سعودی عرب میں مبینہ کرپشن کے خلاف تاریخی کریک ڈاؤن کے دوران 11شہزادوں ،4موجودہ اور درجنوں سابق وزراء کو گرفتارکرلیا گیا ہے۔
چند گھنٹوں قبل بنائی گئی انسداد کرپشن کمیٹی نے راتوں رات کارروائی کرتے ہوئے گرفتاریاں کیں، کھرب پتی شہزادے ولید بن طلال، وزیر معیشت عادل فقیہ اورنیشنل گارڈ کے سربراہ شہزادہ مطعب بن عبداللہ بھی گرفتار کرلیا گیاجبکہ سعودی بحریہ کے سربراہ بھی فارغ کردیے گئے ۔
کریک ڈاؤن کے بعد سعودی اسٹاک مارکیٹ میں مندی چھاگئی اور پرنس الولید بن طلال کی کمپنی کے شیئر 10فیصد تک گر گئے ۔
مبینہ کرپشن میں گرفتار ہونےوالی اہم شخصیات اور ان پرلگائے گئے الزاما ت کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں کی گئی ۔
تاہم سابق بادشاہ عبداللہ کے بیٹے شہزادہ مطعب بن عبداللہ کی جگہ شہزادہ خالدایاف کو نیشنل گارڈکا سربراہ مقررکیاگیا ہے۔وزیرمعیشت عادل فقیہ کو بھی برطرف کرکےمحمدالتوایجری کوقلمدان سونپ دیاگیاہے۔
سعودی بحریہ کےکمانڈر عبداللہ السلطان کوبھی عہدےسےہٹاکر وائس ایڈمرل فہدالغافلی کاایڈمرل کی حیثیت سے تقررکردیاگیاہے ۔
ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے حکم پر مبینہ ملزمان کو ملک چھوڑنے سے روکنے کے لیے نجی پروازوں کوگراؤنڈ کردیا ہے۔
سرکاری میڈیاکےمطابق شاہی خاندان کےگرفتار3افرادمیں سےایک شہزادےکواسلحہ کی غیرقانونی تجارت دوسرےکومنی لانڈرنگ اورتیسرے شہزادےکوجعلی ٹینڈراورمالی خوردبردکرنے کےالزام میں گرفتارکیاگیاہے ۔
دوسری جانب سعودی علما نے بیان جاری کیا ہے جس کہا گیا ہےکہ کرپشن سےلڑنا اتنا ہی اہم ہے،جتنادہشت گردی سےلڑنا،کرپشن کے خلاف جنگ مذہبی فریضہ ہے۔
ادھرسعودی حکومت نے دہشت گردی کے خلاف نئےقوانین کابھی اعلان کیا ہے،دہشت گردی اوراسکی فنڈنگ کرنے والے کو سزائے موت دینے کا بھی امکان ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY