وزیر اعظم عمران خان کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان نے ملک میں بین الاقوامی کرکٹ کی بحالی کو نیک شگون قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر تنازع کے حل تک بھارت سے کرکٹ مقابلے ممکن نہیں ہوں گے۔

راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ ‘بھارت نے ہمارے راستے میں کئی رکاوٹیں کھڑی کیں اور پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کو ختم کرنے کے لیے تمام فورمز پر پروپیگنڈا کیا’۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے ایک ہمسایہ ملک نے پاکستان میں کرکٹ کے قتل عام کے لیے غلط بیانیہ دنیا کے سامنے رکھا تاہم آج اس کی نفی ہوگئی ہے۔

بھارت سے کرکٹ مقابلوں کے بارے میں ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ‘جب تک بھارت، کشمیریوں کو ان کا بنیادی حق نہیں دیتا اس سے کسی طرح کے مقابلے کشمیریوں کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہوں گے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘بھارت فوری طور پر مقبوضہ کشمیر سے کرفیو ہٹائے، وہاں لوگوں کو انسانوں کی طرح زندہ رہنے کا حق دے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق انہیں حق خودارادیت دے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘اگر تنازع کشمیر حل ہو جائے تو کون نہیں چاہے گا کہ دونوں ممالک کے درمیان کھیل کے مقابلے ہوں، وفود کے تبادلے ہوں، اگر کشمیر میں خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہوگی تو ایسے میں کیسے مقابلے ہوسکتے ہیں’۔

پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان جاری ٹیسٹ میچ کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ بنگلہ دیش کی ٹیم کا پاکستان آنا خوش آئند ہے۔

معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات نے کہا کہ پاکستان پر امن ملک ہے اور ہم کرکٹ کے ساتھ ساتھ دیگر کھیلوں کو بھی ملک میں بحال کرنا چاہتے ہیں، حکومت نے ڈومیسٹک سطح پر کرکٹ کے ڈھانچے کو مضبوط کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سری لنکا کی کرکٹ ٹیم اور حکومت کو بھی مبارک باد پیش کرتے ہیں جنہوں نے پاکستان میں کرکٹ کی بحالی کے لیے نمایاں کردار ادا کیا۔

SHARE

LEAVE A REPLY