برطانیہ کی ہائی کورٹ نے مستقلاً بیمار بچے چارلی گیرڈ کو اسپتال سے خارج کرنے کی اجازت دے دی ہے تاکہ وہ سکون سے مر سکے۔

عدالت کے اس فیصلے سے بچوں کے حقوق میں ریاست کے کردار اور صحت کی دیکھ بھال پر جاری گرما گرم بحث مباحثہ اپنے اختتام کو پہنچ گیا ہے ۔

ہائی کورٹ نے جمعرات کے روز یہ فیصلہ اس وقت کیا جب چارلی کے والدین اور لندن کے گریٹ آرمنڈ سٹریٹ ہاسپیٹل کے درمیان گیارہ ماہ کے بچے کی زندگی کے خاتمے پر کوئی تصفیہ نہیں ہو ا۔ بچہ اسپتال میں زیر علاج تھا۔

اگر دونوں فریق کسی سمجھوتے پر نہیں پہنچ پاتے تو منصوبے کے مطابق چارلی کو جمعے کے روز بچوں کی دیکھ بھال کے ایک مرکز میں منتقل کر دیا جائے گا اور اس کے بعد اسے زندہ رکھنے کے آلات ہٹا دیے جائیں گے۔

عدالتی حکم میں کہا گیا ہے کہ یہ بچے کے اپنے مفاد میں نہیں ہے کہ اس کے لیے مصنوعی تنفس جاری رکھی جائے ۔ اس لیے ان آلات کا ہٹایا جانا قانونی اور بچے کے بہترین مفاد میں ہے۔

چارلی ایک جینیاتی خرابی کی بیماری کے ساتھ پیدا ہوا تھا۔ دنیا میں ایسے مریضوں کی تعداد صرف 16 ہے۔ وہ دیکھ نہیں سکتا، سن نہیں سکتا، وہ چیخ نہیں سکتا، کوئی چیز نگل نہیں سکتا، حرکت نہیں کر سکتا، حتی کہ خود سانس بھی نہیں لے سکتا۔ اسے وقفے وقفے سے مرگی کے دورے بھی پڑتے ہیں۔

اس سال چار اگست کو وہ ایک سال کا ہو جائے گا۔

اس سال کے شروع میں چارلی کا علاج کرنے والے اسپتال نے عدالت سے یہ کہتے ہوئے لائف سپورٹ کے آلات ہٹانے کی اجازت مانگی تھی کہ بچے کو زندہ رکھنے سے اس کی تکالیف میں مزید ہو رہا ہے۔ بچے کے والدین کرس گیرڈ اور کونی یاٹیز نے اسپتال کے موقف پر اعتراض کرتے ہوئے چارلی کو تجرباتی علاج کے لیے امریکہ لے جانے کی اجازت طلب کی تھی۔

لیکن برطانیہ کی عدالتوں اور انسانی حقوق کی یورپی عدالت نے اسپتال کے موقف کی حمایت کی۔

انسانی حقوق کی عدالت نے کہا کہ ایک ایسے تجرباتی علاج کا کوئی فائدہ نہیں ہے جس میں کامیابی کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں اور اس طرح کا علاج بچے کی تکلیف میں مزید اضافے کا سبب بنے گا۔

اس معاملے نے جلد ہی دنیا بھر کی توجہ حاصل کر لی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور پوپ فرانسس سمیت عالمی راہنماؤں نے بیانات دیے اور علاج کرانے کی پیش کش کی۔

اس ہفتے کے شروع میں چارلی کے والدین گیرڈ اور یاٹس نے یہ تسلیم کرتے ہوئے قانونی جنگ سے علیحدگی اختیار کر لی کہ بچے کی بیماری لا علاج ہے۔

اس کے بعد انہوں نے درخواست کی کہ بچے کو گھر لے جانے کی اجازت دی جائے لیکن اسپتال نے یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا کہ لائف سپورٹ کے آلات ان کے گھر میں نصب نہیں کیے جاسکتے۔

برطانوی قانون کے تحت بچے کے اپنے والدین سے ہٹ کر بھی حقوق ہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ علاج سے متعلق فیصلے میں والدین کو مکمل اختیارات حاصل نہیں ہیں۔

اسپتال کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم اس معاملے پر ڈاکٹروں اور چارلی کے والدین کے درمیان اختلافات پر معذرت کرتے ہیں۔ ہم ہمیشہ والدین کے خيالات کا احترام کرتے ہیں اور ہم کبھی ایسا کام نہیں کریں گے جو ہمارے مریضوں کے لیے غیر ضروری اور طویل عرصے تک جاری رہنے والی پریشانیوں اور مشکلات کا سبب بنے۔ ہمارے طبی عملے کی ترجیج ہمیشہ چارلی کی صحت رہی ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY