پی ٹی آئی نے کالعدم تنظیم کے سابق سربراہ سے انتخابات میں مدد مانگ لی

0
490

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی رہنما اور قومی اسمبلی کے حلقہ این اے-54 سے انتخابات میں حصہ لینے والے امیدوار اسد عمر نے اقوامِ متحدہ کی جانب سے کالعدم قرار دی جانے والی عسکری تنظیم کے سابق سرغنہ سے ہاتھ ملا لیا۔

اس سلسلے میں این اے -54 سے مسلم لیگ (ن) کے امیدوار انجم عقیل کے حریف امیدوار اسد عمر نے انصار الامہ کے مولانا فضل الرحمٰن خلیل سے ملاقات کی۔

اس حوالے سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پرموجود تحریک انصاف کے پیج ’این اے- 54 اسلام آباد‘ نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن خلیل نے پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کرلی۔

تاہم مولانا فضل الرحمٰن خلیل نے تحریک انصاف میں شمولیت کی سوشل میڈیا رپورٹ کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ وہ اور ان کے ساتھی پی ٹی آئی امیدوار کی حمایت کریں گے۔

خیال رہے کہ ڈیرہ غازی خان سے تعلق رکھنے والے مولانا فضل الرحمٰن خلیل اسلام آباد کے مضافات میں خالد بن ولید نامی مدرسہ قائم کر کے یہیں رہائش پذیر ہیں، جبکہ وہ انصارالامہ نامی تنظیم کے سربراہ بھی ہیں جو پاکستانی دفاع کونسل کا حصہ ہے۔

اس کے علاوہ مولانا فضل الرحمٰن خلیل 1980 میں شروع ہونے والے افغان جہاد کے بانیوں میں سے ہیں جبکہ حرکت المجاہدین الاسلامی بنانے والوں میں بھی شامل تھے، تاہم اب وہ انصارالامہ کی سربراہی کررہے ہیں جو حرکت المجاہدین کا ہی حصہ سمجھی جاتی ہے۔

وا ضح رہے کہ حرکت المجاہدین اور مولانا فضل الرحمٰن خلیل کو بین الاقوامی دہشت گرد قرار دیا جاچکا ہے، جبکہ ان کا نام فورتھ شیڈول میں بھی درج کیا گیا تاہم ان کا موجودہ اسٹیٹس غیر واضح ہے۔

یاد رہے کہ حرکت المجاہدین پر پاکستان میں بھی پابندی ہے، اس حوالے سے ان کے قریبی ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ مولانا فضل الرحمٰن خلیل کا نام فورتھ شیڈول میں شامل نہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمٰن خلیل اسد عمر کی ذاتی وجوہات کی بنا پر حمایت کررہے ہیں، ہم اسد عمر کے والد جنرل عمر صاحب کا احترام کرتے ہیں، وہ ایک دیانتدار آدمی تھے اور مولانا فضل الرحمٰن خلیل کے ان سے اچھے تعلقات تھے۔

دوسری جانب اسد عمر کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ فیس بک پر دی جانے والی معلومات غلط تھیں اور ان کی ٹیم سے غلطی سرزد ہوئی۔

ہم نے ایک اجلاس میں شرکت کی تھی جس میں اہل تشیع ، بریلوی مکتبہ فکر کے علاوہ دیگر علما بھی موجود تھے، ان کا مزید کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمٰن خلیل کبھی غیر قانونی سرگرمیوں میں شامل نہیں رہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY