سولہ جولائی 622ء – اسی تاریخ سے ہجری تقویم کا آغاز ہوتا ہے

0
107

سن ہجری دنیا کے رائج سنین اور تقویموں میں ایک بہت ہی معروف ومشہور تقویم ہے۔ اس کا نقطۂ آغاز دنیا کی عظیم ہستی اور اللہ کے آخری نبی محمدﷺ کا اہم ترین سفر ہجرت ہے۔ جو اذن الٰہی کی تعمیل، آپﷺ کی سیرت کا نمایاں باب اور تاریخ انسانی کا ایک قابل ذکر موڑ ہے۔ اس سنہ کا آغاز یکم محرم الحرام بروز جمعۃ المبارک 01ھ؁ مطابق 16؍ جولائی 622ء ؁ہے۔

یہ سنہ فطری اور حقیقی ہے۔ اس لیے قمری ہجری سنہ میں کوئی ماہ کبیسہ نہیں ہوتا ہے۔ آپﷺ نے خطبۂ حجۃ الوداع میں فرمایا تھا:’’ایھا الناس انما النسیء زیادۃ فی الکفر یضل بہ الذین کفروا یحلونہ عاما ویحرمونہ عاما لیواطئوا عدۃ ما حرم اللہ فیحلوا ما حرم اللہ وحرموا ما احل اللہ وان الزمان قد استدار کھیئتہ یوم خلق السماوات والارض وان عدۃ الشھور عنداللہ اثنا عشر شھرا فی کتاب اللہ یوم خلق السماوات والارض منھا اربعۃ حرم، ثلاثۃ متوالیۃ ذوالقعدۃ وذوالحجۃ ومحرم ورجب مضر الذی بین جمادی وشعبان۔ (تاریخ طبری جلد سوم ص 150) اے لوگو!نسی کفر میں اضافہ ہے، یہ کافروں کو گمراہ کرنے کے لیے ہے۔

کسی سال اس کو حلال ٹھراتے ہیں اور کسی سال حرام کہ اللہ کے حرام کیے ہوئے مہینوں کی گنتی پوری کرکے اس کے حرام کیے ہوئے کو جائز بنالیں اور جائز حرام کرلیں۔ اب زمانہ پھر گھوم گھوماکر صحیح وقت اور اصل صورت پر آگیا ہے۔ جیسا کہ وہ تخلیق کائنات کے دن تھا۔ مہینوں کی تعداد اللہ کے یہاں نوشتۂ الٰہی میں جس دن سے اس نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا بارہ مہینے ہیں۔ سنو! اب آئندہ نہ کبیسہ ہوگا نہ نسی ہواکرے گی۔ چار مہینے حرمت والے ہیں، تین پے درپے اور ایک رجب کا مہینہ ہے جو جمادی الاخری اور شعبان کے بیچ میں ہوتا ہے۔ ( ملاحظہ کریں :صحیح بخاری بروایت ابی بکرہ :حدیث4662، 3197، 7447، مسلم:4383، ابوداؤد 1947) یہی فرمان رسولﷺ ہجری سنہ کا مصدر ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے اسلامی تقویم کی ندرت یہ ہے کہ یہ فطرت سے ہم آہنگ اور ہرسال کبیسہ کے بغیر 12؍مہینوں کا ہوتا ہے۔ روئیت ہلال کی شام سے مہینہ شروع ہوتا ہے اسلام کے تمام مذہبی امور کی انجام دہی کا مدار قمری تاریخوں پر ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY