کابل میں امریکہ کے سفارت خانے نے امریکی محکمۂ دفاع کے ترجمان کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان میں دھونس اور طاقت کے بل بوتے پر قائم ہونے والی حکومت کو دنیا تسلیم نہیں کرے گی۔
افغانستان میں کسی بھی حکومت کو جائز ماننے، اور اس کے لیے امداد صرف اسی صورت ممکن ہو گی اگر وہ انسانی حقوق کا احترام کرے، اس حکومت کی ساکھ ہو اور اس کے اپنے لوگوں کی نظروں میں اس کی ایک قانونی حیثیت ہو۔
یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب افغانستان کے اندر طالبان جنگجوؤں کی پیش قدمی اور عام شہریوں اور انفراسٹرکچر پر ان کے حملوں میں تیزی آ رہی ہے۔
دوسری جانب افغانستان کی اعلیٰ مصالحتی کونسل کے سربراہ ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ نے کہا ہے کہ کئی صوبوں میں لڑائی میں شدت آنے کے بعد یہ لڑائی ان کے الفاظ میں، کابل شہر کے دروازوں تک پہنچ گئی ہے۔ تاہم انہوں نے بتایا ہے کہ اب بھی کابل حکومت اور دوحہ میں موجود طالبان کے درمیان رابطے برقرار ہیں۔
افغانستان میں گزشتہ 12 برسوں میں 38 ہزار عام شہری مارے گئے ہیں جب کہ 70 ہزار سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔













