں یہ سب اس لیئے کہہ رہی ہوں‌کہ میری باتوں‌کو میری بیماری کے تناظر میں مت سنیں‌ بلکہ ایسے سنیں جیسے میں انہیں‌کچھ بتانا چاہتی ہوں ۔ مجھے دعاؤں کے ساتھ ساتھ ان کی توجہ بھی چایئے تھی ۔
میرے بچے خاموش تھے
میں جان سکتی تھی ان کی آنکھوں میں آنسو تھے ۔۔ ہونٹو‌ں پر اداس سی مسکراہٹ‌ اور دل ہمہ تن گوش اور دعاگزار
میرے پیارے بچو‌ !
ہمیں خدا کے پاس جاتے ہوئے ایسے ہی خوش ہونا چاہیئے جیسے شام ڈھلے چڑیا اپنے گھر آتے ہوئے خوش ہوتی ہے ۔۔ اللہ پاک کے تبرکات میں سب سے انمول تبرک صبر ہے ۔۔ مثبت سوچ اور صبر سے ہم ڈر اور خوف کا ہر باب بند کر سکتے ہیں‌ ۔
چلو شاباش ۔۔ سب اپنے اپنے کمروں میں جاؤ‌ ۔۔ آرام کرو ۔۔ صبح ناشتے پر ملتے ہیں ۔۔ میں نے نجیب کو اٹھایا جو میرے ساتھ لیٹا ہوا تھا ۔
کونسے ناشتے پر ۔۔ ایمیلیا کے چھ بجے والے یا آمنہ والا دس بجے ۔۔ منیب نے ہنستے ہوئے پوچھا
بھئی میں تو ایمیلیا کے ساتھ ناشتہ کرونگی ۔۔ میں نے اٹھتے ہوئے کہا
یعنی کل دادی اور ایمیلیا ۔۔ دونوں ویٹ‌ بکس کانشتہ کریں گے ۔۔ جیسیکا نے ہنستے ہوئے کہا

ایمیلیا قدرت کی طرف سے بھیجی ہوئی پری لگتی

تم سب دیکھنا میری ایمیلیا ہی میری کتابوں‌اور عادتوں کی وارث‌ ہو گی ۔۔ تم ہی سب کہوگے کہ چلتی پھرتی دادی جیسی ہے ۔ سب جانتے تھے کہ میں ایمیلیا کے لئے کچھ بھی کر سکتی تھی ۔۔ آفتاب نگر کی شہزادی ابھی آٹھ ماہ ہی کی ہوئی تھی ۔۔ جس پر ہم سب نثار رہتے ۔۔ مجھے لگا اس کا ہونا ۔۔ اس کا ہنسنا ۔۔اس کا خوبصورت وجود ۔۔ مثبت انرجی کی طرح‌ ماحول کو قدرت کے بلکل قریب کر دیتا تھا ۔۔ ہم سب ہر مشکل ۔۔ہر فکر سے بے نیاز ہو جاتے تھے ۔۔ ایسے وقت میں ایمیلیا قدرت کی طرف سے بھیجی ہوئی پری لگتی جس کے ہاتھ میں‌چھڑی تھی وہ جہاں رکھتی وہ خوبصورت ہو جاتی تھی ۔ شام کو اس نے مجھے بھی اپنی تاثیر مسیحائی سے نوازا تھا ۔
ہم سب اپنے اپنے کمروں‌ میں جاچکے تھے ۔۔ سب ایک لمبے جذباتی سفر سے گزر کرگھر پہنچے تھے ۔

پانچ جون اتوار کا دن بہت ہی خوبصورت اور روپہلا سا تھا ۔۔۔کبھی ہلکی ہلکی سی پھوار پڑ جاتی توایک سرد سے لہر ہوا کے سنگ آ جاتی ۔۔ یوں‌لگتا جیسے بارش اور ہوا آنکھو مچولی کھیل رہی ہوں‌ ۔۔ فضا میں بہت موسقیت تھی ۔

ہوا اور بارش کی باتیں ختم ہی نہیں ہوتیں
یہ کیسی موسیقیت ہے
جو میں‌
کانوں سے دیکھ رہی ہوں
اور دل سے سن رہی ہوں
اے خدا !‌
مجھے ۔۔۔ بھی
ہوا اور بارش کی طرح‌
زمین سے ہمکلام ہونا ہے !

جاری ہے
ڈاکٹر نگہت نسیم

SHARE

LEAVE A REPLY