پوری دنیا میں یکم مئی مزدوروں کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ یہ دن امریکہ کے شہر شکاگو کے ان مزدوروں کی یاد دلاتا ہے جنہوں نے مزدور طبقے کے حقوق کیلئے اپنی جانیں قربان کردیں۔ شکاگو کے مزدوروں نے ایک پر امن جلوس نکالا اور مطالبہ کیا کہ ان کے کام کے اوقات چودہ گھنٹے سے کم کرکے آٹھ گھنٹے کئے جائیں۔ جلوس میں شریک مزدوروں کے ہاتھوں میں سفید پرچم تھے۔ پولیس نے سرمایہ داروں کے مفادات کا تحفظ کرنے کیلئے پر امن مزدوروں پر گولی چلادی۔ سینکڑوں مزدور ہلاک ہوگئے جبکہ چار لیبر لیڈروں کو پھانسی کی سزا سنائی گئی۔ ان میں سے ایک مزدور راہنما اینجل نے اپنے گلے میں پھانسی کا پھندا ڈالتے ہوئے کہا ’’سرمایہ دارو تم ہمیں مار سکتے ہو مگر ہماری تحریک کو ختم نہیں کرسکتے‘‘۔
شکاگو سے جنم لینے والی مزدور تحریک آج تک پوری دنیا میں چل رہی ہے۔ پاکستان میں مزدور تحریک ہمیشہ کمزور رہی ہے جس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ مزدوروں نے کبھی اتحاد کا مظاہرہ نہیں کیا حالانکہ انکے پاس کھونے کو کچھ نہیں جبکہ پانے کو سب کچھ ہے۔ حکومت اور سرمایہ داروں نے مزدوروں کے آپس کے انتشار سے ہمیشہ فائدہ اُٹھایا۔ انہوں نے متحارب اور مخالف ٹریڈ یونینز کو اپنے مفادات کیلئے استعمال کیا۔ مزدور راہنمائوں نے مزدور تحریک کو منظم کرنے کیلئے ٹھوس اقدامات نہیں کئے۔ انہوں نے مزدوروں کیلئے ٹریننگ سینٹر قائم نہیں کئے نہ ہی ریسرچ ورک میں دلچسپی لی۔ وہ مالی مشکلات کا بھی شکار رہے۔ چھانٹیوں، نجکاری اور کارخانے بند ہونے اور نئی صنعت نہ لگنے سے مزدوروں کی تعداد کم ہوتی گئی ۔ مزدور متحد اور طاقتور ہوتے تو یہ صورتحال نہ ہوتی۔ مزدوروں کے مقابلے میں صنعت کاروں کی ایک ہی مرکزی تنظیم ہے جو مؤثر طور پر اپنے مفادات کا دفاع کرتی ہے جبکہ مزدور مختلف یونینز اور فیڈریشن میں بٹے ہوئے ہیں اور ایک زبان ہوکر اپنے مطالبات تسلیم کرانے سے قاصر ہیں۔ مزدور تنظیمیں ماہرین اور پروفیشنلز کی راہنمائی بھی حاصل نہیں کرتیں جو ان کے کیس کا بہتر طور پر دفاع کرسکیں۔ پاکستان کے مزدور بے بس اور مجبور ہیں۔ مزدور کے گھر برسوں تک مزدور ہی پیدا ہورہے ہیں۔ جو کسان دھرتی کا سینہ چیر کر اناج اُگاتا ہے اسکے بچے نان جویں کو ترستے ہیں۔ کپڑا بننے والے مزدور کو اپنے بچوں کے تن ڈھانپنے کیلئے کپڑا میسر نہیں ہے۔ آج نوبت یہاں تک آن پہنچی ہے کہ مزدور اور محنت کش بھوک اور افلاس کی وجہ سے خودکشیاں کرنے پر مجبور ہیں حالانکہ مزدور ایک ایسی قوت ہیں جن کے دم سے زندگی کا کاروبار چل رہا ہے۔ مزدور اگر فیصلہ کرلیں اور اتحاد کا مظاہرہ کریں تو پاکستان میں ہر قسم کا پہیہ رُک جائے اور زندگی مفلوج ہوجائے۔

SHARE

LEAVE A REPLY