پانامہ کیس کی تحقیقات کیلے قائم جے آئی ٹی کا وزیر اعظم اور انکے بچوں کے ٹیکس گوشواروں کی تفصیلات طلب کرنے اور برطانیہ کی آڈٹ فرم کی خدمات لینے کا فیصلہ جبکہ یہ بھی فیصلہ کیا گیا ہے کہ صرف مصدقہ دستاویزات شامل تفتیش کی جائینگی۔

پانامہ کیس کی تحقیقات کیلئے جے آئی ٹی کا اجلاس ہوا،ابتک ملنے والے تمام ریکارڈ کے موازنہ کے بعد اٹھنے والے سوالات الگ کرلئے گئے ہیں،جے آئی ٹی نے ایف بی آر سے وزیر اعظم اور اُن کے بچوں کی جانب سے جمع کرائے گئے 1985 سے 2016 کے دوران ٹیکس گوشواروں کی تفصیلات مانگنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ٹیکس گوشواروں کی تفصیلات کیلئے ایف بی آر کو خط لکھا جائیگا،جے آئی ٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ حتمی سفارشات مرتب کرنے کیلئے صرف اور مصدقہ دستاویزات پر ہی انحصار کیا جائیگا، ایسی کوئی دستاویز شامل تفتیش نہیں ہوگی جو غیر تصدیق شدہ ہوں۔

اس سے پہلے نیب نے جے آئی ٹی کو غیر مصدقہ دستاویزات فراہم کی تھیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مصدقہ دستاویزات کے حصول کیلئے جے آئی ٹی برطانیہ کی آڈٹ فرم کی خدمات حاصل کرے گی۔

آڈٹ فرم کی تلاش کمیٹی کے رکن بلال رسول کے سپرد کردی گئی ہیں،سپریم کورٹ کی جانب سے پانامہ کیس کی تحقیقات کیلئے واجد ضیا کی سربراہی میں تشکیل کردہ جے آئی ٹی کو ساٹھ روز میں تحقیقات مکمل کرکے حتمی سفارشات دے گی۔
یہ بھی پڑھیے:

SHARE

LEAVE A REPLY