بھارتی مصنفہ ارون دھتی رائے نے کہا ہے کہ پورے بھارت کو کشمیر بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

بھارت میں شہریت سے متعلق متنازع قانون کے خلاف نئی دلی میں مظاہرے آج بھی جاری ہیں، نئی دلی میں ہونے والے مظاہرے میں بھارتی مصنفہ ارون دھٹی رائے نے بھی شرکت کی۔

بھارت میں شہریت سے متعلق متنازع قانون کیخلاف اُن کا کہنا تھا کہ یہ ایک انتہائی اور شرمناک عمل ہے کہ لوگوں کو گرفتار کیا جارہا ہے، انٹرنیٹ بند کرکے لوگوں کو اِس سہولت سے محروم رکھا رہا ہے۔

بھارت، مظاہرے کئی ریاستوں میں پھیل گئے، جھڑپیں، احتجاج پر پابندی، نئی دہلی میں فون، انٹرنیٹ سروس معطل

بھارتی مصنفہ نےسوال اٹھایا کہ جو کل تک بھارت کے شہری تھے آج اُن سے شہریت واپس لے کر یہ لوگ کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں۔

اُنہوں نے کہا کہ یہ غریب لوگ کہاں جائیں گے، سپریم کورٹ جائیں تو وہاں کون اِن کی سُنے گا۔

دوسری جانب نئی دلی کی جامع مسجد کے باہر مظاہرین کی بڑی تعداد پہنچ گئی، احتجاج روکنے کے لیے دلی کے دو میٹر اسٹیشن بند کردیئے گئے، نئی دلی میں وزیر داخلہ امیت شاہ کی رہائش گاہ کے باہر مظاہرہ کرنے والی کانگریس خواتین اراکین کو حراست میں لے لیا گیا جبکہ دلی میں طالب علموں کی پولیس کو پھول پیش کرنے اور احتجاج میں ساتھ دینے کی وڈیو وائرل ہوگئی۔

پولیس کے طاقت کے استعمال کے نتیجے میں بھارت بھر میں ہلاکتوں کی تعداد 9 ہوگئی جبکہ مینگلور اور لکھنو میں تین ہلاکتوں کے بعد کئی علاقوں میں کرفیو نافذ اور انٹرنیٹ معطل ہے۔

واشنگٹن ڈی سی اور نیویارک کی کولمبیا یونیورسٹی میں بھی متنازع قانون کے خلاف مظاہرہ کیا گیا۔

بھارت کے دارالحکومت دہلی کا دیگر شہروں سے رابطہ کٹ گیا اور دہلی کے 18میٹرو اسٹیشنز کو بھی احتجاجی مظاہروں کے باعث بند کردیا گیا۔

SHARE

LEAVE A REPLY