گل افشاں رانا
نام ہے ایک کتاب کا
ایک ایسی روشن کتا ب ، جو فیصل آباد میں وہیل چیئر پر بیٹھی ہوئی ایک باہمت ہیرو خاتون نے لکھی ہے اس کتاب میں مصنفہ نے پورے پاکستان سے وہیل چیئر پر بیٹھے ہوئے سو لوگوں کے انٹرویوز کیے ہیں جن میں مرد اور خواتین دونوں شامل ہیں
گل افشاں رانا کہتی ہیں
“آپ میری کتاب میں موجود کسی بھی روشن ستارے کو دیکھیے ، ملئے وہ سب ادھورے وجود کے ساٹھ زندگی کے پورے تقاضے نبھا رہے ہیں عام لوگوں کی نسبت زیادہ ذہانت و متانت اور ایمانداری سے انسان ہونے کے فرائض ادا کر رہے ہیں۔ وہ سب اپنی اپنی جگہ ہمت و بہادری کے ، امید ویقین کے روشن مینار ہیں ان روشن ستاروں میں سے کسی کی زندگی بھی آسان نہیں تھی اور نہ آگے ہوگی سب نے مشکل ترین وقت گزارا ہے اور اب تک گذار رہےہیں اپنے حقوق حاصل کرنے کے لیے جد وجہد کر رہےہیں آپ زندگی میں مکمل اعضاء کے با وجود ناشکری کرتے ہیں،نا امید رہتے ہیں اور وہ نا مکمل اعضاء غ ساتھ شکر گذار رہتے ہیں پر امید رہتے ہیں پر سکون رہتے ہیں ”
گل افشاں رانا کی کتاب کے ایک روشن ستارے سے آپ کو ملواتی ہوں
سوال: آپ کا نام
جواب:آصف حنیف
سوال : آپ کی تعلیم
جواب : پی ایچ ڈی
س: آپ کی پیدائش کس شہر میں ہوئی
ج: نارووال
س: بہین بھائیوں کی تعداد، آپ کا نمبر
ج: دوسرا
س: بچپن میں بڑے ہو کر کیا بننےکی خواہش ؟
ج: بچپن میں کبھی سوچا نہیں تھا کہ بڑا ہو کر کیا بنوں گا
س: بچپن کی کوئی شرارت شیئر کیجیے ؟
ج: شہد کی مکھیوں کو چھیڑنا
س: پسندیدہ کھانا ؟
ج: مچھلی کی کوئی بھی ڈش اور مٹھائی
س: پسندیدہ رنگ اور کھیل ؟
ج: سب رنگ اچھے لگتے ہیں اور کھیل کرکٹ
س: آپ کی اچھی اور بری عادت؟
ج” میں بہت زیادہ اللہ پر بھروسہ کرتا ہوں۔ بری عادت کبھی کبھی صدی ہوجاتا ہوں
س: سمندر کنارے کسی مشہور شخصیت کے ساتھ شام کی چائے پینے کا موقع ملے تو کس کے ساتھ پینے کی خواہش ہے؟
ج: بابا جی اشفاق احمد مرحوم کے ساتھ یہ موقع ملتا تو کبھی مس نہ کرتا
س: پسندیدہ پکنک سپاٹ جہاں جانے کے لیے آپ ہمیشہ تیار ہوں؟
ج: ناردرن ایریاز
س: آپ کی معذوری کس نوعیت کی ہے اور موجودہ کنڈیشن کیا ہے ؟
ج: 1997 میں مسکولرڈسٹروفی کی وجہہ سے
س: دکھ کے اس موسم میں آپ کا سب سے زیادہ ساتھ کس نے دیا؟
ج: جب ساتھ نبھانے والے ساتھ ساتھ ہوں تو جیون کی کوئی رت دکھ نہیں دیتی
س: اس حادثے نے آپ کو کن لوگوں اور چیزوں سے دور یا نزدیک کیا؟
ج: معذوری نے بچپن کا گھر ،گاؤں کے لوگ اور بہت سی سوندھی خوشبووؤں سے دور کیا۔ لیکن اسی معذوری نے پاکستان کی نا مور پروفیسر سائنٹسٹ ڈاکٹرز اور میری وائف سے مجھے ملوایا یے
س: آپ کے مشاغل یا شوق کیا ہیں ۔فارغ وقت کیسے گزرتا ہے؟
ج: پڑہائی، پڑہا ئی،پڑہائی اور صرف پڑہائی، ٹیچنگ، ریسرچنگ، رائیٹنگ ، پبلیکیشن شاید پچھلے سالوں میں ایک لمحہ بھی فرصت کا نہیں ملا
س: شادی کے لیے کس قسم کا جیون ساتھی ہونا چاہیے؟
ج: الحمدوللہ اللہ نے بہت اچھی خیال رکھنے والی محبت کرنے والی بیوی عطا کی ہے شادی کا پلان نہیں تھا لیکن اللہ نے میرے لیے بیسٹ ساتھی چن رکھا تھا سو مجھے مل گیا
س: کیا چیز آپ کے لیے اداسی اور خوشی کا سبب بنتی ہے؟
ج: کسی کی تکلیف دیکھی نہیں جاتی اور خوشی کے لیے کسی کی مدد کروں تو یہی کافی ہے
س: پاکستان کے لیے کیا کرنے کا عزم ہے؟
اگر اللہ نے مجھے توفیق دی تو پاکستان میں تعلیم کو فری کردوں
س: آپ کی ذاتی کونسی خواہش ہے جو آپ چاہتے ہیں لازمی پوری ہو؟
ج: خواہشات تو انسان بہت ساری کرتا ہے لیکن میں اللہ سے دعا کرتا ہوں اللہ ہم سب کو دنیا وقبر،اخرت میں سرخرو کردے ۔امین
س: آپ کی جانب سے ناشکرے اور نا امید لوگوں کے لیے کیا پیغام ہے؟
ناشکرے لوگ صرف یہی سوچ لیں کہ اللہ نے یہ جو سانس لینے کے لیے آکسیجن دی ہے اگر وہ یہ چھین لے تو تم اک لمحہ کے لیے بھی نہ جی سکو گے













