اسلام میں میاں بیوی کے حقوق (60) شمس جیلانی

0
69

گزشتہ مضمون میں ہم یہاں تک پہنچے تھے کہ میاں اور بیوی کے سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے تین راہنما اصول عطا فرما کر کے بات بہت ہی مختصر فرمادی دی ہے۔ کہ دونوں کو اسلام کے اندر رہتے ہوئے خاندانی اور مقامی رواج کو بھی مد نظر رکھنا ہوگا اور ایک دوسرے کی پردہ پوشی کرتے ہوئے زندگی گزارنا ہوگی۔ ان میں سے کسی جز کو بھی کسی نے نظرا نداز کیا توا زدواجی زندگی کے لیے مشکلات کا باعث بنےگا؟
ہم نے بقیہ پہلوؤں پرتو تفصیلی بات کرلی ہے ۔ مگر پر دہ پوشی پر ہم اب تفصیلی بات شروع کرتے ہیں۔ بہت سے لوگ اس بات کو کسرِ شان سمجھتے ہیں کہ کہیں جائیں تو بتا کر جائیں؟ یہ دیکھنے میں بہت چھوٹی سی بات ہے، مگر یہ بیوی یاشوہرکو اکثر مشکل میں ڈال دیتی ہے۔ جبکہ دونوں کے کہیں ایک جیسے رشتے یا تعلقات ہوں؟ کیونکہ ان کا میزبان جب پوچھے گا کہ تم آگئے تمہارا ساتھی کہاں ہے؟ اگر وہ سچ کہے گا جو اللہ کو راضی رکھنے کے لیے ضروری ہے؟ تو نتیجہ میں جواب یہ ہوگا کہ میں سے بتا کر نہیں آیا! اور یہ کہنا دسیوں بدگمانیوں کو جنم دیگا۔ اگروہ پر دہ پوشی کرے تو جھوٹ بولے گا ! اس صورت میں اس کا نام صدیقین کی فہرست میں سے کٹ جائے گا جس کے لیے ہم نماز کی ہر رکعت میں دعا کرتے ہیں کہ “اے اللہ ہمیں صراط مستقیم( صدیقین ؒ اور نبیوںؑ ) کے راستے پر چلا؟ دوسری طرف اس کا اثر یہ مرتب ہوگا کہ باہمی اعتماد ختم ہوجا ئے گاکہ یہ ایک دفعہ جھوٹ بول سکتا ہے تو یہ اس کی عادت میں شامل ہے۔ یہ میرے ساتھ بھی بول سکتا ہے یا بول سکتی ہے ؟
بہر حال ایک ذراسی لاپرواہی باہمی اعتماد کو ختم کردے گی ؟ اور ساتھ میں دونوں میں سے ایک کو شاکی بھی؟ کہ آپ نے میری پردہ پوشی نہیں کی؟ کوئی بہانہ کردیتے یا کر دیتیں؟ جبکہ اس کے برعکس دونوں ہر کام باہمی مشاورت کرتے رہیں تو وہ اس قسم کی غلط فہمیوں سے بچے رہ سکتے ہیں ۔ کیونکہ دوسرے کو یقین ہو تا ہے کہ اس کا ساتھی جو کچھ کہہ رہا ہے وہ سچ ہے ؟ پھر نہ آپس میں بد گمانی پیدا ہوگی نہ ہی غلط فہمی، دنیا چاہے کچھ بھی کہتی رہی ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اسلام میں جھوٹ بولنے کو سختی سے منع کیا گیا ہے۔ اس کاحل یہ ہے کہ دونوں جو کام بھی کریں وہ باہمی مشاورت سے کریں؟ اس سے سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ ایسے جوڑے کے سایہ میں جو نیک اولاد پرورش پائیگی ویسی ہی ہوگی جو کہ مسلمان والدین کا مقصدِ حیات ہے اور آج کے دور میں سب سے مشکل بھی؟ چونکہ بچہ ماں باپ کو دیکھ کر سیکھتاہے۔ اس لیےبچن سے بچوں میں یہ خواص خود بخود آجا ئیں گے اور وہ کردار کے ا عتبار سے اپنے والدین کا چربہ ہونگے۔ پھر انہیں سے وہ جھوٹ نہ بولنا عفوو اور در گزرکرنا وغیرہ سیکھ کر موجودہ ماحول شامل ہونگے ۔ جس کا حصول آج کے دور میں مشکل ہی نہیں بلکہ نا ممکن ہے ،کیونکہ یہ کمپیوٹر کا دور ہے۔ اس سے نہ یورپین ممالک مستثنیٰ ہیں نہ ہی اسلامی ممالک۔ بس فرق اتنا ہے کہ یورپین ممالک میں ہر کام لوگ کھلے عام کر تے ہیں، جبکہ مسلم ممالک کے بچے چھپا چوری کر تے ہیں؟ جوکہ اس سے زیادہ خطرناک ہے ۔ چونکہ اسلام میں یہ نظریہ رائج ہے کہ “حیا ء ایمان کانام ہے لہذا اسلامی معاشرہ اسے اسی طرح قبول کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ مسلمان اس کی اچھائیوں سے فائدہ اٹھاسکتے ہیں مگر برائیوں کو چھوڑ کر؟ مثلاً اس کے ذریعہ علم کا حصول، دین کی تبلیغ۔ مگروہ نہیں جوکہ اسلام میں ناخوب ہے۔ مثال کے طور پر ان کے ہاں ستر پوشی صرف برا ئے نام رہ گئی ہے۔ اور باریک کپڑوں میں لڑکے اور لڑکیا ں ایک ہی سوئمنگ پول میں نہاتے ہوئی نظر آئیں گے۔ جبکہ اسلام میں چڈی پہن کر گھومنا تو بڑی بات ہے۔ خواتین کو ایک دوسرے کے سامنے بھی برہنا حالت میں آنے کی اجازت نہیں ہے۔ یورپ میں جنس بطور مضمون بچوں کواسکول میں پڑھا ئی جاتی ہے۔ جبکہ اسلام میں احادیث کے مطابق آپس میں سوائے میاں بیوی کہ اس مسئلہ پر بات کرنے کی بھی اجازت نہیں ہے۔ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ مم اور ڈیڈ دونوں نہ کمائیں تو اخراجات پورے نہیں ہوتے لہذا وہ صبح کوکام پر جاتے ہیں اور شام کو واپس آتے ہیں ؟جبکہ پہلےا س صورت حال میں گھر پر اولاد کی نگرانی کے لیے نانی اور دادیاں ہواکرتی تھیں! جو پھر رات کو بچوں کو سبق آموز کہانیاں سناتی تھیں اب وہ بھی کہیں نہیں پائی جاتیں؟ البتہ ان آنکھوں نے ان کے کارٹون بنا کر معصوم ذہنوں کو مسموم کرتے ہوئے ضرور دیکھاہے؟ چند دن پہلے کی بات ہے کہ ہمارے ایک عزیز ملنے آئے تو انہوں نے بچوں کو مصروف رکھنے کے لیئے ان کی ایک پسندیدہ کارٹون فلم لگا دی؟ جس میں ایک چادر میں لپٹی ہوئی نانی تھیں جو کے گٹار بجانے والے کے منہ پہ جوتے مارتی نظر آتی تھیں۔ نواسہ نانی کو آتا دیکھتا تو وہ کتے کو فائر پلیس میں چھپا دیتا تھا۔ جب نانی نواسے کو پیار کر کے چلی جاتیں تواس کو وہ نکال لیتا تھا۔اس کہانی سے اس فلم کے زریعہ کیا پیغام بھیجنا مقصود تھا وہ تمام عقلمند ماں باپ بخوبی سمجھ سکتے ہیں جس کے وہ بخشوی شکار ہورہے ہیں غور نہ کریں تو اور بات ہے؟بس یوں سمجھ لیجئے کہ اس ماحول میں بچوں کی پرورش اک آگ کا دریا ہے اور تیر کر جانا ہے۔ اس موضوع پر اس سے زیادہ میں کچھ نہیں کہونگا؟

SHARE

LEAVE A REPLY