پاناماکیس اہم موڑ پر،شریف خاندان بتائے کہ12ملین درہم کیسے ملے

0
137

سپریم کورٹ میں پاناما کیس کی سماعت جاری، معزز ججز نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کی تقریر میں بھٹو دور میں 6 نئی فیکٹریاں لگانے کا ذکر ہے، پاکستان میں 6نئی فیکٹریاں لگائی تھیں تو گلف مل لگانے کی کیا ضرورت تھی؟ وزیراعظم کی تقریر میں قطری سرمایہ کاری کا ذکر ہی نہیں۔

سپریم کورٹ آف پاکستان میں پاناما لیکس سے متعلق دائر درخواستوں کی سماعت جاری ہے، سپریم کورٹ کا پانچ رکنی لارجر بینچ کیس کی سماعت کر رہا ہے، بینچ کی سربراہی جسٹس آصف سعید کھوسہ کر رہے ہیں، جب کہ دیگر معزز ججز کے نام جسٹس عظمت سعید شیخ ، جسٹس اعجا ز الاحسن ، جسٹس گلزار احمد اور جسٹس اعجاز افضل ہیں۔

سماعت کے آغاز پر اسحاق ڈار کیس میں اپیل دائر نہ کرنے کے فیصلے کے منٹس جمع کرائے گئے، نیب پراسیکیوٹر جنرل وقاص ڈار نے اجلاس کے منٹس پڑھ کر سنائے، وقاص ڈار کا کہنا تھا کہ پراسیکیوٹرجنرل نیب نے اپیل دائر نہ کرنے کی تجویز دی ہے،چیئرمین نیب نے پراسیکیوٹر کی تجویز سے اتفاق کیا ہے۔ جس پر جسٹس گلزار نے سوال کیا کہ ایسا کتنے کیسز میں ہوتا ہے کہ اپیل دائر نہ کی گئی ہو؟، جس پر وقاص ڈار نے کہا کہ ایسے لاتعداد مقدمات ہیں، جن میں اپیل دائر نہیں کی گئی، ججز کے فیصلے میں تضاد کے باعث اپیل دائر نہیں کی گئی، جس پر جسٹس افضل نے ریمارکس دیئے کہ ججز کے بہت سے متفقہ فیصلوں کیخلاف نیب نے اپیل کی۔

وقاص ڈار کے بعد حسن نواز اور حسین نواز کے وکیل نے گزشتہ سے پیوست اپنے دلائل کا آغاز کیا، سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ ریکارڈ سے ثابت ہے کہ فیکٹری کی فروخت سے 12ملین درہم ملے،جس پر جسٹس افضل نے سوال کیا کہ بینک کے واجبات کس نے ادا کیے؟ کیا75فیصد حصص فروخت کر کے بینک کو قرض کی ادائیگی ہوئی؟، جس پر وکیل کا کہنا تھا کہ حصص کی فروخت سے ملنے والے21ملین درہم قرض کی مد میں ادا کئے۔

جسٹس اعجاز افضل نے پوچھا کہ فیکٹری کےباقی واجبات کاکیا ہوا؟ جس پر سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ کاروبار پر کنٹرول میاں شریف کا تھا، طارق شفیع گلف فیکٹری کے روزانہ کے معاملات نہیں دیکھتے تھے، جسٹس کھوسہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کی تقریر میں بھٹو دور میں6نئی فیکٹریاں لگانے کا ذکر ہے، پاکستان میں6نئی فیکٹریاں لگائی تھیں تو گلف مل لگانے کی کیا ضرورت تھی، وزیراعظم کی تقریر میں قطری سرمایہ کاری کا ذکر نہیں۔

سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ دبئی اسٹیل مل آہلی خاندان نے2001میں بند کی، جدہ مل دبئی فیکٹری کی مشینری سے قائم کی گئی، جدہ مل میں نئی مشینری بهی لگائی گئی،جس پر جسٹس کھوسہ نے استفسار کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا دبئی فیکٹری کی مشینری حسین نواز نے خریدی تهی، وزیراعظم نے مشینری کی خرید و فروخت کا کہیں ذکر نہیں کیا، طارق شفیع کے بیان حلفی کے بعد دوسرے بیان حلفی میں بہتری لائی گئی۔

عدالت کے سوالوں پر وکیل کا کہنا تھا کہ 7نومبر کے جواب میں دبئی فیکٹری کے 12ملین درہم کی سرمایہ کاری کا ذکر ہے، جس پر جج کا کہنا تھا کہ طارق شفیع کو قطری سرمایہ کاری کا علم تها تو بیان حلفی میں ذکر کر دیتے، جس پر سلمان اکرم نے کہا کہ معاملے میں قطری شاہی خاندان شامل تها، اس لیے ذکر نہیں کیا، جسٹس اعجاز نے کہا کہ 5نومبر کو قطری آیا12نومبر کو طارق شفیع کا بیان حلفی آیا، سوال یہ ہے کہ لندن فلیٹس کیلئے سرمایہ کہاں سے آیا، حسین نواز کے مطابق لندن فلیٹس قطری سرمایہ کاری سے ملے، جس پر سلمان اکرم نے بتایا کہ کیا ایسا لگ رہا ہے کہ ٹرائل ہو رہا ہے، طارق شفیع کو کٹہرے میں بلا کر سوالات پوچھ لیے جائیں، جس پر جسٹس کھوسہ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں نے ریمارکس میں کتاب میں صفحہ گم ہونے کی بات کی، میرے ریمارکس پر محترم رکن اسمبلی نے بہت ڈانٹا، غلطی ہوسکتی ہے نظر نہ آیا ہو۔

واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف ، عوامی مسلم لیگ ،جماعت اسلامی وزیر اعظم نوازشریف ، مریم نوازاور اسحاق ڈار کے وکلاء کے دلائل مکمل ہو نے کے بعدحسن اور حسین نوا ز کے وکیل سلمان اکرم راجہ اپنے دلائل کا تسلسل جاری رکھے ہوئے ہیں

SHARE

LEAVE A REPLY