چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ میں نے نیک نیتی سے جوڈیشل ایکٹوزم کی بنیاد رکھی، جوڈیشل ایکٹوازم کا مقصد کسی کے اختیارات سلب کرنا نہیں تھا.

ان خیالات کا اظہار انھوں نے لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا. انھوں نے کہا کہ کبھی بد دیانتی نہیں کی، سختی کی ہوگی، مگر صرف قانون کی حکمرانی کے لئے کی.

انھوں نے کہا کہ مجھے اس ملک اور ادارے سے محبت ہے، ظلم اور کفر کا معاشرہ چل سکتا ہے مگر ناانصافی کا نہیں، بدقسمتی سے عوام کو وہ انصاف نہیں مل رہا، جو ملنا چاہیے تھا.

چیف جسٹس نے کہا کہ نادانستہ طور پر مجھ سے غلطیاں ہوئی ہیں، میرا کسی اور ڈومین میں دخل اندازی مقصد نہیں تھا، میں نے کسی کے کام میں دخل اندازی نہیں کی.

انھوں نے کہا کہ لوگوں کو جلد انصاف نہیں ملتا، جس کی وجہ سے عدلیہ کا احترام کم ہوا، میں نے اپنے ملک سے محبت اور سخت محنت کی، ججز اپنے کام کو ملازمت نہیں، قوم کی خدمت سمجھ کرکریں.

چیف جسٹس نے کہا کہ 14 جنوری کو پولیس ریفارمز کی شکل میں بڑاتحفہ دے رہے ہیں، ہائیکورٹ کا یہ مقام نہیں کہ وہ پرچہ درج ہونے کا مقدمہ سنے، ہائی کورٹ اعلیٰ معیار کے مقدمات کی سماعت کےلئے ہوتی ہے، آج سپریم جوڈیشل کونسل میں صرف 2 ریفرنس باقی ہیں.

انھوں نے کہا کہ ہم اپنا احتساب خود کررہےہیں امید ہے، وکلا بارزبھی انصاف کریں گے، جج کا ایک ہی مشن ہے کہ وکیل ہے یا نہیں، اسےانصاف کرنا ہے.

ان کا کہنا تھا کہ لاہور ہائیکورٹ سے میری وابستگی 56 سال سے ہے، اس سے معروف شخصیات وابستہ رہیں، زندگی میں بہت کم رویا آج آپ لوگوں کے پیارسے آنکھیں نم ہوئیں.

SHARE

LEAVE A REPLY