چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے شکوے کا اظہار کیا ہے کہ ن لیگ نے حکومت کی آرمی ایکٹ ترمیم کیحمایت پراپوزیشن کو اعتماد میں نہیں لیا ۔
پی پی چیئرمینبلاول بھٹو زرداری نے اپنے چیمبر میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق بل پر حکومتی موقف بہت کنفیوزڈ رہا ہے ، یہ بل لانے سے پہلے حکومت نے عدالت میں ری ویو بھی فائل کیا ہے ، بل اچانک اور اس طریقے سے لایا گيا ہے کہ پارلیمانی اقدار کو نہیں اپنایا گيا ۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اپوزيشن کو شامل کرتی تو اب تک سارا عمل مکمل ہوچکا ہوتا ۔اس میں حکومت کا ہی فائدہ ہے کہ بل پارلیمانی طریقے سے پاس ہو ، ن لیگ نے غیر مشرط سپورٹ دینے کے فیصلے سے اپوزیشن کو آن بورڈ نہیں لیا۔
بلاولبھٹونے کہا کہ ن لیگ اور پی ٹی آئی پارلیمانی طریقہ کار کوایک طرف رکھنا چاہتے ہیں ،اس طریقہ کار سے ہمارے ادارے فوج کے ادارے کو نقصان ہو گا ،ہم وہی غلطیاں پھر سے دہرا رہے ہیں جو نوٹی فیکشن کے وقت ہوا تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت اورقائد حزب اختلاف ہماری حمایت چاہتے ہیں توپارلیمانی طریقہ کار پر کام کریں،اس بل کو دفاع کمیٹی کے سپرد کریں،امید کرتا ہوں کہ حکومت ہماری بات مانے گی ،بہتر ہو گا کہ بل اتفاق رائے سے منظور ہو۔
………………
پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے معاملے پر آرمی ایکٹ اور آئین میں ترامیم کرنے کے لیے اپوزیشن جماعتوں کے ممبران سے ملاقات کا سلسلہ جاری ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ برس نومبر میں سپریم کورٹ نے حکومت کو ہدایت کی تھی کہ وہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے معاملے پر ابہام دور کرے۔
آرمی چیف کی مدت ملازمت کا مجوزہ ترامیم فوری طور پر وفاقی کابینہ میں پیش کیا گیا جہاں متفقہ طور پر آئین اور آرمی ایکٹ میں تبدیلی کی منظوری دے دی۔
وزیر دفاع پرویز خٹک، علی محمد خان اور قاسم سوری سمیت پی ٹی آئی کے قانون سازوں کے وفد نے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سمیت پارٹی کے دیگر رہنماؤں سے ملاقات کی۔
زرداری ہاؤس میں ہونے والے اس اجلاس میں پیپلز پارٹی کے رہنماؤں میں راجہ پرویز اشرف، نیئر بخاری، شیری رحمٰن، رضا ربانی، شازیہ مری اور نوید قمر شامل تھے۔
پی پی پی کے ذرائع نے بتایا کہ اجلاس کے دوران بلاول بھٹو نے حکومت پر زور دیا کہ وہ آرمی ایکٹ میں ترامیم سے متعلق پارلیمانی قواعد و ضوابط پر عمل کریں۔












