سپریم کورٹ نے رہنما متحدہ قومی موومنٹ پاکستان مصطفیٰ کمال اور سینیٹر فیصل واڈا کی غیر مشروط معافی قبول کر لی، توہین عدالت کا نوٹس بھی واپس لے لیا۔
چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے مصطفیٰ کمال اور فیصل واوڈا کو روسٹرم پر بلا لیا اور ان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا آپ پارلیمان میں عوام کی نمائندگی کرتے ہیں، ہم آپ کی عزت کرتے ہیں اور امید ہے آپ بھی ہماری عزت کریں گے۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا ایک دوسرے کو نیچا دکھانے سے عوام کو نقصان ہو گا، پارلیمان میں آرٹیکل 66 سے آپ کو تحفظ ہے، باہر گفتگو کرنے سے آپ کو آرٹیکل 66 میسر نہیں ہو گا۔
چیف جسٹس پاکستان کا کہنا تھا آپ لوگوں کی غیر مشروط معافی قبول کرتے ہیں، آئندہ اس معاملے میں ذرا احتیاط کریں۔
سماعت کے آغاز پر مصطفی کمال کے وکیل فروغ نسیم نے دلائل دیے کہ مصطفی کمال نے غیر مشروط معافی مانگی ہے، اب پریس کانفرنس میں بھی ندامت کا اظہار کر چکے ہیں۔
اس پر چیف جسٹس نے فیصل واڈا سے دریافت کیا کہ آپ کے وکیل نہیں آئے؟ کیا آپ نے بھی معافی مانگی ہے؟ فیصل واڈا نے جواب دیا کہ جی میں نے بھی معافی مانگی ہے۔












