انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ نے یارکشائر سے تعلق رکھنے والے 26 سالہ جو روٹ کو قومی ٹیسٹ ٹیم کا نیا کپتان مقرر کر دیا ہے۔ وہ ایلسٹر کک کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالیں گے جنہوں نے گذشتہ ہفتے 4 برس کے دوران 59 ٹیسٹ میچوں میں ٹیم کی قیادت کرنے کے بعد کپتانی چھوڑنے کا اعلان کیا تھا۔

ایلسٹر کُک انگلش کرکٹ ٹیم کی کپتانیانگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ نے یارکشائر سے تعلق رکھنے والے 26 سالہ جو روٹ کو قومی ٹیسٹ ٹیم کا نیا کپتان مقرر کر دیا ہے۔ وہ ایلسٹر کک کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالیں گے جنہوں نے گذشتہ ہفتے 4 برس کے دوران 59 ٹیسٹ میچوں میں ٹیم کی قیادت کرنے کے بعد کپتانی چھوڑنے کا اعلان کیا تھا۔

ایلسٹر کُک انگلش کرکٹ ٹیم کی کپتانی سے دست بردارروٹ ٹیسٹ کرکٹ میں انگلش ٹیم کی قیادت کرنے والے 80ویں کھلاڑی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ٹیسٹ ٹیم کی قیادت ملنا ایک بڑا اعزاز ہے۔ میں بہت خوش اور پرجوش محسوس کر رہا ہوں۔

کپتان مقرر کیے جانے سے قبل روٹ ٹیسٹ ٹیم کے نائب کپتان تھے اور اب یہ ذمہ داری ڈرہم کاؤنٹی کے لیے کھیلنے والے 25 سالہ آل راؤنڈر بین اسٹوکس کو سونپی گئی ہے۔

انگلش ٹیم کے سابق کپتان اور بورڈ کے موجودہ ڈائریکٹر اینڈریو اسٹراس نے کہا کہ جو ہمارا اگلا ٹیسٹ کپتان بننے کے لیے درست شخص ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ اس نے یہ ذمہ داری قبول کر لی ہے۔

خیال رہے کہ 32 سالہ ایلسٹر کک نے 2012 میں انگلینڈ کی ٹیم کی کپتانی سنبھالی تھی اور ان کی قیادت میں انگلینڈ نے 2013 اور 2015 کے ایشز مقابلوں میں کامیابی حاصل کی،تاہم گذشتہ سال انڈیا کے خلاف 0-4سے ٹیسٹ سیریز میں شکست ہونے کے لیے بعد انھوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ ان کے کپتان ہونے کے بارے میں سوالات اٹھ رہے ہیں۔

سے دست بردارروٹ ٹیسٹ کرکٹ میں انگلش ٹیم کی قیادت کرنے والے 80ویں کھلاڑی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ٹیسٹ ٹیم کی قیادت ملنا ایک بڑا اعزاز ہے۔ میں بہت خوش اور پرجوش محسوس کر رہا ہوں۔

کپتان مقرر کیے جانے سے قبل روٹ ٹیسٹ ٹیم کے نائب کپتان تھے اور اب یہ ذمہ داری ڈرہم کاؤنٹی کے لیے کھیلنے والے 25 سالہ آل راؤنڈر بین اسٹوکس کو سونپی گئی ہے۔

انگلش ٹیم کے سابق کپتان اور بورڈ کے موجودہ ڈائریکٹر اینڈریو اسٹراس نے کہا کہ جو ہمارا اگلا ٹیسٹ کپتان بننے کے لیے درست شخص ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ اس نے یہ ذمہ داری قبول کر لی ہے۔

خیال رہے کہ 32 سالہ ایلسٹر کک نے 2012 میں انگلینڈ کی ٹیم کی کپتانی سنبھالی تھی اور ان کی قیادت میں انگلینڈ نے 2013 اور 2015 کے ایشز مقابلوں میں کامیابی حاصل کی،تاہم گذشتہ سال انڈیا کے خلاف 0-4سے ٹیسٹ سیریز میں شکست ہونے کے لیے بعد انھوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ ان کے کپتان ہونے کے بارے میں سوالات اٹھ رہے ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY