پاکستان کے انتخابات، پی ٹی آئی وفاق کی بڑی جماعت

0
247

عوامی عدالت نے فیصلہ سنا دیا۔ منگل کو ہونے والے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کے ابتدائی غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق عمران خان نے میدان مار لیا ہے۔ رات گئے 38 فیصد موصولہ نتائج کے مطابق خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کو اکثریت حاصل ہے جبکہ پنجاب میں تحریک انصاف کا مسلم لیگ (ن) کے ساتھ سخت مقابلہ ہے۔ سندھ میں پیپلزپارٹی آگے ہے جبکہ بلوچستان میں بلوچستان عوامی پارٹی (باپ) کو برتری حاصل ہے۔ غیر حتمی اور غیر سرکاری ابتدائی نتائج کے مطابق قومی اسمبلی میں پاکستان تحریک انصاف 112، مسلم لیگ (ن) 64، پیپلزپارٹی 42، متحدہ مجلس عمل10، ایم کیو ایم8، جی ڈی اے 6 اور مسلم لیگ (ق) کو3؍ نشستوں پر برتری حاصل ہے۔ پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کو 132، تحریک انصاف کو 123، 28 نشستوں پر آزاد امیدواروں کو برتری حاصل ہے جبکہ پاکستان پیپلزپارٹی 6اور جیپ ایک نشست پر آگے ہے، سندھ میںپیپلزپارٹی 73، گرینڈ ڈیموکریٹک

الائنس( جی ڈی اے) 12، تحریک انصاف 22اور متحدہ قومی موومنٹ 20 نشستوں پر آگے ہے۔ خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کو 65، متحدہ مجلس عمل کو 5، اے این پی8،ن لیگ کو3 اور 5 نشستوں پر آزاد امیدواروںکو برتری حاصل ہے، بلوچستان میں بلوچستان عوامی پارٹی (باپ) 14، ایم ایم اے12 اور تحریک انصا ف کو 6 نشستوں پر برتری ہے۔ عمران خان، شہباز شریف کی کامیابی کی طرف پیشرفت، مولانافضل الرحمان، سراج الحق، طلال چوہدری، شازیہ مری پیچھے، شاہ محمود قریشی، سردار جعفر،پرویزخٹک سمیت دیگر امیدوار غیرحتمی کامیاب ہوگئے۔ تفصیلات کے مطابق عام انتخابات کے غیرحتمی اورغیرسرکاری نتائج کے مطابق قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کو برتری ملنے کا امکان ہے اس کے امیدوار112نشستوں پر اپنے مدمقابل امیدواروں سے آگے ہیں جبکہ (ن) لیگ کو 64 نشستوں پر برتری حاصل ہے، پیپلز پارٹی کو42، ایم ایم اے10 اور ایم کیو ایم8، جی ڈی اے6 اور ق لیگ کو3 نشستوں پر برتری حاصل ہے جبکہ 18 نشستوں پر آزاد امیدواروں کو برتری حاصل ہے۔پی ٹی آئی کے شاہ محمود حسین قریشی، سردار جعفر، صاحبزادہ صبغت اللہ، پرویزخٹک،عمران خٹک سمیت دیگر امیدوار غیرحتمی طور پرکامیاب ہوگئے ہیں جبکہ عمران خان، شہباز شریف اور دیگر امیدوارکامیابی کی طرف پیش رفت کررہے ہیں جبکہ مولانافضل الرحمان، سراج الحق، طلال چوہدری،شازیہ مری، نذر گوندل، سمیرا ملک اور اعجاز الحق دوسرے نمبر پرہیں۔قومی اسمبلی کی 272 میں سے 267 نشستوں کے غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق بی این پی مینگل 4، مسلم لیگ (ق)3، عوامی مسلم لیگ اور اے این پی کو ایک ایک نشست پر برتری حاصل ہے۔ رات گئے قومی اسمبلی کی 38 فیصد نتائج کے مطابق تحریک انصاف کو 112، مسلم لیگ (ن) 64، پیپلزپارٹی 42، ایم ایم اے 10، ایم کیو ایم 8، جی ڈی اے 6، ق لیگ 3، اے این پی ایک، اے پی ایم ایل ایک اور آزاد امیدوار 18 نشستوں پر برتری لیے ہوئے تھے۔ اسی طرح پنجاب اسمبلی کے 29 فیصد نتائج کے مطابق پنجاب میں مسلم لیگ (ن) 132، تحریک انصاف 123، پی پی 6، جیپ ایک اور آزاد امیدواروں کو 28 نشستوں پر برتری حاصل تھی۔ سندھ اسمبلی کے 18فیصد نتائج کے مطابق صوبے میں پیپلزپارٹی 70، تحریک انصاف 22، ایم کیو ایم 20، جی ڈی اے 12، ن لیگ 3، تحریک لبیک ایک نشست پر آگے تھی ۔ خیبرپختونخوا اسمبلی کے 26 فیصد نتائج کے مطابق صوبے میں پی ٹی آئی 65، اے این پی 8، ایم ایم اے 5، پیپلزپارٹی 3، ن لیگ 3 اور آزاد امیدوار 8 نشستوں پر برتری لیے ہوئے تھے۔ بلوچستان کی 18 فیصد نتائج کے مطابق صوبے میں بلوچستان عوامی پارٹی کو 14، ایم ایم اے 12، پی ٹی آئی 6، مسلم لیگ (ن) 4، اے این پی 6، جمہوری وطن پارٹی 2، بی این پی عوامی ایک،جیپ کے نشان پر لڑنے والے 4 امیدواروں کو برتری حاصل تھی۔ این اے5 اپردیر سے پی ٹی آئی کے صاحبزادہ صبغت اللہ 49299 ووٹ لیکر غیر حتمی نتیجے کےمطابق کامیاب ہوگئے ہیں جبکہ پی پی پی کے نجم الدین 28736 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔ این اے25 نوشہرہ 1 سے پی ٹی آئی کے پرویز خٹک 61243 ووٹ لیکر کامیاب ہوگئے جبکہ غیرحتمی نتائج کے مطابق ان کے مخالف اے این پی کے امیدوار جمعہ خان نے 40773 ووٹ حاصل کئے۔این اے 26 نوشہرہ2 سے پی ٹی آئی کے عمران خٹک 52376 ووٹ لیکر غیرحتمی طور پرکامیاب ہوگئے ان کے مدمقابل اے این پی کے امیدوارجمال خٹک نے 41678 ووٹ حاصل کئے۔پشاور کے حلقہ این اے 31 سے ملنے والے غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے شوکت علی 72 ہزار 822 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے ہیں۔ عوامی نیشنل پارٹی کے امیدوار الحاج غلام احمد بلور 40 ہزار 3 سو 72 ووٹ کیساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔این اے 95 میانوالی سے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان 38430 ووٹ لیکر آگے جبکہ ن لیگ کےعبیداللہ شادی خیل 8438 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر تھے جبکہ این اے 53 اسلام آباد میں بھی عمران خان 32232 ووٹ آکر آگے اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی 15007 ووٹ لیکر پیچھے تھے۔قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 150 خانیوال 1 میں آزاد امیدوار فخر امام 15870 ووٹ لیکرتحریک انصاف کے رضاحیات ہراج سے آگے ہیں جنہوں نےاب تک 12028 ووٹ حاصل کئے ہیں۔ این اے151 خانیوال 2 میں احمد یارہراج پی ٹی آئی نے2449 اور ن لیگ کے محمدخان ڈاہا نے2021 ووٹ حاصل کرکے دوسرے نمبرپرہیں۔ این اے152 میں ن لیگ کے پیراسلم بودلہ 14470 پی ٹی آئی کے پیرظہورحسین قریشی کے13240 کےمقابلے میں پہلے نمبر پر ہیں ۔این اے153 میں ن لیگ کے چوہدری افتخارنذیر16581 ووٹ لیکرپہلے اورپی ٹی آئی کے غلام مرتضیٰ میتلا 9041 کے ساتھ دوسرے نمبرپرہیں۔این اے154 ملتان سے سکندربوسن نے اب تک 19859 ووٹ حاصل کرکے آگے ہیں جبکہ ان کے مدمقابل پی ٹی آئی کے احمد حسین ڈیہڑ نے18623 ووٹ حاصل کئے ہیں۔ این اے155 ملتان میں اب تک کے34 فیصد ووٹوںکے نتائج کے مطابق پی ٹی آئی کے عامر ڈوگر 37428 ووٹ لیکر آگے اور مسلم لیگ ن کے امیدوار شیخ طارق رشید 32546 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر ہیں۔این اے156 ملتان سےتحریک انصاف کے سینئر نائب صدر شاہ محمود قریشی 93ہزار 497ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے ہیں ۔الیکشن 2018 کے غیر سرکاری پہلے مکمل نتیجے کے مطابق پی ٹی آئی کو پہلی فتح ملتان سے مل گئی ہے ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق شاہ محمود قریشی نے اپنےمقابل ن لیگی امیدوار عامر سعید انصاری کو 73ہزار 529 ووٹ حاصل کئے ۔این اے157 ملتان سےزین قریشی پی ٹی آئی 35778 ووٹ لیکر آگے اور پی پی پی کے سید علی موسیٰ گیلانی 33244 ووٹ لیکر پیچھے ہیں۔این اے 158 میں یوسف رضاگیلانی پی پی نے 18219 ووٹ حاصل کئے جبکہ ن لیگ کے جاوید علی شاہ 16685 ووٹ لیکر دوسرے نمبرپر تھے۔ این اے 159 میں محمد ذوالقرنین حیدرن لیگ 39067 کے ساتھ پہلے اور پی ٹی آئی کے رانا قاسم نون 36172 ووٹوں کےساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔این اے160 لودھراں میںن لیگ کے عبدالرحمان کانجو 27388ووٹ لیکر آگے اورپی ٹی آئی کے اختر کانجو24900 ووٹ لیکر پیچھے ہیں۔این اے 161 لودھراں میں ن لیگ کے صدیق بلوچ 9678 لیکر پہلے اور پی ٹی آئی کے میاں شفیق 17650 ووٹ لےکر پیچھے تھے۔این اے162 وہاڑی میں ن لیگ کے چوہدری فقیر احمد5224 ووٹ لیکر آگےاور آزاد امیدوارنذیرجٹ 4261 کے ساتھ پیچھے تھے۔این اے163 وہاڑی میں ن لیگ کے سیدساجدمہدی 25187 ووٹ لیکر آگے اور پی ٹی آئی کے اسحاق خاکوانی 17287 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر ہیں۔وہاڑی سے نمائندگان کے مطابق قومی حلقے این اے 164 وہاڑی تھری میں 50 پولنگ اسٹیشنز کے مطابق تحریک انصاف کے طاہراقبال چوہدری 15202 ووٹ لیکر برتری لئے ہوئے ہیں جبکہ مسلم لیگ (ن) کی تہمینہ دولتانہ نے 10480، آزاد امیدوار رانا صغیر احمد گڈو4274، آزاد امیدوار نعیم احمد خان بھابھہ نے آخری اطلاعات تک 1943 ووٹ لئے ، این اے 163 وہاڑی ٹو میں 37 پولنگ سٹیشنوں کے نتائج کے مطابق مسلم لیگ ن کے سید ساجد مہدی سلیم 18944 ووٹ لیکر پہلے نمبر، پی ٹی آئی کے اسحاق خاکوانی 8353 ووٹ کیساتھ دوسرے جبکہ پیپلز پارٹی کی نتاشہ دولتانہ نے 4071 ووٹ لئے تھے۔این اے 165 میں تحریک انصاف کے اورنگزیب خان کھچی 22615 ووٹ کیساتھ سرفہرست جبکہ مسلم لیگ ن کے سعید احمد خان منیس 10421 کیساتھ دوسرے نمبر پر تھے۔ این اے171 بہاولپور2میں سابق وفاقی وزیر میاں ریاض حسین پیرزادہ 19002 ووٹ لیکر آگے اورپی ٹی آئی کے نعیم الدین وڑائچ 13838 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر ہیں۔این اے 172بہاولپور3میں مسلم لیگ ق کے طارق بشیر چیمہ 17800 ووٹ لیکر آگے اورن لیگ کے چوہدری سعود مجید کے 11950 ووٹ لیکر پیچھے ہیں۔این اے 173 بہاولپور4 میں ن لیگ کے نجیب الدین اویسی 7449 ووٹ لیکر اب تک آگے جبکہ پی پی کے علی حسن گیلانی 5257 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر ہیں۔این اے174 سمیع گیلانی آگے اور آزاد امیدوار پرنس بہاول عباسی دوسرے نمبر پر ہیں۔ این اے 177 رحیم یار خان 3 سے مخدوم خسرو بختیار25883ووٹ لیکر آگے ہیں جبکہ پی پی کے امیدوار مخدوم شہاب الدین نے اب تک 12862ووٹ حاصل کئے ہیں۔این اے 180 رحیم یار خان5 میں اب تک کے نتیجے کےمطابق پی پی پی کے مرتضیٰ محمود 9766 ووٹ لےکر آگے اور ن لیگ کے امیدواردوسرے نمبر پرہیں۔این اے 183 مظفرگڑھ سے پی ٹی آئی کے رفیق کھر 8702 ووٹ لیکر پہلے نمبر پر اور پی پی پی کے رضا ربانی کھر418 ووٹ لیکر ان سے پیچھے ہیں۔این اے185 مظفرگڑھ5 سے آزاد امیدوار باسط سلطان بخاری 28738 ووٹ لیکر آگے اور پی ٹی آئی کے معظم جتوئی 14895 ووٹ لیکر پیچھے ہیں۔ این اے191ڈیرہ غازی خان میں پی ٹی آئی کی زرتاج گل اخوند اب تک کے نتائج کے مطابق 31489 ووٹ لیکر آگے اور ن لیگ کے اویس لغاری 14658 ووٹ لیکر پیچھے ہیں۔ راجن پور سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 193 کے غیر سرکاری اور غیر حتمی نتیجے کے مطابق پی ٹی آئی کے امیدوار جعفر خان لغاری 87915 ووٹ حاصل کر کے کامیاب رہے جبکہ انکے مدمقابل آزاد امیدوار سردار شیر علی گورچانی ناکام رہے۔ انہوں نے55409 ووٹ حاصل کئے۔این اے194 راجن پور میں حفیظ دریشک آزاد امیدوار نے8089 ووٹ حاصل کئے جبکہ پی ٹی آئی کے نصراللہ دریشک 7446 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر ہیں۔سجاول این اے 231 سے ملنے والے غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان پیپلزپارٹی کے سید ایاز علی شاہ شیرازی 80 ہزار 7 سو 25 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے ہیں۔ ان کے مقابلے میں متحدہ مجلس عمل کے امیدوار مولوی محمد صالح الحداد 7956 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے ہیں۔ اس حلقے میں پیپلزپارٹی کے امیدوار نے واضح اکثریت حاصل کی ہے۔ سندھ اسمبلی کے حلقہ پی ایس 75سجاول 1 میں پاکستان پیپلزپارٹی کے امیدوارسیدشاہ حسین شاہ شیرازی 27615 ووٹ لیکر کامیاب ہوگئے ہیں۔خیبرپختونخوا اسمبلی کے حلقہ پی کے11 اپر دیر سے پی پی پی کے صاحبزادہ ثناء اللہ 19475 ووٹ لیکر کامیاب ہوگئے جبکہ متحدہ مجلس عمل کے اعظم خان 10263 ووٹ لیکر دوسرےنمبرپر رہے۔خیبرپختونخوا اسمبلی کے حلقہ پی کے29 بٹگرام 2 کے غیرحتمی نتائج کے مطابق پی ٹی آئی کے تاج محمد خان 16754 ووٹ لیکر کامیاب ہوگئے جبکہ متحدہ مجلس عمل کے امیدوار 12054 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔پی کے31 مانسہرہ 2 سے پی ٹی آئی کے بابرسلیم سواتی 38814 ووٹ لیکر کامیاب ہوگئے۔بلوچستان اسمبلی کے حلقہ پی بی پنجگور1 سے بی این پی اے کے امیدوار اسداللہ 21020 ووٹ لیکر غیرحتمی طور پر کامیاب ہوگئے، انکے مدمقابل بی این پی کے امیدوار زاہد حسین 10160 ووٹ حاصل کر سکے۔ پی بی 44 پنجگورکےغیرحتمی غیرسرکاری نتیجے کے مطابق بلوچستان عوامی پارٹی کے میرعبدالقدوس بزنجو 7400 ووٹ لے کرکامیاب ہوگئے۔ غیرحتمی غیرسرکاری نتیجے کے مطابق پی پی 200 ساہیوال5 سے مسلم لیگ ن کے رانا ریاض احمد خان نے43694 ووٹ لیکر کامیاب ہوگئے جبکہ ان کے مدمقابل پی ٹی آئی کے امیدوار حاجی وحید اصغر ڈوگر 39315 ووٹ حاصل کر سکے۔ساہیوال سے صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی پی 201 سے پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار رائے مرتضیٰ اقبال 44221 ووٹ لے کر کامیاب رہے جبکہ ان کے مدِمقابل کوئی بھی امیدوار خاطر خواہ ووٹ حاصل نہیں کر سکا۔پی پی 254 میں پی پی پی کے علی حسن گیلانی تیسرے نمبر پر ہیں۔36 پولنگ اسٹیشنز کےغیرحتمی نتائج کے مطابق آزاد امیدوارعارف عزیز شیخ پہلے اور پی ٹی آئی کے مخدوم افتخار گیلانی دوسرے نمبرپرتھے۔پی پی 284 لیہ سٹی میں پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ سید رفاقت گیلانی آزادامیدوار کی حیثیت سے 22012 ووٹ لیکر کامیاب ہوگئے جبکہ آزاد امیدواورملک ہاشم سہو 13102 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔ راجن پور سے صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی پی 295 سے ملنے والے غیر حتمی سر غیر سرکاری نتائج کے مطابق پی ٹی آئی کے سردار فاروق امان اللہ خان دریشک 57414 ووٹ حاصل کر کے کامیاب رہے جبکہ ان کے مدمقابل آزاد امیدوار سردار پرویز اقبال گورچانی ہار گئے۔پنجاب اسمبلی حلقے پی پی 232 کے 43 پولنگ اسٹیشنوں میں مسلم لیگ ن کے بلال اکبر بھٹی نے 7796، تحریک انصاف کے اعجاز سلطان 11251 ووٹ ، آزاد امیدوار ملک نوشیر 5162 جبکہ علی وقاص ہنجرا کے 6020 ووٹ تھے، پی پی 233 میں پی ٹی آئی کے رائے ظہور احمد کھرل 5341 ووٹوں کیساتھ برتری لئے ہوئے تھے جبکہ انکے مدمقابل آزاد امیدوار خرم نذر نے 2724، سعید احمد خان منہیس نے 1231 ووٹ لئے۔وہاڑی ہی کے پی پی 236 میںکل 139 پولنگ اسٹیشنوں میں سے 22 پولنگ اسٹیشنوں کے نتائج کے مطابق تحریک انصاف کے جہانزیب خان کھچی نے 11688 جبکہ مسلم لیگ ن کے اظہراحمد خان یوسفزئی نے 7868 ووٹ لئے۔پی پی 235 پرکل 159پولنگ اسٹیشنوں کے 14 پولنگ اسٹیشنوں کے نتائج میں پی ٹی آئی کے علی رضا خان خاکوانی 5913 ووٹوں کیساتھ پہلے نمبر پر تھے جبکہ ن لیگ کے آصف سعید منیس نے 3154 ووٹ لئے۔ آخری اطلاعات تک آنے والے نتائج کے مطابق محمد میاں سومرو،عمر ایوب خان،منظوروٹو، شہباز شریف، احسن اقبال اورلیاقت جتوئی اپنے مدمقابل امیدواروں کے مقابلے میں آگے تھے جبکہ مولانا فضل الرحمان، طلال چوہدری، شازیہ مری، نذر گوندل، سمیرا ملک اور اعجاز الحق دوسرے نمبر پر جدوجہد کر رہے تھے۔این اے 16 بٹ خیلہ 2؍ سے تحریک انصاف کے علی خان جدون 91770 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے۔ ان کے مدمقابل ن لیگ کے مہابت خان نے 57995 ووٹ حاصل کیے۔ این اے 17 ہری پور سے تحریک انصاف کے عمر ایوب نے 166786 ووٹ لیکر میدان مار لیا۔ ان کے مدمقابل ن لیگ کے بابر نواز خان نے 149292 ووٹ لیے۔ این اے 43 سے پی ٹی آئی کے نور الحق قادری 32000 ووٹ لے کر فاتح رہے۔ ان کے مدمقابل آزاد امیدوار شاہ جی گل آفریدی نے 25000 ووٹ حاصل کیے۔این اے 155ملتان نے ملک محمد عامر ڈوگر 88567 ووٹ لے کر جیت گئے۔ ن لیگ کے عامر سعید انصاری نے 74624 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔ اسلام آباد اور راولپنڈی میں بھی تحریک انصاف کے امیدواروں کو اپنے مد مقابل امیدواروں پر برتری حاصل کی ۔ حلقہ این اے 52 سے پی ٹی آئی کے راجہ خرم شہزاد ، این اے 53 سے عمران خان اور این اے 54 سے اسد عمر کو برتری حاصل ہوئی ۔ اسی طرح راولپنڈی کے حلقوں این اے 57 سے 63 میں بھی پی ٹی آئی کے امیدواروں نے برتری حاصل کی اسی طرح ان کے اتحادی شیخ رشید کو بھی برتری حاصل ہے۔کراچی کی قومی اسمبلی کی 21؍ نشستوں میں سے 12؍ سیٹوں پر تحریک انصاف، 6؍ پر ایم کیو ایم اور 3؍ پر پیپلزپارٹی کو برتری حاصل ہے۔لاہور کی قومی اسمبلی کی 14؍ نشستوں میں 9؍ پر ن لیگ اور 5؍ پر تحریک انصاف کو برتری حاصل ہے۔ رات گئے آمد اطلاعات کے مطابق این اے 245 سے تحریک انصاف کے امیدوار عامر لیاقت 17314 ووٹ لے کر آگے تھے جبکہ ان کے مدمقابل ایم کیو ایم پاکستان کے فاروق ستار 8431 ووٹ لے کر دوسرے نمبر تھے۔

پہلا مکمل نتیجہ پاکستان کے وقت کے مطابق رات سوا دس بجے۔ این اے ایک سو چھپن ملتان تھری۔۔۔ پی ٹی آئی کے شام محمود قریشی نے مسلم لیگ ن کے عامر سعید انصاری کو ہرا دیا

تحریک انصاف کے سینئر نائب صدر شاہ محمود قریشی این اے 156 ملتان3 سے93ہزار 500 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے ہیں۔

الیکشن 2018 کے پہلے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق تحریک انصاف نے پہلی مکمل فتح ملتان سے حاصل کرلی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق شاہ محمود قریشی نے اپنےمقابل ن لیگی امیدوار عامر سعید انصاری کو 74ہزار 624 ووٹ حاصل کئے

ساہیوال سے صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی پی 201 سے پاکستان تحریک اںصاف کے امیدوار رائے مرتضیٰ اقبال 44221 ووٹ لے کر کامیاب رہے جبکہ ان کے مدِمقابل کوئی بھی امیدوار خاطر خواہ ووٹ حاصل نہیں کر سکا۔

راجن پور سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 193 کے غیر سرکاری اور غیر حتمی نتیجے کے مطابق پی ٹی آئی کے امیدوار جعفر خان لغاری 87915 ووٹ حاصل کر کے کامیاب رہے جبکہ ان کے مدمقابل آزاد امیدوار سردار شیر علی گورچانی ناکام رہے۔

راجن پور سے صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی پی 295 سے ملنے والے غیر حتمی سر غیر سرکاری نتائج کے مطابق پی ٹی آئی کے سردار فاروق امان اللہ خان دریشک 57414 ووٹ حاصل کر کے کامیاب رہے جبکہ ان کے مدمقابل آزاد امیدوار سردار پرویز اقبال گورچانی ہار گئے۔

سجاول این اے 231 سے ملنے والے غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان پیپلزپارٹی کے سید ایاز علی شاہ شیرازی 80 ہزار 7 سو 25 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے ہیں۔ ان کے مقابلے میں متحدہ مجلس عمل کے امیدوار مولوی محمد صالح الحداد 7956 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے ہیں۔ اس حلقے میں پیپلزپارٹی کے امیدوار نے واضح اکثریت حاصل کی ہے۔

پشاور کے حلقہ این اے 31 سے ملنے والے غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے شوکت علی 72 ہزار 822 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے ہیں۔ عوامی نیشنل پارٹی کے امیدوار الحاج غلام احمد بلور 40 ہزار 3 سو 72 ووٹ کیساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔

غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق ساہیوال سے صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی پی 200 سے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے امیدوار رانا ریاض احمد خان 43694 ووٹ لے کر کامیاب رہے جبکہ ان کے مدمقابل پی ٹی آئی کے امیدوار حاجی وحید اصغر ڈوگر 39315 ووٹ حاصل کر سکے۔

خیبر پختونخوا کی اسمبلی کے حلقہ پی کے 29 بٹگرام کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار تاج محمد خان 16754 کامیاب رہے۔

غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج کے مطابق پی کے 31 مانسہرہ سے پی ٹی آئی امیدوار بابر سلیم سواتی 38814 ووٹ لے کر اپنے مدمقابل امیدواروں کے مقابلے میں کامیاب رہے۔بلوچستان اسمبلی کے حلقہ پی بی 43 پنجگور سے بی این پی اے کے امیدوار اسد اللہ 21020 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے، ابھی یہ نتیجہ غیر سرکاری اور غیر حتمی ہے۔ ان کے مدمقابل بی این پی کے امیدوار زاہد حسین 10160 ووٹ حاصل کر سکے۔

پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 202 ساہیوال سے حاصل ہونے والے غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج کے مطابق پی ٹی آئی کے امیدوار ملک نعمان احمد لنگڑیال 45132 ووٹ حاصل کر کے کامیاب ہو گئے ہیں۔

دنیا نیوز کو موصول غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پی کے 12 اپر دیر سے ایم ایم اے کے امیدوار عنایت اللہ 22327 ووٹ حاصل کر کے کامیاب رہے۔

بلوچستان اسمبلی کے حلقہ پی بی 44 پنجگور ایک سے سابق وزیرِاعلیٰ میر عبدالقدوس بزنجو کامیاب رہے، انہوں نے اپنے مخالف امیدواروں کے مقابلے میں 7400 ووٹ حاصل کیے۔

غیر حتمی نتائج کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کے حلقہ پی کے 22 بونیر تین سے اے این پی کے امیدوار سردار حسین 21918 ووٹ حاصل کر کے کامیاب رہے۔

خیبر پختونخوا اسمبلی کے حلقہ پی کے 84 ہنگو دو سے پاکستان تحریکِ انصاف کے امیدوار محمد ظہور 8000 ووٹ لے کر کامیاب رہے۔

غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق خیبر پختونخوا کے حلقہ پی کے 9، سوات آٹھ سے پاکستان تحریکِ اںصاف کے امیدوار محمود خان 17251 ووٹ حاصل کر کے کامیاب قرار پائے ہیں۔

قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 25 نوشہرہ ون سے پی ٹی آئی کے امیدوار اور سابق وزیرِاعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک 61243 ووٹ حاصل کر کے کامیاب رہے۔

ٹنڈوالہ یار سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 224 سے پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار ذوالفقار بچانی غیر حتمی اور غیر سرکاری نتیجے کے مطابق 47081 ووٹ حاصل کر کے کامیاب رہے۔

پی کے 11 اپر دیر دو سے پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار صاحبزادہ ثناء اللہ نے 18672 ووٹ حاصل کر کے کامیابی حاصل کی جبکہ ان کے مدمقابل ایم ایم اے کے امیدوار اعظم خان کے حصے میں 10395 ووٹ آئے۔

پی کے 10 اپر دیر ون سے پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار ملک بادشاہ حالح 19030 ووٹ حاصل کر کے کامیاب رہے جبکہ ان کے مدمقابل ایم ایم اے کے امیدوار محمد علی نے 16001 ووٹ حاصل کیے۔

پی پی 284 لیہ پانچ سے آزاد امیدوار سید رفاقت علی گیلانی 22012 ووٹ حاصل کر کے کامیاب رہے جبکہ ان کے مدمقابل آزاد امیدوار ہاشم حسین 13102 ووٹ حاصل کر کے دوسرے نمبر پر رہے۔

پی پی 246 بہاولپور ٹو سے پاکستان تحریکِ انصاف کے امیدوار سمیع اللہ چودھری 40780 ووٹ حاصل کر کے کامیاب رہے جبکہ ان کے مدمقابل مسلم لیگ ن کے امیدوار 24413 ووٹ حاصل کر سکے۔

قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 155 ملتان ٹو سے ملک محمد عامر ڈوگر 88567 ووٹ حاصل کر کے کامیاب رہے جبکہ ان کے مدمقابل ن لیگ کے امیدوار محمد طارق رشید 71456 ووٹ حاصل کر سکے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق شام سات بجے سے پہلے نتائج کے اعلان پر پابندی تھی تا ہم کچھ ٹی وی چینلز نے اعلانات کیئے جسکا پیمرا نے نوٹس لیا ہے

تازہ نتائج کے لیئے یہاں کلک کیجئے

click to watch latest results

این اے 149: مسلم لیگ ن کے چودھری طفیل جٹ 1193 ووٹ لے کر آگے، پی ٹی آئی کے مرتضیٰ اقبال 1121 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر

این اے 177: پی ٹی آئی کے مخدوم خسرو بختیار 2546 ووٹ لے کر آگے، پیپلز پارٹی کے شہاب الدین 848 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر، مسلم لیگ ن کے معین الدین 541 ووٹ لے کر تیسرے نمبر پر

این اے 107: تحریک انصاف کے شیخ خرم 460 ووٹ لے کر آگے، مسلم لیگ ن کے حاجی محمد اکرم 380 ووٹ لے کر دوسرے نمبر

این اے 129: مسلم لیگ ن کے سردار ایاز صادق 225 ووٹ لے کر آگے، پاکستان تحریک انصاف کے عبدالعلیم خان 140 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر

این اے 248: پیپلز پارٹی کے عبدالقادر پٹیل 390 ووٹ لے کر آگے، ٹی ایل پی کے اصغر محمود 155 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر، تحریک انصاف کے سردار عبدالعزیز نے 85 ووٹ حاصل کیے۔

این اے 109: مسلم لیگ ن کے عبدالمنان 343 ووٹ لے کر آگے، تحریک انصاف کے فیض اللہ کموکا 294 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر

این اے 128 کے پولنگ سٹیشن میں صرف ایک ووٹ کاسٹ ہو سکا، تحریک انصاف کے غلام محمد لالی نے اکلوتا ووٹ حاصل کیا۔

این اے 130: پی ٹی آئی کے شفقت محمود 784 ووٹ لے کر آگے، مسلم لیگ ن کے خواجہ احمد حسان 443 ووٹ لے کر دوسرےنمبر پر

این اے 241: ایم کیو ایم کے معین عامر پیرزادہ 178 ووٹ لے کر آگے، تحریک لبیک کے طاہر اقبال نے 67 ووٹ حاصل کیے، پی ایس پی کے محمد دانش خان 56 ووٹ حاصل کر سکے۔

این اے 9: مسلم لیگ ن کے کامران خان 300 ووٹ لے کر آگے، ایم ایم اے کے استقیل خان 70 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر، تحریک انصاف کے شیر اکبر خان نے 36 حاصل کیے۔

این اے 259: آزاد امیدوار میر طارق محمود 353 ووٹ لے کر آگے، پیپلز پارٹی کے میر باز محمد خان 265 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر

این اے 246: پیپلز پارٹی کے بلاول بھٹو 1755 ووٹ لے کر آگے، تحریک انصاف کے عبدالشکور 1144 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر

این اے 136: پی ٹی آئی کے ملک اسد کھوکھر 711 ووٹ لے کر آگے، مسلم لیگ ن کے افضل کھوکھر 201 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر

این اے 154: آزاد امیدوار سکندر بوسن 3910 ووٹ لے کر آگے، پیپلز پارٹی کے عبدالقادر گیلانی 3267 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر، پی ٹی آئی کے احمد حسین 2143 ووٹ لیکر تیسرے نمبر پر
این اے 220: تحریک انصاف کے شاہ محمود قریشی 92 ووٹ لے کر آگے، پیپلزپارٹی کے یوسف تالپر 65 ووٹ حاصل کر کے دوسرے نمبر پر

این اے 178: پیپلز پارٹی کے مخدوم مصطفیٰ محمود 1967 ووٹ لے کر آگے، مسلم لیگ ن کے طارق چوہان 334 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر، پی ٹی آئی کے رئیس محبوب 180 ووٹ لے کر تیسرے نمبر پر

این اے 212: پاکستان پیپلز پارٹی کے ذوالفقار علی 513 ووٹ لے کر آگے، جی ڈی اے کے غلام مرتضیٰ جتوئی 371 ووٹ حاصل کر کے دوسرے نمبر پر

این اے 135: پی ٹی آئی کے کرامت کھوکھر 554 ووٹ لے کے پہلے نمبر پر، مسلم لیگ ن کے سیف الملوک کھوکھر 540 ووٹ لے کر دوسرے نمبر

این اے 78: تحریک انصاف کے ابرار الحق 1431 ووٹ لے کر آگے، مسلم لیگ (ن) کے احسن اقبال 1109 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر

این اے 10: ایم ایم اے کے امیدوار امیر سلطان 134 ووٹ لے کر آگے، مسلم لیگ ن کے ڈاکٹر عباد اللہ 99 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر

این اے 68: مسلم لیگ ق کے حسین الہٰی 125 ووٹ لے کر آگے، مسلم لیگ ن کے غضنفر علی گل 85 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر

این اے 66: تحریک انصاف کے فرخ الطاف 146 ووٹ لے کر آگے، مسلم لیگ (ن) کے چودھری ندیم خادم نے 85 ووٹ حاصل کیے

این اے 195: تحریک انصاف کے ریاض محمود مزاری 2340 ووٹ لے کر آگے، مسلم لیگ ن کے خضر حسین مزاری 1500 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر

این اے 142: تحریک انصاف کے راؤ سکندر 288 ووٹ لے کر آگے، مسلم لیگ (ن) کے ریاض الحق 191 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر

این اے 194: تحریک انصاف کے نصراللہ دریشک 2590 لے کر آگے، آزاد امیدوار حفیظ الرحمان دریشک 2070 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر

این اے 174: آزاد امیدوار بہاول عباسی 213 ووٹ لے کر آگے، پی ٹی آئی کے سمیع الحسن گیلانی 37 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر

این اے 193: تحریک انصاف کے جعفر خان لغاری 2700 ووٹ لے کر آگے، آزاد امیدوار شیر علی گورچانی 1400 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر

این اے 94: تحریک انصاف کے احسان اللہ ٹوانہ 626 ووٹ لے کر آگے، مسلم لیگ (ن) کے شاکر بشیر اعوان نے 156 ووٹ حاصل کیے

این اے 30: پی ٹی آئی کے ارباب شیر علی 51 ووٹ لے کر آگے، ایم ایم اے کے ارباب نجیب 35 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر

این اے 196: پیپلز پارٹی کے امیدوار اعجاز جاکھرانی 230 ووٹ لے کر آگے، پی ٹی آئی کے میاں محمد سومرو 145 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر

این اے 243: تحریک انصاف کے عمران خان 278 ووٹوں کے ساتھ سرفہرست، متحدہ قومی موومنٹ کے علی رضا عابدی 180 ووٹوں کے ساتھ دوسرے، متحدہ مجلس عمل کے اسامہ رضی 150ووٹوں کے ساتھ تیسرے، پیپلز پارٹی کی شہلا رضا 45 ووٹوں کے ساتھ چوتھے نمبر پر

این اے 205: آزاد امیدوار علی محمد خان 482 ووٹ لے کر آگے، پیپلز پارٹی کے احسان اللہ 198 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر

این اے 253: پی ایس پی کے مصطفیٰ کمال 60 ووٹ لے کر آگے، ایم کیو ایم کے اسامہ قادری 55 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر

این اے 122: تحریک انصاف کے علی سلمان 201 ووٹ لے کر آگے، پاکستان مسلم لیگ ن کے سردار محمد عرفان ڈوگر 192 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر، آزار امیدوار رائے اعجاز احمد 65 ووٹ لے کر تیسرے نمبر پر

این اے 187: تحریک انصاف کے عبدالمجید نیازی 2732 ووٹ لے کر آگے، آزاد امیدوار بہادر خان سیہڑ 2276 لے کر دوسرے نمبر پر، مسلم لیگ (ن) کے فیض الحسن 1820 ووٹوں کے ساتھ تسیرے نمبر پر

این اے 205: آزاد امیدوار سردار علی محمد مہر 393 ووٹ لے کر آگے، پیپلز پارٹی کے احسان اللہ سندرانی 55 ووٹ حاصل کر کے دوسرے نمبر پر

این اے 152: تحریک انصاف کے ظہور حسین قریشی 310 ووٹ لے کر آگے، میاں اسلم بودلا 80 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر

این اے 249: مسلم لیگ (ن) کے میاں شہباز شریف 817 ووٹ لے کر آگے، تحریک انصاف کے فیصل واوڈا نے 345 ووٹ حاصل کر کے دوسرے نمبر پر

این اے 223: پیپلز پارٹی کے مخدوم جمیل الزماں 5148 ووٹ لے کر آگے، جی ڈی اے کے مخدوم افضل حسین 2274 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر

این اے 117: تحریک انصاف کے بلال احمد ورک 8 ہزار 941 ووٹ لے کر آگے، آزاد امیدوار طارق محمود باجوہ 4 ہزار 295 ووٹ لے کر دوسرے، مسلم لیگ ن کے برجیس طاہر 3 ہزار 237 ووٹ لے کر تیسرے نمبر پر

این اے 86: ن لیگ کے ناصر اقبال بوسال 21107 ووٹوں کے ساتھ پہلے نمبر پر، پی ٹی آئی کے نظر محمد گوندل 15315 ووٹ حاصل کر کے دوسرے نمبر پر

این اے 240: ایم کیو ایم کے اقبال محمد علی 4280 ووٹ لے کر سرفہرست، تحریک انصاف کے فرخ منظور 2015 ووٹ لے کر دوسرے، مہاجر قومی موومنٹ کے آفاق شفقت 1200 ووٹ لے کر تیسرے نمبر پر

این 156: تحریک انصاف کے شاہ محمود قریشی 5 ہزار 251 ووٹ لے کر آگے، مسلم لیگ ن کے عامر سعید 3 ہزار 942 ووٹ لے کر پیچھے

این اے 158: پیپلز پارٹی کے یوسف گیلانی 1459 ووٹ لے کر آگے، مسلم لیگ ن کے جاوید شاہ 1378 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر، تحریک انصاف کے ابراہیم خان 1246 ووٹ لے کر تیسرے نمبر پر

این اے 175: تحریک انصاف کے سید مبین احمد 1057 ووٹ لے کر آگے، پاکستان پیپلز پارٹی کے غلام رسول کوریجہ 1154 ووٹ لے کر دوسرے،آزاد امیدوار سید حامد کاظمی 789 ووٹ حاصل کر کے دوسرے نمبر پر

این اے 8: تحریک انصاف کے جنید اکبر 3 ہزار 343 ووٹ لے کر آگے، بلاول بھٹو 1 ہزار 757 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر

این اے 74: پی ٹی آئی کے غلام عباس 7656 ووٹ لے کر آگے، مسلم لیگ ن کے علی زاہد حامد 3960 ووٹلے کر دوسرے نمبر پر

این اے 236: پیپلز پارٹی کے جام عبدالکریم بجار 6400 ووٹ لے کر پہلے، تحریک انصاف کے مسرور سیال 2907 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔

این اے37: ایم ایم اے کے اسد محمود 3111 ووٹ لے کر آگے، آزاد امیدوار داور خان کنڈی 1993 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر، تحریک انصاف کے حبیب اللہ خان 1640 ووٹ لے کر تیسرے نمبر پر

این اے 70: تحریک انصاف کے سید فیض الحسن 7559 ووٹ لے کر آگے، مسلم لیگ (ن) کے جعفر اقبال نے 3825 ووٹ حاصل کیے

این اے 129: مسلم لیگ ن کے سردار ایاز صادق 225 ووٹ لے کر آگے، تحریک انصاف کے عبدالعلیم خان 140 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر

این اے 82: تحریک انصاف کے علی اشرف 14 ہزار 567 ووٹ حاصل کر کے آگے، مسلم لیگ (ن) کے عثمان ابراہیم 14 ہزار 567 ووٹ حاصل کر کے دوسرے نمبر پر

این اے 38: پی ٹی آئی کے علی امین گنڈا پور 3452 ووٹ لے کر آگے، ایم ایم اے کے مولانا فضل الرحمان 3015 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر

این اے 228: پیپلز پارٹی کے سید نوید قمر 10281 ووٹ لے کر آگے، جی ڈی اے کے میر علی نواز تالپور 4157 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر

این اے 22: تحریک انصاف کے علی محمد خان 7187 ووٹ لے کر آگے، ایم ایم اے کے محمد قاسم 6231 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر

این اے 270: بی این پی کے میر نذیر احمد بلوچ 288 ووٹ لے کر آگے، بی این پی عوامی کے محمد حنیف 248 ووٹ لے کر پیچھے

این اے 35: پی ٹی آئی کے عمران خان 7193 ووٹ لے کر آگے، ایم ایم اے کے اکرم خان درانی 5355 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر

این اے 106: پی ٹی آئی کے نثار احمد 2691 ووٹ لے کر آگے، ن لیگ کے رانا ثناء 2265 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر

این اے 162: آزاد امیدوار عائشہ نذیر جٹ 2 ہزار 165 ووٹ لے کر آگے، مسلم لیگ ن کے فقیر حسین 2 ہزار 15 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر، پی ٹی آئی کے خالد محمود چوہان 1 ہزار 988 ووٹ لے کر تیسرے نمبر پر

این اے 17: تحریک انصاف کے عمر ایوب خان 10 ہزار 606 ووٹ لے کر آگے، مسلم لیگ (ن) کے بابر نواز خان 5 ہزار 789 ووٹ حاصل کر کےدوسرے نمبر

این اے 115: آزاد امیدوار محمد احمد 5818 ووٹ لے کر آگے، پی ٹی آئی کی غلام بی بی 3731 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر

این اے 9: تحریک انصاف کے شیر اکبر خان 1310 ووٹ لے کر آگے، مسلم لیگ ن کے کامران خان 1284 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر

این اے 237: پیپلز پارٹی کے عبدالحکیم بلوچ 503 ووٹ لے کر سرفہرست، تحریک انصاف کے جمیل احمد 379 ووٹ لے کر دوسرے، مسلم لیگ ن کے زین العابدین 102 ووٹ لے کر تیسرے نمبر پر ہیں

این اے 271: بی این پی مینگل کے جان محمد دشتی 115 ووٹ لے کر آگے، بی اے پی کی زبیدہ جلال 63 ووٹ لے کر پیچھے

این اے 157: پاکستان پیپلز پارٹی کے موسیٰ گیلانی 3447 ووٹ لے کر آگے، تحریک انصاف کے زین قریشی 3085 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر، مسلم لیگ (ن) کے غفار ڈوگر 2962 ووٹ حاصل کر چکے ہیں۔

این اے 41: تحریک انصاف کے گل ظفر خان 641 ووٹ لے کر آگے، آزاد امیدوار عبدالمجید 474 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر

…………………………….

غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پی پی 295 کے تین پولنگ سٹیشنز میں تحریکِ انصاف کے سردار فاروق خان 2000 ووٹ لے کر آگے جبکہ آزاد امیدوار سردار پرویز گورچانی 1500 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔

نارووال سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 78 کے 5 پولنگ سٹیشنز سے تحریک انصاف کے ابرار الحق 1431 ووٹ لے کر آگے جبکہ مسلم لیگ (ن) کے احسن اقبال 1109 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔

شانگلہ کے حلقہ این اے 10 کے ایک پولنگ سٹیشن کے غیر سرکاری نتیجہ کے مطابق ایم ایم اے کے امیدوار امیر سلطان 134 ووٹ لے کر آگے ہیں جبکہ مسلم لیگ ن کے ڈاکٹر عباداللہ 99 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔

راجن پور کے حلقہ پی پی 294 کے تین پولنگ سٹیشنز کے غیر سرکاری اور غیر حتمی نتیجہ کے مطابق تحریکِ انصاف کے حسنین بہادر دریشک 2500 ووٹ لے کر آگے جبکہ آزاد امیدوار اطہر حسین گورچانی 2000 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔

راجن پور کے حلقہ پی پی 293 کے تین پولنگ سٹیشنز کے غیر سرکاری اوت غیر حتمی نتیجہ کے مطابق تحریکِ انصاف کے محسن لغاری 1770 ووٹ لے کر آگے جبکہ آزاد امیدوار شیر علی گورچانی 1300 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔

گجرات کے حلقہ این اے 68 کے ایک پولنگ سٹیشن کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتیجہ کے مطابق مسلم لیگ ق کے حسین الہٰی 125 ووٹ لے کر آگے جبکہ مسلم لیگ ن کے غضنفر علی گل 85 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔

جہلم سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 66 کے پولنگ اسٹیشن نمبر 420 کا غیر حتمی غیر سرکاری نتیجہ، تحریک انصاف کے فرخ الطاف 146 ووٹ لے کر آگے، مسلم لیگ (ن) کے چودھری ندیم خادم نے 85 ووٹ حاصل کیے۔

راجن پور کے این اے195، پانچ پولنگ اسٹیشنزکا غیر سرکای غیر حتمی نتیجہ تحریک انصاف کے ریاض محمود مزاری 2340 ووٹ لے کر آگے مسلم لیگ ن کے خضر حسین مزاری 1500 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں

اوکاڑہ کے حلقہ این اے 142 کے پولنگ نمبر 40 کا غیر حتمی غیر سرکاری نتیجہ، تحریک انصاف کے راؤ سکندر 288 ووٹ لے کر آگے، مسلم لیگ (ن) کے ریاض الحق 191 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر

راجن پور کا حلقہ این اے 194، تین پولنگ سٹیشنز کا غیر سرکاری غیر حتمی نتیجہ، تحریک انصاف کے نصراللہ دریشک 2590 لے کر آگے، آزاد امیدوار حفیظ الرحمان دریشک 2070 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر

احمد پور شرقیہ کا این اے 174، ایک پولنگ سٹیشن کا غیر سرکاری غیر حتمی نتیجہ، آزاد امیدوار بہاول عباسی 213 ووٹ لے کر آگے، پی ٹی آئی کے سمیع الحسن گیلانی 37 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر

راجن پور کا این اے 193، تین پولنگ سٹیشنز کا غیر سرکاری غیر حتمی نتیجہ، تحریک انصاف کے جعفر خان لغاری 2700 ووٹ لے کر آگے، آزاد امیدوار شیر علی گورچانی 1400 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر

خوشاب کا حلقہ این اے 94، گورنمنٹ گرلز پرائمری سکول جتوئی والا کا غیر حتمی غیر سرکاری نتیجہ، تحریکِ انصاف کے احسان اللہ ٹوانہ 626 ووٹ لے کر آگے، این اے 94، مسلم لیگ (ن) کے شاکر بشیر اعوان نے 156 ووٹ حاصل کیے۔

پشاور کا حلقہ این اے 30، ایک پولنگ کا غیر حتمی غیر سرکاری رزلٹ، پی ٹی آئی کے ارباب شیر علی 51 ووٹ لے کر آگے، ایم ایم اے کے ارباب نجیب 35 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر

خوشاب کا حلقہ این اے 94، گورنمنٹ بوائز پرائمری سکول نمبر 4 نور پور پولنگ سٹیشنز کا غیر سرکاری غیر حتمی نتیجہ، تحریک انصاف کے احسان اللہ تیوانہ 507 ووٹ لے کر آگے، مسلم لیگ ن کے شاکر بشیر اعوان 177 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر، آزاد امیدوار گل اصغر 144 ووٹ لے کر تیسرے نمبر پر۔

 پی پی 93چنیوٹ،آزادامیدوار تیمور علی لالی نے 116ووٹ حاصل کیے ، پی پی 93چنیوٹ میں پی ٹی آئی کے محمد حیدرلالی85 ووٹ کیساتھ دوسرےنمبر پر ہیں۔

این اے 115جھنگ 2، 398 پولنگ اسٹیشنز میں سےایک پولنگ اسٹیشن کےنتائج کے مطابق تحریک انصاف کی غلام بی بی بھروانہ 71 ووٹ کے ساتھ آگے، این اے 115جھنگ،آزادامیدوارمحمداحمد 50ووٹ لےکردوسرےنمبرپرہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY