ایڈیلیڈ یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ ان مشروبات میں شامل مصنوعی مٹھاس ذیابیطس ٹائپ ٹو کا خطرہ بہت زیادہ بڑھا دیتی ہے، حالانکہ بیشتر افراد اسے بلڈ شوگر کے حوالے سے استعمال کرتے ہیں کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ اس سے شوگر لیول پر اثرات مرتب نہیں ہوتے۔
اس تحقیق کے دوران 27 صحت مند افراد کو ایسی مصنوعی مٹھاس پر مبنی کیپسولز کھلائے گئے جو سافٹ ڈرنکس میں شامل کی جاتی ہے۔
تحقیق کے مطابق مصنوعی مٹھاس جسم کے اندر خون میں گلوکوز لیول کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔
رضاکاروں پر کیے جانے والے ٹیسٹ کے نتائج سے معلوم ہوا کہ مصنوعی مٹھاس گلوکوز لیول کی صلاحیت کو متاثر کرکے طویل المعیاد بنیادوں پر ذیابیطس ٹائپ ٹو کا شکار بنا دیتی ہے۔
محققین کا کہنا تھا کہ نتائج سے اس خیال کو تقویت ملتی ہے کہ مصنوعی مٹھاس جسم کا بلڈ شوگر لیول پر کنٹرول کم کردیتی ہے اور کھانے کے بعد گلوکوز کی سطح کو بڑھا دیتی ہے جو کہ بتدریج ذیابیطس ٹائپ ٹو کا باعث بن جاتی ہے۔
تاہم طبی ماہرین کا کہنا تھا کہ اس تحقیق میں رضاکاروں کی تعداد بہت کم تھی اور اس سے یہ خیال پوری طرح ثابت نہیں ہوتا کہ مصنوعی مٹھاس ذیابیطس ٹائپ ٹو کا خطرہ بڑھاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے زیادہ افراد پر ٹرائل کرکے حقیقت کو سامنے لایا جانا چاہئے۔













