ہم گزشتہ مضمون میں حقوق العباد پر بات کرتے ہوئے حقوقِ ہمسائیگی پر پہونچے تھے۔ جن کے بارے میں آجکل ہم کچھ بھی نہیں جانتے, جبکہ ان کی ہمیت اتنی ہے کہ حضور(ص) فرمایا کہ“ مجھے ایک مرتبہ تو گمان گزرا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہمسایوں کو وراثت میں شامل کردیا جائے ۔ اس حدیث سے اسلام میں پڑیوسیوں کی ا ہمیت ظاہر ہوتی ہے۔ ایک دور تھا کہ مسلمانوں کا ہمسایہ ہونا فخر اور سکون قلب کی بات تھی اور اس جائیداد کی قیمت بڑھ جاتی تھی جو کسی مسلمان کی ہمسائیگی میں واقع ہوتی تھی۔ مجھے اسوقت نام یاد نہیں رہا ہے لیکن یہ بہت مشہور واقعہ ہے کہ ایک غیر مسلم ایک بزرگ کے ہمسائیگی میں رہتے تھے۔انہوں نے کسی وجہ سے اپنا گھر فروخت کرنا چاہا تواس کی قیمت بازار سے زیادہ مانگی ! خریدار نے پوچھا کہ تمہارا گھر بھی اوروں جیسا ہے وہی رقبہ ہے وہی مکانیت ہے پھر تم قیمت بازار سے زیادہ کیوں مانگ رہو؟ تو انہوں نے اس زائدرقم کے بارے میں ا نکشاف کیا کہ یہ فلاں مسلمان کے پڑوس میں ہے۔ مگر اب صورت حال اس سے قطعی مختلف ہے! کہ بہت سے یہاں کے مسلمانوںکے علاقے خود رہنا پسند نہیں کرتے۔
کسی نئے علاقے میں مسجد بنانے پر ہمسائے اعتراض کر تے ہیں اور یہاں پر اب اس کی اجازت لینا مشکل ہو تاجارہا ہے؟ کیونکہ جہاں مسجد بن جا ئے اس علاقے میں جائیداد کی قیمت گر جاتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اب وہ مسلمان نہیں رہے جو پہلے کبھی تھے۔اب ہم دوسروں کا خیال بالکل نہیں کرتے؟ کبھی آپ یورپین ملکوں میں سفر کریں تو آپ کو اللہ اگر توفیق دے تو مسجد میں نماز پڑھنے جمعہ یا عیدین کو چلے جا ئیں تو آپ دیکھیں گے کہ جس کا جہاں دل چاہے وہاں وہ اپنی کار پارک کر دیتا ہے۔ حتیٰ کہ فائر لائین جس پر گاڑی پارک کرنا جرم ہے اس لیے کہ وہ ہنگامی حالت کے لیئے ہوتی ہے؟ ایمبولیبنس بھی اسی راستے آتی جاتی ہے پولس کی گاڑی بھی اور فائر بریگیڈ اور دوسرا عملہ بھی اسی راستے کو استعمال کرتا ہے۔ پھر ذرا بقیہ پارکنگ ایریا کوچیک کر لیں۔ تو آپ دیکھیں گے کہ انہوں نے اس راستہ کو بھی بلاک کیاہوا ہے جس کے کہ دونوں طرف لوگوں نے اپنی کاریں پارک ہوئی ہیں۔ ایسی صورت میں اگر خدانخوستہ کسی کو دل کا دورہ پڑجائے مر جائے۔ یامسجد میں کوئی حادثہ ہو جا ئے تو کوئی مدد نہیں پہونچ سکتی؟ جبکہ فائر لائن پر پارک کرنے کا جرمانہ مسجد پر ہوتا ہے۔ کہ ا نکی اانتظامیہ نے اس کار کیوں نہیں اٹھوایا جو غلط پارکنگ کرنے پر انہیں فوراً اٹھوانا چاہیے تھا؟ جبکہ یہ ہی مسلمان کسی دوسری جگہ پر کار کبھی غلط پارک کرنے کی غلطی تک نہیں کرتے؟ کیونکہ پولیس دیکھتے ہی خود کار ٹھوادیتی ہے اور ایسا کرنے والوں کو جرمانہ بھی بھگتنا پڑتا ہے۔ اور جہاں وہ پھر لیجا کر کھڑی کی جاتی ہے۔ وہاں وہ لیجانے کا کرایہ بھی لیتے ہیں اور اپنے یہاں کھڑی کرنے کا کرایہ بھی؟ اب آپ پوچھ سکتے ہیں کہ مسجد کی انتظامیہ ان کے خلاف کاروائی کیوں نہیں کرتی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ بیچارے اندر لاؤڈ اسپیکر سے اپیل کرتے رہتے ہیں، مگر مسجد سے باہر یہاں آواز نہیں جاسکتی ، دوسرےان کی سنتا کون ہے۔ اگر خود جا کر کہیں تو پٹنے کا خطرہ ر ہتا ہے ۔ اور اگر ہمت کرکے زبانی جاکر سمجھائیں! تو لوگ جواب میں کہتے ہیں کہ“ مسجد کیا تمہارے باپ کی ہے خدا کاگھر ہے تم کون“۔ اور اگر ان کے خلاف قانونی کاروائی کریں تو اگلے انتخابات میں ووٹ نہیں ملیں گے؟ رہا یہ کہ پھر مسجد سے چمٹے کیوں رہنا چاہتے ہیں ؟یہاں دو جواب ہیں کہ کچھ لوگ تو واقعی ثواب کمانے کے لیے ذمہ داری لیتے ہیں۔ رہے باقی، وہ اپنا کوئی ا یجنڈا رکھتے ہیں، کچھ نہیں تو رعب تو پڑتا ہی ہے۔ اب رہے پڑوسی کیوں نالاں ہیں۔ وہ ان کے رات کے بارہ بجے آتے ، جاتے یا مسجد کے باہر کھڑے ہو کر باتیں کرنے کی وجہ سے تنگ رہتے ہیں ۔ پھر پارکنگ سے انکے گیراج اور راستےبھی محفوظ نہیں ہیں۔ اول تو لیٹ آتے ہیں پھر نمازکے لیے جماعت کھڑی دیکھ کر ان کے راستے اور پرکنگ بلاک کردیتے ہیں یہ سوچ کر کے ابھی کونسے آرہے ہیں، پھر باتوں میں وہ یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ وہ کار غلط جگہ پارک کرکے آئے ہیں۔ نتیجہ یہ کہ جب وہ اپنے تھکے ہوئے گھرآئیں اور گاڑی اٹھوانے کے لیے انتظامیہ کوکال کریں، اتنی دیر انہیں انتظار کرنا پڑتا ہے۔ اس طرح ہم ا یہاں دینِ اسلام کا سفیر بن کر اس کا نام روشن کر رہے ہیں ۔ جبکہ ہمیں کیسا اپنے فرائض کی ادئیگی میں کرنا چاہئے؟ آئندہ مضمون میں پڑھیے جو ہمارا دین ہمیں سکھاتا ہے۔ (باقی آئندہ)ٓ












