صفدرہمدانی کی ادبی خدمات پر ایم فل کا مقالہ۔ماہ پارہ صفدر

1
2268

صفدرہمدانی کی ادبی خدمات پر سیدہ ثمر جعفری ایم فل کا مقالہ ( تھیسز) مکمل ہونے پر
میں صفدر کو دلی مبارک باد پیش کرتی ہوں
صفدر کی ادبی زندگی اور تخلیقات کے بارے ایک اکیڈیمک دستاویز کی شکل میں موجود ہونے سے مستقبل میں ادب کے طالب علم ان سے یقینا استفادہ کرسکیں گے۔
یہ نہ صرف صفدر بلکہ سب خاندان کے لئے بھی ایک اعزاز ہے

کسی اپنے کی لیے کچھ کہنا یا لکھنا بہت مشکل ہوتا ہے کیونکہ اس میں غیرجانبدری نبھانا ممکن نہیں ہوتا۔

مگرمیں سمجھتی ہوں کہ مرثیہ نگاری یقینا ایک خصوصی تحفہ ہے جو اللہ کی طرف سے صفدر کو ودیعت ہوا ہے، یہ ایک انتہائی مشکل فن ہے، جس کی آبیاری بس خون جگر سے ہوتی ہے۔ ایسے تخلیق کاروں کی تعداد ہر دور میں انگلیوں پر گنی جاسکتی ہے۔
ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ مرثیہ کو مذہب سے منسلک کرنے کے بجائے ادب کی اعلی ترین اصناف میں شامل کیا جائے، ان تخلیق کاروں کی سرکاری سرپرستی کی جائے، ان کا کلام شائع کروایا جائے،
مگر اس کے برعکس المیہ یہ ہے کہ اس فن کے قدر دان بھی نہ صرف بتدریج کم ہورہے ہیں، بلکہ مرثیہ سننے والوں اور سراہنے والوں کی تعداد بھی بہت محدود ہے۔

میرے خیال میں یہ قابل افسوس ہے کہُ صفدر نے اپنی تخلیقات شائع کروانے کی کبھی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی ہے ۰ صفدر کا تخلیقی کام ،تمام مرثیے اور شاعری بہت منتخب کرکے بھی اگر شائع کروایا جائے تو کئی مجموعے اشاعت کے لئے تیار ہیں،
مجھے یہ کہنے میں میں کوئی عار نہیں کہ ادب میں اور سرکاری ادبی اداروں اور انفرادی سطح پر منافقانہ رویوں اور گروپ بندی کے باعث صفدر کی تخلیقی صلاحیتوں کو وہ بھر پور پزیرائی نہیں مل سکی جو ملنی چائیے تھی۔

میں صفدر سے اکثر کہتی ہوں کہ اصول پسندی یقینا ایک بہت بڑی خوبی ہے مگر اس کے لیے ایک پراعتماد شخصیت اور شفاف کردار چاہیے جو ہر کسی کے بس کی بات نہیںِ،
اصول پسندی انسان کو سماجی تنہائی میں دھکیل دیتی ہے، اور صفدر کے ساتھ ہوا بھی یہ ہی، زندگی میں رویوں میں لچک اور سجھوتے اگر نہ ہو تو رشتے بوجھ بن کر ٹوت پھوٹ کا شکار ہو جاتے ہیں۔
یہ بھی بتاتی چلوں کہ صفدر نے شاعری میں سماجی موضوعات پر لکھا ہے، نہ صرف شاعری بلکہ نشریاتی تاریخ پر بھی صفدر نے بہت کام کیا ہے۔ تاریخ یا تخلیقات کو آنے والی نسلوں تک منتقل کرنے کے لئے ان کو دستاویزی شکل میں سامنے آنا چایئے۔ ورنہ الیکڑونک میڈیا قابل اعتماد ذریعہ نہیں ہے، جبکہ صحرائےادب میں سرقہ بازوں کی بھی کمی نہیں۔
اس سلسلے میں ثمر جعفری کو اس سنگ میل کامیابی پر مبارک تا ہم اس کے ساتھ ساتھ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کے شعبہ اردو کے سابق سربراہ ڈاکٹر ھارون قادر، موجودہ سربراہ ڈاکٹرخالد محمود سنجرانی اور ڈاکٹر زرین حبیب کی ذاتی طورپرمشکور ہوں، جن کی کوششوں کے بغیر یہ تحقیقی کام ممکن نہ ہوتا۔

ماہ پارہ صفدر

SHARE

1 COMMENT

LEAVE A REPLY