دیامر میں دو روز قبل لڑکیوں کے 14 اسکول جلائے جانے کے واقعات کی تحقیقات جاری ہیں۔پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے آپریشن میں کمانڈر شفیق مارا گیا ہے جبکہ اب تک گرفتار ملزمان کی تعداد 31 ہو گئی ہے، گرفتار ملزمان سے اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔
گلگت بلتستان پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ تازہ دہشت گردی میں ملوث ملزمان کے افغانستان سے تربیت یافتہ ہونے کا بھی انکشاف سامنے آیا ہے۔
چلاس، تانگیر اور ڈیرل اضلاع میں 14 اسکول جلانے کے مقدمات مختلف تھانوں میں درج کرلیے گئے ہیںجن میں انسداد دہشت گردی کی دفعہ بھی شامل کی گئی ہے۔
پولیس کے مطابق تعلیم کے خلاف دہشتگردی کی تحقیقات کی نگرانی کیلئے ایک خصوصی کمیٹی قائم کر دی گئی ہے۔ ڈی آئی جی دیامر گوہر نفیس کمیٹی کے چیئرمین ہیں جبکہ ممبران میں ڈی آئی جی کرائم برانچ فرمان علی، ایس پی ڈیامر، اے آئی جی سی ٹی ڈی اور اے ایس پی چلاس شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق تحقیقاتی کمیٹی کا کیمپ آفس دیامر میں قائم کردیا گیا ہے۔ کمیٹی کو ڈی آئی جی ہیڈکوارٹر، اے آئی جی آپریشن اور اے آئی جی لاجسٹک جی بی پولیس یہ بھی معاونت حاصل ہوگی۔
کمیٹی 14 اسکول جلائے جانے کے واقعات کی تحقیقات کی نگرانی کے دوران واقعات میں ملوث ملزمان کو گرفتار کر کے قرار واقعی سزا کیلئے اقدامات کرے گی۔ ان واقعات میں تفصیلی تحقیقاتی رپورٹ بھی آئی جی گلگت بلتستان کو پیش کرے گی۔












