ذیابیطس ایک ایسا مرض ہے جو کسی کو لاحق ہوجائے تو اس سے نجات فی الحال تو ناممکن ہی سمجھی جاتی ہے۔

اس کے شکار افراد مخصوص غذاﺅں یا عادات کے نتیجے میں اسے کنٹرول میں رکھ سکتے ہیں۔

تاہم اگر آپ ذیابیطس کے شکار ہیں اور اپنے بلڈ شوگر لیول کو روزمرہ کی بنیاد پر چیک کرتے ہیں یا اسے صحت مند سطح پر رکھنے کے لیے فکر مند رہتے ہیں تو یہ ضروری ہے کہ ان غیر متوقع عناصر سے آگاہ ہو جو آپ کے معمول کے بلڈ شوگر لیول کو بڑھانے کا باعث بن سکتے ہیں۔

موٹاپے کے شکار افراد جو ناشتہ نہیں کرتے ان میں دوپہر کے کھانے کے بعد انسولین اور بلڈ شوگر کی سطح بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ امریکن جرنل آف کلینیکل نیوٹریشن میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق ناشتہ نہ کرنے والے اکثر افراد میں ذیابیطس کے مرض میں مبتلا ہونے کا خطرہ 21 فیصد زیادہ ہوتا ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ صبح کی پہلی غذا خاص طور پر پروٹین اور صحت مند چربی سے بھرپور خوراک بلڈ شوگر کی سطح کو پورے دن مستحکم رکھنے میں مدد فراہم کرتی ہے۔

اگر تو آپ ذیابیطس کے شکار ہونے کے بعد عام چینی کو چھوڑ کر مصنوعی مٹھاس کو ترجیح دیتے ہیں تو ایک اسرائیلی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کے صحت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس بلڈ شوگر کی سطح کو بہت زیادہ بڑھا سکتی ہے۔ درحقیقت اس قسم کی مٹھاس معدے میں پائے جانے والے بیکٹریا کو بھی چکرا دیتی ہے جس کے نتیجے میں وہ گلوکوز کو جسم میں پراسیس کرنے کا کام نہیں کرتے۔ محققین کا کہنا تھا کہ ذیابیطس کے ڈر سے جو لوگ عام کولڈ ڈرنکس چھوڑ کر ڈائٹ مشروات کو ترجیح دیتے ہیں انہیں اس سے بھی گریز کرنا چاہئے۔

ذیابیطس کے شکار افراد کو اپنی غذا میں چربی کے استعمال سے کافی حد تک گریز کرنا چاہئے۔ جنرل آف نیوٹریشن میں 2011 میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق چربی سے بھرپور غذا کے استعمال کے نتیجے میں بلڈ شوگر کی سطح میں 32 فیصد تک اضافہ ہوسکتا ہے۔ تحقیق کے مطابق چربی سے بھرپور اشیاءجسم میں دوڑنے والے خون پر اثرانداز ہوتی ہیں جس سے اس کی خون سے شوگر صاف کرنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔

حالیہ تحقیقی رپورٹس کے مطابق کافی کا استعمال ذیابیطس ٹائپ ٹو کا خطرہ ٹالتا ہے تاہم جو لوگ پہلے اس مرض کا شکار ہوچکے ہوں ان کے لیے کیفین نقصان دہ بھی ثابت ہوسکتی ہے۔ امریکا کے نیشنل انسٹیٹوٹ آف ذیابیطس کے مطابق ایسا نہیں کہ کافی کا استعمال نہ کرٰں مگر اس کے استعمال میں کافی احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے، کیونکہ دودھ اور چینی کے بغیر سیاہ کافی کا استعمال بلڈ شوگر کا لیول بڑھا سکتا ہے۔

اب یہ فلو ہو یا کسی اور قسم کا انفیکشن، ایسے حالات میں جسم کا دفاعی نظام ایک خصوصی جراثیم سے لڑنے والا کیمیکل خارج کرتا ہے جو آپ کے بلڈ شوگر لیول کو کنٹرول سے باہر بھی کرسکتا ہے۔ درحقیقت بیماری تناﺅ کی ایسی قسم ہے جو جسمانی دفاع کو بڑھا دیتا ہے مگر اس کا ایک اثر یہ ہوتا ہے کہ جسمانی توانائی بڑھانے کے لیے جسم زیادہ گلوکوز بنانے لگتا ہے جس کے نتیجے میں انسولین کی راہ میں رکاوٹ پیدا ہونے لگتی ہے۔ یعنی جسمانی بلڈ شوگر کی سطح میں بیماری کی صورت میں ڈرامائی اضافہ ہوتا ہے لہذا ایسے حالات میں ذیابیطس کے شکار افراد کو کھانے اور پینے کی خصوصی رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے۔

ایک رات کا اچھا آرام ایک بہترین دوا ثابت ہوتا ہے خاص طور پر اگر آپ ذیابیطس کے شکار ہوں۔ تاہم ایک ڈچ تحقیق کے مطابق ذیابیطس ٹائپ ون جو لوگ رات بھر میں محض چار گھنٹوں کی نیند ہی لے پاتے ہیں ان میں انسولین کی حساسیت 20 فیصد تک کم ہوجاتی ہے۔ آسان الفاظ میں ناکافی نیند کے نتیجے میں جسمانی تناﺅ بڑھ جاتا ہے اور اس کے نتیجے میں بلڈ شوگر کی سطح میں نمایاں اضافہ ہوجاتا ہے۔

یقیناً تمباکو نوشی کی عادت کسی کے لیے بھی صحت بخش نہیں مگر سیگریٹس خاص طور پر ان افراد کے لیے خطرناک ہے جو ذیابیطس کے شکار ہو۔ کیلیفورنیا اسٹیٹ یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق جتنا زیادہ نکوٹین انسانی خون میں شامل ہوتا ہے اتنا ہی بلڈ شوگر بڑھ جاتا ہے اور اس سطح میں بہت زیادہ اضافہ ذیابیطس کی سنگین پیچیدگیوں کا باعث بن سکتا ہے جیسے دل کے دورے، فالج اور گردوں کے فیل ہونا وغیرہ۔

SHARE

LEAVE A REPLY