اسلام آباد کی مسجد و امام بارگاہ میں ہونے والے خودکش دھماکے کی تحقیقات جاری ہیں اور سنسنی خیز انکشافات سامنے آ رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق خودکش حملہ آور نے راستے میں 2 اور ہال کے اندر 6 گولیاں چلائیں، مسجد کے ہال میں جا کر خود کش دھماکا کیا، حملے میں 4 کلو گرام بارودی مواد استعمال کیا گیا۔
ذرائع کا بتانا ہے کہ بال بیئرنگ کی تعداد زیادہ تھی، حملہ آور نوشہرہ سے ہی خود کش جیکٹ پہن کر پبلک ٹرانسپورٹ سے اسلام آباد پہنچا، حملے سے قبل قریبی ہوٹل میں تھوڑی دیر بیٹھا اور کھنہ روڈ سے پیدل چل کر مسجد تک پہنچا۔
ذرائع کے مطابق حملہ آور نے 2 فروری کو اسلام آباد کی مسجد کی ریکی کی، اس سے پہلے خودکش حملہ آور مئی میں افغانستان گیا اور جون میں واپس آیا، افغانستان سے واپس آکر باجوڑ میں نئی موبائل سم ایکٹی ویٹ کی۔
یاد رہے کہ 6 فروری کو اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں امام بارگاہ و مسجد خدیجۃ الکبریٰ میں خودکش دھماکے میں 33 افراد شہید اور 150 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
اسلام آباد میں امام بارگاہ خودکش دھماکے کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے اور اس دوران شہدا کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی ہے
پولیس ذرائع کے مطابق پشاور میں حملہ آور کے گھر پر چھاپہ مارا گیا، چھاپے کے دوران اس کے دو بھائی اور ایک خاتون کو گرفتار کیا گیا ہے۔
تفتیشی ذرائع کے مطابق جائے وقوعہ سے خودکش بمبارکا شناختی کارڈ بھی ملا، شناختی کارڈ کی بنیاد پر حملہ آور کی شناخت یاسر کے نام سے ہوئی ہے۔
شناختی کارڈ پر مستقل پتہ عباس کالونی، شیروجنگی چارسدہ روڈ پشاور درج ہے جبکہ موجودہ پتہ گنج محلہ قاضیان پشاور بتایا گیا ہے۔
تفتیشی حکام نے بتایا کہ خودکش حملہ آور 5 ماہ افغانستان میں مقیم رہا جہاں اس نے اسلحہ چلانے اور خودکش حملے کی تربیت حاصل کی۔
پولیس نے پشاور اور نوشہرہ میں حملہ آور کے ممکنہ نیٹ ورک اور سہولت کاروں کی نشاندہی اور گرفتاری کے لیے چھاپوں کا آغاز کر دیا ہے۔ واقعے کے تمام پہلوؤں سے تفتیش جاری ہے جس میں حملہ آور کے رابطوں اور سہولت کاروں کی جانچ کی جارہی ہیں۔
پولیس ذرائع کے مطابق تفتیش کے دوران مزید اہم شواہد ملنے کا امکان ہے جو اسلام آباد میں اس دہشت گردی کے واقعے کے پس منظر کو واضح کریں گے۔













