ہم گزشتہ مضمون میں اس پر بات کررہے تھے۔ کہ آپ نے شروع میں بچوں کے ایک بھی غلط مطابے کو مان لیا جوکہ دین کے خلاف ہو! تو پھر ایک دن آپ کو خود کو بھی سرنڈر کرنا پڑے گا ان کے بڑھتے ہوئے مطالبوں کے سامنے۔اس کی میں ایک چشم دید مثال پیش کرتا ہوں۔کہ ایک صاحب نے اپنے بیٹے کو لندن بھیجدیا وہاں پہنچ کر اس کی دوستی ایک ایسے لڑکے سے ہوگئی جو اپنی گرل فرینڈ کے ساتھ رہتاتھا۔ ایک دن وہ دوست اس لڑکی کو چھوڑ کر لا پتہ ہوگیا، جو یہاں کی عام بات ہے ؟دوست کی بلا اس کے سر پڑگئی کیونکہ اس زمانے ڈی این اے ٹیسٹ ایجاد نہیں ہوا تھا۔ لہذاوہ پھنس گیا۔ اس مسئلہ پر اس کے اپنے والدین سے بھی ان بن ہوگئی۔ بڑی مشکل سے اہلِ خاندان نے اس کی خطا معاف کرائی وہ اپنی یورپین بیوی کو لیکر پاکستان آیا، با قاعدہ ولیمہ ہوا ۔ ہمارے یہاں یہ عام رواج ہے مر د اور خواتین جب کہیں جمع ہوتے ہیں تو وہ مشورے مفت بانٹنے میں بڑے فیاض ہوتے ہیں۔ لہذا یک خاتون نے مفت مشورہ دے ڈالا کہ تم مسلمان کیوں نہیں ہو جاتی ہو؟اس نے اپنے شوہر کی طرف اشارہ کر کے جو جواب دیا وہ یہ تھا کہ“ یہ کب مسلمان ہیں جو میں مسلمان ہوجاؤں؟ اس کا یہ ایک جملہ ساری کہانی کہہ گیا اورجواب سن کر ساری محفل کی نگاہیں نیچے جھک گئیں؟ آگے چل کر ان کے بچوں کوکہتے سنا گیا کہ ہم مسلمان نہیں ہیں؟ اگر وہ صاحبزادے اللہ سے ڈرنے والوں میں شامل ہوتے؟ تو کبھی ایسے ماحول میں رہنا پسند کرتے؟ آپ بھی میرے ہم نوا ہونگے اگر میں کہوں کہ کبھی نہیں؟ جبکہ آج سے ساٹھ سال سے پہلے کی بات ہے؟ اس وقت وہاں بھی فیملی سسٹم موجود تھاجبکہ اب اس کا تناسب بہت ہی کم ہے۔ مگر اس مثال سے ڈریں نہیں کہ ابھی بھی ایسے لوگ موجود ہیں؟ جن کے بچے یہاں کے ماحول میں پرورش ہونے اور رہنے کے با وجود بھی قابلِ ستائش ہیں اور دوسروں کے لیے نمونہ ہیں؟کیوں؟ اس لیے کہ وہ ان والدین کی اولاد ہیں کہ انہیں کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ کب مسلمان ہیں۔بات اتنی سی ہے کہ جو نہیں ہیں وہ نہ وہاں مسلمان ہیں نہ یہاں مسلمان ہیں ،مسجدیں وہاں بھی بھری دیکھیں گے اور یہاں بھی ہر جمعہ کو؟ وہاں سے باہر نکل کر وہ مختلف دکھائی دیں گے؟یہ وہ دوعملی ہے جو انساان کو کہیں کابھی نہیں رکھتی۔ کیوں کہ اگر آپ دین کے لیے کام کر رہے ہوں، تو دنیا تو خود بخودمل جا ئے گی مگر صرف دنیا کے لیئے کام کر رہے ہوں تو دین نہیں ملے گا؟اس لیے کہ راہ خدا پر چلنے کی سعادت کی بنا پر جو رحمت اور برکت آپ ساتھ ہو گی وہ اس صورت نہیں ہوگی؟
اب آپ مجھ سے پوچھیں گے کہ آخر اس کاحل کیا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ آپ پہلے خود مسلمان بن جا ئیں تو سارے مسائل حل ہوجا ئیں گے۔اس کا پہلا نتیجہ تو یہ نکلے گا کہ لوگ آپ سے محبت کرنے لگیں گے اللہ تعالیٰ لوگوں کے دلوں میں آپ کے لیے محبت ڈالدے گاکیوں کہ اگر آپ پکے مسلمان بن جا ئیں تو آپ خود سب سے محبت کر نے لگیں گے۔ اس لیے کہ ا سلام کا پہلا اصول یہ ہے کہ اپنی ً میںً کو دل سے نکالدیں ؟ ااور سمجھیں کہ میں سب سے کمتر ہوں اور دوسرا مجھ سے بہتر ہے۔ چاہیں آپ دیکھ ہی کیوں نہ رہے ہوں کہ وہ غلط کر رہاہے۔ آپ کی سمجھ میں میری بات آسانی سے آ جائے گی؟ ہم جو فیصلہ آج پر کرتے ہیں کہ کون کیا ہے۔ اس کی سات پشتوں تک چلے جاتے ہیں کہ وہ پہلے کیا تھا۔ یہ نہیں سوچتے کہ اگر وہ کل توبہ کرلے اور اس پر قائم ہو جا ئے تو کیا ہوگا؟ کیونکہ توبہ کرتے ہی اس کے گناہ معاف ہو جائیں گے؟ حضور(ص) نے اپنے تمام صحابہ(رض) کو حکم دیا تھا کہ تم تمام دنیا میں پھیل جاؤ؟ اور انہیں وہ پہنچاؤ جو میں (ص) نے تمہیں پہنچایا ہے؟ اور آنے نسلیں اپنے بعدآنے والی نسلوں کو پہنچا ئیں ؟ مگر ہم کیا پہنچا رہے ہیں سوائے نفرتوں کہ۔ جواب آپ پر چھوڑتا ہوں ؟ اگر آپ سوچ کو بدلیں تو صورت حال بد ل سکتی ہے۔ اگر آپ ترک وطن اس یقین کے ساتھ کریں کہ میں دین اورانسانیت کی خدمت کرنے کے لیے ترک وطن کر رہاہوں۔ تو وہی ثواب ملے گا جو اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے کا ثواب ہے بشر طِ کہ آپ کا اس پر ایمان ہو؟ پھر دیکھیں گے کہ ہر قدم پر کامیابیاں آپ کے قدم چومیں گی۔













