سپریم کورٹ میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی نمائندگی کرنے والے سینئر وکیل نے عدالت سے ججز کی خفیہ نگرانی کرنے کے مجرمان کے خلاف تحقیقات کا حکم دینے کی درخواست کی ہے۔
ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس سے متعلق درخواستوں پر سپریم کورٹ کے 10 رکنی بینچ کے سامنے دلائل دیتے ہوئے وکیل منیر اے ملک نے کہا کہ ’ سپریم کورٹ کو ایسے سلوک کو منظور نہ کرکے واضح پیغام دینا چاہیے اور اس طریقے سے جمع کیے گئے مواد کو مسترد کرنا چاہیے‘۔
فل کورٹ بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ اس سلسلے میں قانون سازی کی ضرورت ہے۔
منیر اے ملک نے کہا کہ وہ ’خفیہ نگرانی‘ کی اصطلاح دانستہ طور پر استعمال کررہے ہیں وہ نہیں جانتے کہ کس طریقے سے اور کس حد تک ان کے موکل (جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ) اور ان کے اہلِ خانہ کی نگرانی کی گئی یا ان کی ای میلز ہیک گئی یا نقل و حرکت پر نظر رکھی گئی۔
انہوں نے کہا کہ اعلیٰ عدالتوں کے ججوں کی پرائیویسی میں مداخلت کا ہمیشہ عدلیہ کی آزادی پر تباہ کن اثر پڑا ہے۔
وکیل نے کہا کہ اس عمل سے عدلیہ پر عام آدمی کا اعتماد کا ختم ہوا ہے، انہوں نے کہا کہ کسی شہری کے لیے یہ یقین کرنا مشکل ہے کہ ایک جج یہ جاننے کے بعد کہ اس کی مخبری ہورہی تھی وہ بلا خوف و خطر اپنا کام کرنے کے قابل رہے گا۔
منیر ملک نے کہا کہ ’ قانونی چارہ جوئی کا سامنا کرنے والے کسی بھی شخص کے اعتماد کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچے گا جب وہ متعلقہ جج کے سامنے پیش ہوگا‘۔
نگرانی کتنا سنگین جرم ہے اس حوالے سے وکیل منیر اے ملک نے 1998 میں بینظیر بھٹو کی حکومت سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے اور 2010 میں افتخار محمد چوہدری کے کیسز کا حوالہ دیا۔
وکیل نے اپنے دلائل میں کہا کہ بینظیر بھٹو کے کیس میں سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا تھا کہ ججوں کی خفیہ نگرانی، بشمول ٹیلیفون ٹیپ کرنا اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کی جانب سے چھپ کر باتیں سننا اس وقت حکومت تحلیل کرنے کے لیے کافی تھا۔
کیس کی سماعت کے دوران یہ بات سامنے آئی تھی کہ سپریم کورٹ کے ججز اور سیاسی رہنماؤں کے ٹیلیفون ٹیپ کیے جاتے تھے اور یہ اس وقت کی وزیراعظم کے علم میں تھا کیونکہ روزانہ سیل کیے گئے لفافوں میں انہیں ریکارڈ بھیجا جاتا تھا۔
تاہم بینظیر بھٹو نے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ خود بھی ٹیلیفون ٹیپنگ کا نشانہ بنیں تھیں یہاں تک کہ انہوں نے اس وقت کے صدر سے بھی شکایت کی تھی۔
واضح رہے کہ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور سندھ ہائی کورٹ کے جج جسٹس کے کے آغا کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کیا تھا۔
ریفرنس میں دونوں ججز پر اثاثوں کے حوالے سے مبینہ الزامات عائد کرتے ہوئے سپریم جوڈیشل کونسل سے آرٹیکل 209 کے تحت کارروائی کی استدعا کی گئی تھی۔
سپریم جوڈیشل کونسل کی جانب سے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو جاری کیا گیا پہلا نوٹس برطانیہ میں اہلیہ اور بچوں کے نام پر موجود جائیدادیں ظاہر نہ کرنے کے حوالے سے صدارتی ریفرنس جاری کیا گیا تھا۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو جاری کیا گیا دوسرا شو کاز نوٹس صدر مملکت عارف علوی کو لکھے گئے خطوط پر لاہور سے تعلق رکھنے والے ایڈووکیٹ وحید شہزاد بٹ کی جانب سے دائر ریفرنس پر جاری کیا گیا تھا۔
ریفرنس دائر کرنے کی خبر کے بعد جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے صدر ڈاکٹر عارف علوی کو خطوط لکھے تھے، پہلے خط میں انہوں نے کہا تھا کہ ذرائع ابلاغ میں آنے والی مختلف خبریں ان کی کردارکشی کا باعث بن رہی ہیں، جس سے منصفانہ ٹرائل میں ان کے قانونی حق کو خطرات کا سامنا ہے۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے صدر مملکت سے یہ درخواست بھی کی تھی کہ اگر ان کے خلاف ریفرنس دائر کیا جاچکا ہے تو اس کی نقل فراہم کردی جائے کیونکہ مخصوص افواہوں کے باعث متوقع قانونی عمل اور منصفانہ ٹرائل میں ان کا قانونی حق متاثر اور عدلیہ کے ادارے کا تشخص مجروح ہو رہا ہے۔
بعد ازاں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے سپریم کورٹ میں ریفرنس کے خلاف درخواست دائر کی گئی تھی جس پر عدالت عظمیٰ کا 10 رکنی بینچ سماعت کررہا ہے۔











