بھارت آئندہ ہفتے آسٹرازینیکا کی ویکسین کی منظوری دے سکتا ہے: رپورٹ

0
762

بھارت برطانوی دوا ساز ادارے آسٹرازینیکا اور آکسفورڈ یونیورسٹی کے اشتراک سے تیار ہونے والی کرونا ویکسین کے ہنگامی استعمال کی منظوری آئندہ ہفتے دے سکتا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ نے اپنے ذرائع کے حوالے سے خبر دی ہے کہ آسٹرازینیکا اور آکسفورڈ یونیورسٹی کی ویکسین کی خوراکیں تیار کرنے والی بھارتی کمپنی نے حکام کو تمام ڈیٹا فراہم کر دیا ہے۔ جس کے بعد امید ہے کہ آئندہ ہفتے یہ ویکسین بھارت میں منظور ہو جائے گی۔

‘رائٹرز’ کے مطابق اسے دو باخبر ذرائع سے اطلاع ملی ہے کہ بھارت آسٹرازینیکا کی ویکسین کی منظوری دینے والا دنیا کا پہلا ملک بن سکتا ہے۔ جب کہ دوسری جانب برطانیہ میں اس ویکسین کے ٹرائلز سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کا ابھی تک جائزہ لیا جا رہا ہے کہ یہ ویکسین کتنی مؤثر ہے۔

خیال رہے کہ بھارت دنیا بھر میں سب سے زیادہ ویکسینز تیار کرنے والا ملک ہے۔ آسٹرازینیکا کی ویکسین کی خوراکیں بھارت میں سیرم نامی ایک کمپنی تیار کر رہی ہے جو ویکسین تیار کرنے والی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی ہے۔

بھارت میں ‘فائزر’ اور ‘بھارت بائیو ٹیک’ نامی کمپنیوں کی تیار کردہ دو مزید ویکسینوں کے استعمال کی اجازت پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔

آسٹرازینیکا کی تیار کردہ ویکسین کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ کم آمدنی اور گرم موسم والے ملکوں میں کافی مؤثر ثابت ہو سکتی ہے۔ کیوںکہ یہ ویکسین دیگر کے مقابلے میں سستی ہے، اس کی ترسیل آسان ہے اور عام ریفریجریٹر کے درجۂ حرارت پر زیادہ عرصے تک محفوظ رکھی جا سکتی ہے۔

بھارت کی ‘سینٹرل ڈرگز اسٹینڈرڈ کنٹرول اتھارٹی’ نے رواں ماہ تین ویکسینوں کی منظوری کی درخواستوں کا جائزہ لیا تھا اور تمام کمپنیوں کو مزید ڈیٹا فراہم کرنے کی ہدایت کی تھی۔

رائٹرز کے ذرائع کے مطابق سیرم نے اتھارٹی کو مکمل ڈیٹا فراہم کر دیا ہے جب کہ فائزر اور بھارت بائیو ٹیک سے مزید ڈیٹا ملنے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق بھارت کے محکمۂ صحت کے عہدے دار آسٹرازینیکا کی ویکسین کے معاملے پر اپنے برطانوی ہم منصبوں سے براہِ راست رابطے میں ہیں اور اس بات کا قوی امکان ہے کہ ویکسین کی منظوری آئندہ ہفتے دے دی جائے گی۔

SHARE

LEAVE A REPLY