کراچی میں وہی ہو رہا ہے جو 71 میں بنگلہ دیش میں کیا گیا

0
1927

لندن۔ سید کوثر کاظمی۔ لندن میں ایک کیو ایم کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ کراچی کے اندر وہی سب کچھ ہو رہا ہے جو 71 میں بنگلہ دیش میں کیا گیا۔ واسع جلیل نے کہا کہ ایم کیو ایم کے پلیٹ فارم سے غریب طبقے کے لوگ ایوان حکومت تک پہنچے۔ ایم کیو ایم کو تقسیم کر کے ختم کارنے کی سازشیں ہو رہی ہیں۔

واسع جلیل کا کہنا تھا کہ ریاستی ادارے جو اپنے آپ کو عقل کل سمجھتے ہیں اپنے ناپاک حربوں سے ایم کیو ایم کو جھکا نہیں سکتے ۔کبھی قبرستانوں سے اسلحہ نکلتا ہے کبھی پانی کی ٹینکی سے کبھی پارک سے .اور اسلحہ پہ زنگ نا مٹی .کس کو بیوقوف بنایا جا رہا ہے۔اپنے سٹور سے اسلحہ نکال کر کسی کے سر پے ڈال دیا جاتا ہے .اور اسلحہ بولتا بھی ہے کے میں ایم کیو ایم لندن سے ہوں۔ہم نے کوئی صفائی نہیں دینی اسلحہ بارے .جن کے پاس چابیاں تھیں ان سے پوچھا جائے صفائی لی جائے .

انسباط ملک نے کہا کہ آج مجھ پر بہت گھٹیا الزام لگایا گیا .میں لندن سے ماہرین کراچی لیکر گیا اور کراچی کے عوام کی تفریح کے لے پارک کی بنیاد رکھی۔

محمد انور نے کہا کہ عامر خان ایک غدار ہے اس سے پوچھا جائے کے جب لندن میں قائد نے سے معاف کیا تھا اس کے پاس ایک روپیہ نہیں تھا .پارٹی نے ایک لاکھ روپے سے امداد کی اور ماہانہ خرچہ دیا .آج جب یہ غدار شہدا قبرستان جاتا ھو گا تو شہیدوں کی روحوں کو بھی اذیت ہوتی ھو گی ۔چیف جسٹس سے مطالبہ کرتے ہیں کے اج کراچی سے جو اسلحہ برآمد ہوا اس کی عدالتی تحقیقات کروائیں .

قاسم علی رضا کا کہنا تھا کہ جتنا اسلحہ ایم کیو ایم کے نام سے برآمد ھو چکا اس سے کشمیر فتح ھو جانا چائیے اور پی او ایف فیکٹری بند ھو جانی چائیے

SHARE

LEAVE A REPLY