بھارت کی ریاست گجرات میں انتخابی مہم کے دوران وزیرِ اعظم نریندر مودی کی طرف سے اسلام آباد سے متعلق ایک بیان پر ردِ عمل میں پاکستانی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ بھارت پاکستان کو اپنی انتخابی مہم میں گھسیٹنے سے باز رہے۔

وزارتِ خارجہ کے ترجمان محمد فیصل نے پیر کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کہا کہ گجرات انتخابات میں پاکستان کی مداخلت کے الزامات ’’بے بنیاد اور غیر ذمہ دارانہ ہیں۔‘‘

بھارت کے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے جمعے کو گجرات میں ایک انتخابی مہم کے دوران حزبِ مخالف کی جماعت کانگریس کے رہنما مانی شنکر آئر پر کڑی تنقید کی تھی۔

نریندر مودی نے مانی شنکر پر الزام عائد کیا تھا کہ پاکستان سے لوگوں نے اُنھیں بتایا ہے کہ مودی کو راستے سے ہٹاؤ۔

اتوار کو ایک بار پھر بھارتی وزیرِ اعظم نے کانگریس کے رہنما پر تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ اُنھوں نے پاکستانی عہدیداروں سے خفیہ ملاقاتیں کیں۔

بھارتی وزیرِ اعظم نے الزام عائد کیا کہ پاکستانی فوج کے سابق ڈائریکٹر جنرل ارشد رفیق نے اصرار کیا کہ احمد پٹیل کو گجرات کا وزیرِ اعلیٰ بنایا جانا چاہیے۔

تاہم پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے پیر کو اپنے پیغام میں واضح کیا کہ پاکستان پر من گھڑت سازشوں کے الزامات کے بجائے بھارتی سیاست دان اپنی صلاحیتوں کی بنیاد پر انتخابات جیتیں۔

بھارتی ریاست کے انتخابات کو وزیرِ اعظم نریندر مودی کی حکومت کے لیے ایک کڑا چیلنج قرار دیا جا رہا ہے اور ریاست کی وزارتِ اعلیٰ پر کنٹرول کے لیے حکمران جماعت ‘بھارتیہ جنتا پارٹی’ (بی جے پی) کو سخت مقابلے کا سامنا ہے۔

اس ریاست کے انتخابات کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ گزشتہ دو ڈھائی ہفتوں کے دوران وزیرِ اعظم نریندر مودی نے گجرات میں 30 سے زائد جلسوں سے خطاب کیا۔

گجرات میں انتخابات کو راہول گاندھی کے سیاسی مستقبل کے لیے بھی ایک امتحان قرار دیا جا رہا ہے کیوں کہ وہ جلد ہی کانگریس پارٹی کی صدارت سنبھالنے جا رہے ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY