لاہور میں اسلامی سربراہ کانفرنس منعقد ہوئی
٭22 فروری 1974ء مطابق 29 محرم الحرام 1394ھ بروز جمعتہ المبارک وہ تاریخی دن تھا جب لاہور کے پنجاب اسمبلی ہال میں عالم اسلام کے سربراہوں کی تاریخی سہ روزہ کانفرنس کا آغاز ہوا۔
اس کانفرنس کا صدر‘ پاکستان کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو منتخب کیا گیا۔ شام چھ بجے اسلامی سیکریٹریٹ کے سیکریٹری جنرل جناب حسن محمد التہامی اور پاکستان کے سیکریٹری خارجہ جناب آغا شاہی نے کانفرنس کے سیکریٹری کے فرائض سنبھالے اور پاکستان کے قاری زاہر القاسمی کی تلاوت کلام پاک سے کانفرنس کی کارروائی کا آغاز ہوا۔
اس تاریخی اسلامی سربراہ کانفرنس میں 37 اسلامی ممالک کے سربراہ اور اعلیٰ نمائندے شریک ہوئے جن میں شریک سربراہان مملکت اسلامیہ کی تعداد 24 تھی۔ کانفرنس ہال میں 41 افراد موجود تھے جن میں سے 4 وفود کسی ملک کے نہیں بلکہ مسلمانوں کی مختلف تنظیموں‘ تنظیم آزادی فلسطین‘ عرب لیگ‘ موتمر عالم اسلامی اور رابطہ عالم اسلامی کے وفود تھے۔ اس کے علاوہ لبنان کے عیسائیوں کا ایک وفد بھی مسلمانوں سے یکجہتی کے لیے کانفرنس میں شریک تھا۔
کانفرنس کے اختتام پر24 فروری 1974ء کو اعلان لاہور جاری کیا گیا۔ یہ کانفرنس عالم اسلام کی تاریخ کا ایک اہم موڑ تھی اس کانفرنس کے ذریعے عالم اسلام کو ایک دوسرے کے قریب آنے اور ایک دوسرے کے مسائل حل کرنے میں مدد ملی۔ انہوں نے مشرق وسطیٰ اور فلسطین کے مسئلے پر مکمل اتحاد اور یکجہتی اور یکساں مؤقف رکھنے کا اعلان کیا اور عالم اسلام کے اقتصادی اور معاشی مسائل حل کرنے کے لیے متعدد اقدامات کرنے کا اعلان کیا۔
———————————————-
جوش ملیح آبادی کی وفات
٭ اردو کے ایک بڑے شاعر جوش ملیح آبادی 5 دسمبر 1898ء کو ملیح آباد میں پیدا ہوئے۔
جوش کے والد نواب بشیر احمد خان، دادا نواب محمد احمد خاں اور پر دادا نواب فقیر محمد خاں گویا سبھی صاحب دیوان شاعر تھے۔
جوش نے نو برس کی عمر میں پہلا شعر کہا۔ ابتدا میں عزیز لکھنوی سے اصلاح سخن لی۔ پھر یہ سلسلہ منقطع ہوگیا اور خود اپنی طبیعت کو رہنما بنایا۔ عربی کی تعلیم مرزا ہادی رسوا سے اور فارسی اور اردو کی تعلیم مولانا قدرت بیگ ملیح آبادی سے حاصل کی۔
جوش نے حیدرآباد (دکن)، دہلی، کراچی اور اسلام آباد کئی شہروں میں زندگی گزاری۔ دو رسالوں کلیم اور آج کل کے مدیر رہے، کئی فلموں کے گانے اور مکالمے لکھے اور پاکستان آنے کے بعد اردو لغت کے مدیر رہے۔
جوش ملیح آبادی نے متعدد شعری مجموعے یادگار چھوڑے۔ اپنی خودنوشت یادوں کی برات کے نام سے تحریر کی۔ جنگل کی شہزادی، ایسٹ انڈیا کمپنی کے فرزندوں سے خطاب، مناظر سحر، تلاشی اور فتنہ خانقاہ آپ کی مشہور نظمیں ہیں۔ حسین اور انقلاب وہ مرثیہ ہے، جس نے مرثیہ گوئی کے ایک نئے دبستان کی بنیاد رکھی۔
ستر کی دہائی میں جوش کراچی سے اسلام آباد منتقل ہوگئے۔ 1978ء میں انہیں ان کے ایک متنازع انٹرویو کی وجہ سے ذرائع ابلاغ میں بلیک لسٹ کردیا گیا مگر کچھ ہی دنوں بعد ان کی مراعات بحال کردی گئیں۔
٭22 فروری 1982ء کو جوش ملیح آبادی نے اسلام آباد میں وفات پائی اور وہیں آسودۂ خاک ہوئے۔
ان کی تاریخ وفات معروف شاعر نصیر ترابی نے ان کے اس مصرع سے نکالی تھی:
میں شاعر آخر الزماں ہوں اے جوش
———————————–
جیلانی کامران کی وفات
٭ اردو کے ممتاز شاعر‘ ادیب‘ نقاد‘ دانشور اور انگریزی زبان و ادب کے استاد پروفیسر جیلانی کامران 24 اگست 1926ء کو پونچھ (کشمیر) میں پیدا ہوئے تھے۔ جیلانی کامران کے شعری مجموعوں میں استانزے‘ نقش کف پا‘ چھوٹی بڑی نظمیں‘ اور نظمیں‘ دستاویز اور جیلانی کامران کی نظمیں اور نثری کتب میں تنقید کا نیا پس منظر‘نئی نظم کے تقاضے‘ غالب کی تنقیدی شخصیت‘ نظریہ پاکستان کا ادبی و فکری مطالعہ‘ اقبال اور ہمارا عہد‘ لاہورکی گواہی‘ قائد اعظم اور آزادی کی تحریک‘ ہمارا ادبی و فکری سفر اور ادب کے مخفی اشارے شامل ہیں۔
حکومت پاکستان نے ان کی ادبی اور تعلیمی خدمات کے اعتراف میں انہیں تمغہ امتیاز اور صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیے تھے۔
٭22 فروری 2003ء کو جیلانی کامران نے لاہور میں وفات پائی اور علامہ اقبال ٹائون لاہور کے نشتر بلاک کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔
—————————————-
دنیا میں سب سے تیز رفتار بائولر ہونے اعزاز
* 22 فروری 2003ء کو عالمی کپ کرکٹ ٹورنامنٹ کے ایک میچ میں جو انگلستان کے خلاف کھیلا جارہا تھا پاکستان کے شعیب اختر نے اپنے دوسرے اوور میں نک نائٹ کو 161.3 کلو میٹر فی گھنٹہ (100.23میل فی گھنٹہ) کی رفتار سے بائولنگ کرواکر دنیا میں سب سے تیز رفتار بائولر ہونے اعزاز حاصل کرلیا۔ گینز بک آف ریکارڈز 2005ء کے مطابق یہ دنیا کی تیز ترین بائولنگ تھی۔ اس سے قبل اپریل 2002ء میں شعیب اختر نے لاہور میں نیوزی لینڈ کے خلاف 161.5 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گیند کروائی تھی لیکن آئی سی سی نے پاکستان کی اسپیڈ گن کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا تھا۔ ورلڈ کپ کے دوران جو اسپیڈ گن استعمال ہورہی تھی وہ آئی سی سی سے تسلیم شدہ تھی اس لئے اس مرتبہ آئی سی سی کو شعیب اختر کو دنیا کا سب سے تیز رفتار بائولر تسلیم کرنے میں کوئی تامل نہیں ہوا۔
وقار زیدی ۔ کراچی













