پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے دعویٰ کیا ہے کہ موجودہ حکومت 6 ماہ میں چلی جائے گی۔
لاہور میں صحافیوں سے ملاقات کے دوران انہوں نے الزام عائد کیا کہ ‘یہ ٹھیکے پر حاصل کی گئی حکومت ہے اور 6 ماہ میں چلی جائے گی’۔
انہوں نے وزیر اعظم عمران خان پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ‘حکومت جب ٹھیکے پر ملے تو وہی کرتی ہے جو ٹھیکہ ہو اور وہ ادارے اور عوام کو کچھ نہیں سمجھتے۔
بلاول بھٹو زرداری نے دعویٰ کیا کہ موجودہ پاور شیئرنگ فارمولے کے ساتھ اقتدار میں نہیں آئیں گے۔
علاوہ ازیں ان کا کہنا تھا کہ اگر پیپلز پارٹی اقتدار میں آئی تو اس پاور شیئرنگ فارمولے پر نظر ثانی کریں گے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ ‘بیرونی قوتیں کمزور حکومتوں ‘کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتی ہیں۔
تاہم چیئرمین پیپلز پارٹی نے ‘بیرونی قوتوں’ کی وضاحت نہیں کی کہ ان کا اشارہ کس کی طرف ہے۔
ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ‘بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی کے بعد اب امریکی صدر ٹرمپ کی انتخابی مہم’ چلائی جارہی ہے۔
بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) قانون سازی کو زیادہ اہمیت نہیں دیتی تاہم چیئرمین سینیٹ کے الیکشن سے متعلق کسی پارٹی سینیٹر سے متعلق ثبوت نہیں ملا۔
انہوں نے کہا مسلم لیگ (ن) پر تنقید کی کہ مسلم لیگ (ن) پارلیمنٹ کو زیادہ اہمیت نہیں دیتی جبکہ اپوزیشن لیڈر کا کردار اہم ہوتا ہے جس کو اسپیکر بھی اہمیت دیتا ہے۔
مہنگائی سے متعلق چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ مہنگائی ابھی شروع ہوئی ہے ختم نہیں ہونے جا رہی ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ دو روز کے دوران انہوں نے بلاناغہ لاہور میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے دوبارہ مذاکرات کرکے عوام کے مفاد میں معاہدہ کرے۔
بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ ان کی پارٹی کا کوئی رکن ‘پی ٹی آئی ایم ایف ڈیل’ کو تسلیم نہیں کرتا اور معاہدے کو پھاڑ کر پھینک دیا جائے۔
تاہم آج انہوں نے لاہور میں ہی میڈیا سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کردیا کہ ‘حکومت چھ میں چلی جائے گی’۔
بلاول بھٹو نے اس امر کی وضاحت نہیں کی کہ حکومت کن بنیادیوں پر چلی جائے گی۔












