پاکستانی حکمران 50 گاڑیوں کے قافلوں میں گھوم رہے ہیں جبکہ عوام کو مرنے کے بعد بھی گاڑیوں میں جانوروں کی لے جایا جا رہا ہے۔
پاکستانی عوام آخر کب بیدار ہونگے۔۔۔۔؟ چند خاندان پورے ملک کے تمام وسائل پر قابض ہیں ۔ عوام جانی و مالی نقصانات بہت پر سکون طور پر برداشت کر رہے ہیں۔ اتنی بے حسی شاید ہی آپکو کہیں اور نظر آئے سوائے پاکستان کے ۔
اتنے واقعات کے بعد بھی شہر میں ہنگامی حالات کیلئے کوئی ایمبولینس سروس موجود نہیں ہے۔
لعنت ہے ایسے حکمرانوں پر اور شہری انتظامیہ پر۔۔۔!
کوئٹہ کاسی روڈ اللہ ڈنہ اسٹریٹ گاڑی پر دہشتگردوں کی فائرنگ سے 5 افراد شہید 1 زخمی۔ جاں بحق افراد ہزار گنجی سبزی منڈی جا رہے تھے۔
شہیدہونے والے افراد کے نام
صالح محمد ولد عبدالحسن ( بڑیچ )
محمد علی ولد غلام سرور ( ہزارہ )خادم حسین ولد محمد علی ( ہزارہ )
سید سرور ولد سید حسین ( ہزارہ )
زخمی
احمد علی ولد شاہ نظر
نماز جنازہ علمدار روڈ نچاری امام بارہ گاہ میں ادا کرنے کے بعد شہداء کے جنازوں کیساتھ میزان چوک پر دھرنہ کے بعد شہدا کے جسد کو سپرد خاک کیلئے ہزارہ قبرستان بہشت زینب س میں دفن کیا جاۓ گا۔
جابر حسین













