وزیراعظم عمران خان کی جانب سے کراچی ٹرانسفارمیشن پروجیکٹ (کے ٹی پی) کے تحت 11 سو ارب روپے کے اعلان کے بعد وفاق اور سندھ کی صوبائی حکومتوں کے درمیان 300 ارب روپے کی کراچی سرکلر ریلوے (کے سی آر) کی ملکیت پر تنازع طول پکڑ گیا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پلاننگ کمیشن (پی سی) نے کہا کہ وفاقی حکومت نے کے ٹی پی کے تحت 736 ارب روپے کی اضافی لاگت سے منصوبے انجام دیے ہیں اور تصفیہ فنڈ کے تحت بحریہ ٹاؤن سے 125 ارب روپے ملنا متوقع ہیں جسے منصوبے پر لگایا جائے گا۔

کمیشن نے 300 ارب روپے کے سی آر سمیت 5 منصوبوں کی تفصیلات بھی جاری کردیں۔

مزیدپڑھیں: کراچی کیلئے 1113 ارب روپے کا پیکج: 62 فیصد وفاق اور 38 فیصد حصہ صوبے کا ہوگا، اسد عمر

اس کے علاوہ حکومت سندھ نے اپنے 802 ارب روپے کے پورٹ فولیو میں کے سی آر منصوبہ ظاہر کیا ہے جو کے ٹی پی کا ہی حصہ ہے۔

جس میں 50 ارب 80 کروڑ روپے صوبائی شیئر ہوگا جبکہ باقی 249 ارب روپے چین سے قرضہ لیا جائے گا۔

ریاستی اور صوبائی کے دعووں اور ایک مرتبہ کے سی آر کی رقم کو ملانے کے بعد مجموعی رقم ایک کھرب 23 ارب اور 38 کروڑ روپے بنتی ہے۔

ایک عہدیدار نے بتایا کہ برساتی نالوں سے متعلق منصوبے بھی نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) اور حکومت سندھ نے دومرتبہ اپنے پورٹ فولیو میں شامل کیا ہے۔

پلاننگ کمیشن کے تحت ‘گریٹر کراچی واٹر سپلائی پروجیکٹ (کےفور) کے لیے 46 ارب روپے، ریلوے فریٹ کوریڈور کے لیے 131 ارب روپے، گرین لائن بی آر ٹی کے لیے 5 ارب روپے اور ندی، نالوں اور سیلابی نالوں کی بحالی اور متاثرہ لوگوں کی آبادکاری سے متعلق ‘امبریلا’ منصوبے کے لیے 254 ارب روپے کی اضافی فنڈنگ بھی دی گئی ہے۔

پلاننگ کمیشن حکام نے بتایا کہ 254 ارب ڈالر کے ‘امبریلا’ منصوبے کو این ڈی ایم اے نافذ کرے گا اور اس کی تفصیلات ابھی کمیشن کے پاس دستیاب نہیں ہیں۔

پلاننگ کمیشن نے کہا کہ ‘ان منصوبوں کی کل لاگت کا تخمینہ 736 ارب روپے ہے، مزید یہ کہ حکومت نے سپریم کورٹ سے درخواست کرنے کا منصوبہ بنایا ہے کہ وہ بحریہ ٹاؤن سے حاصل ہونے والی تصفیہ رقم 125 ارب روپے کے ٹی پی کی تین سالہ مدت میں استعمال کی جائے۔

SHARE

LEAVE A REPLY