اسلام میں میاں بیوی کے حقوق (53)۔ شمس جیلانی

0
1325

گزشتہ قسط میں ہم والدین کے حقوق کی بات کر رہے تھے۔ اب ہم میاں بیوی کے حقوق کی بات کریں گے؟ جو کہ کسی بھی معاشرے کی اصل بنیاد ہے؟ اورا سلام نے نیک بیوی کو سب سے بڑی نعمت قرار دیاہے۔ دو اجنبی لوگوں میں اتنی محبت پیدا ہوجانا اللہ سبحانہ تعالیٰ کا یہ اتنا بڑاانعام ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں ہے؟ مگر جس طرح مسلمانوں میں دوسرے شعبوں میں دین کادخل کم ہوتا جارہا ہے اسی تناسب سے آپس میں محبت بھی کم ہوتی جارہی ہے؟ جبکہ نمازیوں سے مسجدیں تو بھری ہوئی ہیں مگر معاملات میں اسلام کا کوئی دخل نہیں ہے؟ یہاں بھی وہی مسئلہ ہے جو کہ وہاں ہے کہ میاں بیوی ایک دوسرے کے حقوق نہیں جانتے ہیں لہذا ایک دوسرے کے ساتھ غلط مطالبات اور ناانصافی کرتے رہتے ہیں، جبکہ اپنی حدود کسی کو بھی معلوم نہیں ہیں ؟ سسیدھی سی بات ہے کہ جو حقوق جانتے ہی نہیں ہیں وہ اس کی پاسداری کیا کریں گے؟ اس وجہ سے ہمارے یہاں بھی ابھی تک با قائدہ شادیاں توہورہی ہیں مگر روز بروز طلاق کا تناسب بڑھتا جارہا ہے؟ کیوں ؟ اس کیوں کا جواب یہ ہے کہ ہم اسلام کے بجا ئے ان کااتباع کرنے لگے ہیں جو اس تکلف کو تقریباً ترک کرچکے ہیں۔ کیونکہ انہو ں نے اپنی راہیں مدت ہوئی تبدیل کر لی ہیں؟ ہمارے یہاں اگر کسی شادی شدہ جوڑے کے یہاں پہلے سال دوسال میں اولاد نہ ہو تو پورا معاشرہ پریشان ہوجاتا تھا۔ بزرگ خواتین نئی دلہن کا جینا حرام کردیتی تھیں؟ اس لیے کہ اسلام میں شادی کا مقصد ہی نیک اولاد پیدا کرنا اور ان کو لکھا پڑھا کر اچھا مسلمان بنانا ہے؟ جبکہ اب ہم جس معاشرے کا اتباع کرنے جارہے ہیں ، اس میں پہلی ترجیح پچے پیدا کرنے کے بجا ئے؟ عیش ونشاط ہے جس کو ان کے یہاں “لائف انجوائے “کرنا کہتے ہیں؟ چونکہ ماڈرن دنیا میں اس کے لیئے با قاعدہ شادی کے بندھن میں بندھنا ضروری نہیں ہے؟ لہذا اب انہوں نے نئی قانون سازی ضرورت کے تحت کرلی ہے جو یہ ہے کہ“ دو افراد کسی بھی جنس سے تعلق رکھتے ہوں اوروہ بارہ مہینے ایک چھت کے نیچے رہے ہیں؟تو ایک حلف نامہ متعلقہ محکمہ کے سامنے پیش کردیں ، وہ انہیں حقوق کے مستحق ہونگے جوکہ پہلے با قاعدہ شادی کے بعد ایک دوسرے کو حاصل ہوتے تھے۔ جبکہ اس سے پہلے ان میں علیحدگی ہو جا ئے تو کوئی ریکارڈ کہیں نہیں ملے گا؟ اورا یسا کس نے اور کتنی مرتبہ پہلے کیا ہے، کوئی پتہ نہیں چلے گا؟ لہذا با قاعدہ رجسٹرڈ جوڑے کہیں ڈھونڈے سے نہیں ملتے ۔سوائے پچھلی نسل کے لوگوں کے جن کی عمریں عموماً سترپچھتر برس سے اوپر ہوتی ہیں جنہیں“ بے بی بومر“ ( بچے پیدا کرنے والی نسل) نام سے یاد کیا جاتا ہے ۔نتیجہ یہ ہے کہ ہر یورپین ملک مجبور ہے کہ وہ اپنے یہاں کام کرنے اور سب بوڑھوں کو پینشن دینے کے لیے کہیں سے بھی کمانے والے انسان ا مپورٹ کرے۔ کیونکہ اس میدان میں مقابلہ شدیدہےاور جو ملک زیادہ مراعات دے آنے والے ادھر کا رخ کرتے ہیں لہذا بہت سے ممالک کا ٹارگیٹ پورا نہیں ہوتا ان کا خسارہ بڑھتا جارہا ہے۔ اب زیادہ تر بچوں کی پرورش حکومت کے خرچے پر سنگل مائیں کرتی دکھائی دیتی ہیں جن کے والد صاحب لاپتہ ہوچکے ہوتے ہیں؟ یہ ہے اس معاشرے کی حالت جو دور سے خوبصورت دکھا ئی دیتاہے اور جس کی طرف ہم فیشن میں آگے بڑھ رہے ہیں؟
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس کا حل کیا ہے؟ مسلمانوں کے لیے پہلے میاں بیوی بننے والے افراد ان کے والدین کایہ جاننا ضروری ہے کہ ان کے فرائض کیا ہیں؟جبکہ پہلی بسم اللہ اس سمت میں درست ہوگی تو نتائج بھی اچھے نکلیں گے ؟ کیونکہ ہماری جو آجکل ترجیحات ہیں وہ اسلا می ترجیحات کا الٹ ہیں؟ ہم اولاد کو ڈاکٹر بنا نا چاہتے، انجینیر بنانا چاہتے ہیں۔ کیونکہ اچھے مسلمان خود نہ ہوتے ہوئے ہیں ا نہیں بنانا چاہتے ہیں جو ناممکن ہے کیونکہ ہر بچہ والدین کی نقل کرتا ہے ؟ اس کے لیے ہمیں توبہ کرکے پیچھے کی طرف لوٹنا ہوگا؟ اس پہلے کہ ہم بھی ماڈرن دنیا کے انجام کو پہنچیں؟
یعنی ا سلام میں بیوی یا شوہر تلاش کر تے ہوئے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ دونوں متقی اور نیک ہوں؟جبکہ اکثر والدین کی ترجیح یہ ہوتی ہے کہ سمندھیانے والے مالدار ہوں تاکہ لڑکی بہت سا جہیزلائے ، خوبصورت ہو اور اعلیٰ تعلیم سے بھی مزین ہو تاکہ وہ کماکر بھی لائے؟ جبکہ لڑکی والے لڑکے کی تعلیم کے سوا کچھ نہیں دیکھتے؟ رہامتقی اور نیک ہونا وہ نہ کوئی نہ پوچھتا ہے نہ پرکھتا ہے نہ اس کی تحقیق کرتا ہے۔ پھر غور فرمائیں کہ ان سے جو اولاد پیداہوگی اس میں وہ خوبیاں کہا ں سے آئیں گی جو ہمیں درکار ہیں؟ کیونکہ یہ کلیہ ہے کہ بچہ تو وہی سیکھتا ہے جو ماں باپ کو کرتے ہوئے دیکھتا ہے؟ لہذا بچہ یا بچی نیک اور متقی جبھی ہوسکتے ہیں کہ ماں اور باپ دونوں پکے مسلمان ہوں؟ صرف وضع وقطع ہی مسلمانوں جیسی نہ ہو جیسی کہ آج کل اکثریت کی روش ہے؟ پھر کہیں جاکر ان بچوں سے والدین وہ امید رکھ سکتے ہیں کہ وہ ویسے ہوں، جیسے کہ ہم نے اپنے گزشتہ کالموں میں اللہ اور رسول (ص) کے احکمات کے ذریعہ سکھائے تھے کہ وہ ماں باپ کے فرما نبردار ہوں ، ان کے لیے صدقہ جاریہ بنیں ،ہر وقت اپنی نمازوں کے بعد اپنی دعاؤں میں والدین کو یاد رکھیں اور ان میں وہ تمام خوبیاں ہوں جوکبھی مسلمانوں کا طرہ امتیاز تھیں جنہں دیکھ کر اللہ یاد آتا تھا ؟ باقی آئندہ

SHARE

LEAVE A REPLY