پارا چنار میں کاروباری مراکز اور اسکول کھل گئے

0
200

پارا چنار میں دھماکوں کے بعد شہدا کے ورثاکی جانب سے دیا گیا احتجاجی دھرنا ختم ہونے کے بعد شہر میں بازار اور کاروباری مراکز کھلنا شروع ہوگئے۔
پارا چنار میں 23جون کو خودکش دھماکوں اور فائرنگ کے واقعہ کے بعد 8 روز سے جاری احتجاجی دھرنا گزشتہ روز آرمی چیف کے دورے کے بعد ختم کردیا گیا۔
دھرنا ختم ہوجانے کے بعد شہر میں اسکول بھی کھل گئے تاہم ان میں حاضری معمول سے کم رہی۔ شہر میں صفائی ستھرائی کا کام بھی شروع کردیا گیا ہے۔
جون 23جمعتہ الودع کے دن طوری بازار میں دو خودکش دھماکوں میں 75افراد شہید اور 261 افراد زخمی ہوئے تھے

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ پارا چنار پاکستان کا حصہ اور اس کا چپہ چپہ اور ایک ایک فرد دیگر لوگوں کی طرح اہم ہے جب کہ افسوسناک واقعہ میں ملوث عناصر کا ٹرائل ملٹری کورٹ میں ہوگا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے پارا چنار میں قبائلی عمائدین سے ملاقات کی اور ان کے تمام تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی کرائی۔
آئی ایس پی آر کی جانب سے آرمی چیف کی قبائلی عمائدین سے خطاب کی ویڈیو بھی جاری کی گئی جس میں آرمی چیف نے کہا کہ دھماکوں میں جس کا کوئی بیٹا یا باپ، بھتیجہ یا شوہر اس دنیا سے چلا گیا، یہ بہت گہرا دکھ ہے اور یہ وہ جنگ ہے جو غیر روایتی جنگ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر پاکستانی ہمارا بھائی اور آپ لوگ ہماری طاقت ہیں۔ آرمی چیف نے کہا کہ پارا چنار پاکستان کا حصہ ہے اور اس کا چپہ چپہ اور ایک ایک فرد ہمارے لئے اتنا ہی اہم ہے جتنا کہ دیگر علاقوں کے رہنے والے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا ہر بندہ چاہے وہ غیر مسلم ہی کیوں نہ ہو اہمیت کا حامل ہے، آپ لوگ تفرقہ ڈالنے والوں کو سائیڈ پر کریں اور باقی تمام لوگ اکٹھے ہو جائیں۔
پاک فوج کے سربراہ نے عمائدین سے ملاقات میں اہم اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ سرحد پار افغانستان میں خطرات بدستور موجود ہیں جہاں داعش طاقت پکڑ رہی ہے، داعش کا ایجنڈا فرقہ واریت کی فالٹ لائن کوہوا دینا ہے مگر ملک میں حالات معمول پر لانے کے لیئے فوج کوششیں جاری رکھے گی جب کہ سرحد پار موجود خطرات سے نمٹنے کے لیئے ہمیں متحد اور چوکس رہنا ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے حالیہ واقعات میں غیر ملکی ہاتھ ملوث ہونے کے واضح شواہد ہیں، دشمن ایجنسیوں کے مقامی سہولت کاروں اور ہمدردوں کو بھی پکڑا جائے گا اور ان کا ٹرائل ملٹری کورٹس میں ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ پاک افغان بارڈر کوآرڈینیشن اور سیکیورٹی تعاون نہایت ضروری ہے جب کہ ہماری سیکیورٹی فورسز قومی یکجہتی کا مظہر ہیں۔

آرمی چیف نے یقین دہانی کروائی کہ ایف سی کی فائرنگ کے واقعے میں جو ملوث ہوا اس کے خلاف کارروائی ہو گی جبکہ فائرنگ واقعے کے جاں بحق اور زخمی ہونے والوں کے لیے ایف سی الگ سے معاوضہ دے گی۔ ترجمان کے مطابق دہشت گردی کے بعد مظاہرین کے ہجوم سے نمٹنے کے دوران فائرنگ کے واقعے تحقیقات ہو رہی ہیں جب کہ مقامی ایف سی کمانڈر کو پہلے ہی تبدیل کر دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے پارا چنار کے بازار میں عین اس وقت یکے بعد دیگرے دو دھماکے ہوئے تھے جب لوگوں کی بڑی تعداد عید کی خریداری میں مصروف تھی جس میں 75 افراد جاں بحق اور100 کے قریب زخمی ہوئے تھے جس کے بعد متاثرین اور مقامی عمائدین نے اپنے مطالبات کے حق میں دھرنا دے دیا تھا۔

SHARE

LEAVE A REPLY