گزشتہ 3سال (2020 سے 2022) کے دوران ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی لاہور کی جانب سے یومیہ اجرت پر تعینات کیے جانے والے 17 ہزار سے زائد ڈینگی ورکرز کو ادائیگیوں میں بڑے پیمانے پر مبینہ کرپشن اور بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔

سماء انوسٹی گیشن یونٹ کو حاصل ہونے والی سرکاری دستاویزات کے مطابق 2020 سے 2022 کے دوران ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسرز (ڈی ڈی ایچ اوز) لاہور نے خلاف ضابطہ تشہیر اور ریکورٹمنٹ کمیٹی سے منظوری حاصل کیے بغیر 17057 ڈینگی ورکرز کو یومیہ اجرت پر تعینات کیا۔

17 ہزار سے زائد ڈینگی ورکرز کو 3 سال میں ایک ارب 71 کروڑ روپے سے زائد کی ادائیگیاں کی گئیں، جن میں بیشتر اصول و ضوابط کے خلاف نقد رقم یا چیک کی صورت میں کی گئیں۔

خلاف ضابطہ تعیناتیوں اور ادائیگیوں کے لیے قائم انکوائری کمیٹی کی جانب سے تحقیق کے بعد پیش کی جانے والی رپورٹ کے مطابق میں متعدد بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق 2020 میں 4000 ڈینگی ورکرز کو یومیہ اجرت پر تعینات کیا گیا اور اس دوران انہیں مجموعی طور پر 24 کروڑ 16 لاکھ 52 ہزار 281 روپے تنخواہ کی مد میں ادا کیے گئے۔

2021 میں روزانہ اجرت پر تعینات کیے جانے والے 5500 ڈینگی ورکرز کو 63 کروڑ 67 لاکھ 70 ہزار 57 روپے جب کہ 2022 میں یومیہ اجرت پر تعینات ڈینگی ورکرز کو مجموعی طور پر 83 کروڑ 22 لاکھ 77 ہزار 252 روپے ادا کیے گئے۔

اس دوران لاہور کے علامہ اقبال زون میں روزانہ اجرت پر تعینات کیے جانے والے 4271 ڈینگی ورکرز کو 29 کروڑ 61 لاکھ 69 ہزار 136روپے اور عزیز بھٹی زون میں تعینات 2401 ڈینگی ورکرز کو 13کروڑ 31 لاکھ 66 ہزار 89 روپے ادا کیے گئے۔

اسی طرح کینٹ زون میں تعینات 4836 ڈینگی ورکرز کو 27 کروڑ 11 لاکھ 7 ہزار 350 روپے ، DGBT زون میں تعینات 3201 ڈینگی ورکرز کو 17 کروڑ 41لاکھ 3 ہزار 985 روپے اور گلبرگ زون میں تعینات 2898 ڈینگی ورکرز کو 14 کروڑ 50 لاکھ 38 ہزار 138روپے ادا کئے گئے ۔

دستاویزات کے مطابق 2020 سے 2022 کے دوران لاہور کے نشتر زون میں تعینات 3937 ڈینگی ورکرز کو 20 کروڑ 12 لاکھ 76 ہزار 170روپے اور راوی میں تعینات 2357 ڈینگی ورکرز کو 16 کروڑ 34 لاکھ 21 ہزار 182روپے ادا کئے گئے۔

اس کے علاوہ سمن آباد میں تعینات 2599 ڈینگی ورکرز کو 10 کروڑ 38 لاکھ 28 ہزار 180 روپے ، شالیمار میں تعینات 2032 ڈینگی ورکرز کو 12 کروڑ 63 لاکھ 73 ہزار 236 روپے جب کہ واہگہ میں تعینات 1825ڈینگی ورکرز کو 9 کروڑ 62 لاکھ 16 ہزار 124 روپے ادا کیے گئے۔

2020سے 2022کے دوران ان تمام ملازمین کو بذریہ بینک اور نقد ادائیگیاں کی گئیں۔

بے ضابطگیوں کو سامنے لانے کے لیے قائم تحقیقاتی کمیٹی کی جانب سے ہر زون میں کی جانے والی تعیناتیوں کے دونوں بیچز میں سے دس منتخب ڈینگی ورکرز سے تحقیقات کیں۔

انکوائری کمیٹی کی جانب سے علامہ اقبال زون سے تعینات ڈینگی ورکرز کے نمبرز پر رابطہ کرنے پر 2 افراد کی جانب سے کال اٹینڈ نہیں کی گئی ۔ 2موبائل نمبرز بند پائے گئے ، 3نے پوری ادائیگی کی تصدیق جب کہ 3کی جانب سے ریکارڈ میں درج رقم سے کم ادائیگی کی شکایت کی۔

عزیز بھٹی زون میں انکوائری کے دوران ایک نمبر سے کال اٹینڈ نہیں کی گئی، 1 نمبر بند پایا گیا ، 2نے پوری ادائیگی کی تصدیق کی جب کہ 5نے کم ادائیگی کی شکایت کی۔

کنٹونمنٹ زون میں انکوائری کے دوران 3نمبرز سے کال اٹینڈ نہیں کی گئی، 2نے مکمل ادائیگی اور 5نے ریکارڈ سے کم ادائیگی کی شکایت کی۔ گلبرگ میں انکوائری کے دوران 4نمبرز سے رابطہ نہ ہو سکا، 2نے کال اٹینڈ نہیں کی ، ایک نے پوری ادائیگی کی تصدیق، 1نے ڈینگی کمپین سے لاعلمی کا اظہار کیا جب کہ 4نے کم ادائیگی کی شکایت کی۔

کمیٹی کی جانب سے نشتر میں کی جانے والی انکوائری کے دوران 2نمبروں سے کال اٹینڈ نہیں کی گئی، 4نے پوری ادائیگی کی تصدیق کی، 1نمبر کے درست نہ ہونے ، ایک شخص کی جانب سے ڈینگی ورکر کے طور پر کام نہ کرنے اور دو کی جانب سے کم ادائیگیوں کے مسائل سامنے آئے۔

راوی زون میں کی جانے والی 7421996روپے ادائیگیوں کا ریکارڈ نہیں مل سکا جب کہ ادائیگیوں کے لیے دیے جانے والے 60چیک باﺅنس ہونے کا بھی انکشاف ہوا ہے۔ ثمن آباد 4افرادنے کم ، 3نے مکمل ادائیگیوں کی تصدیق کی، ایک نے ڈینگی کمپین میں عدم شرکت جب کہ 2افراد کی جانب سے کال اٹینڈ نہیں کی گئی۔

DDHOsکی جانب سے سمن آباد کے دوسرے بیچ کے ڈینگی ورکرز کو ادائیگیوں کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔ شالیمار زون میں چیک کے ذریعے ڈینگی ورکرز کو کی جانے والی ادائیگیوں، ادا کی گئی رقم کی تفصیل ، ورکرز کے رابطہ نمبر ریکارڈ میں موجود نہیں پائے گئے۔ واہگہ کے دو ورکرز کی جانب سے کال اٹینڈ نہیں کی گئی ، ایک نے پوری ادائیگی کی تصدیق کی جب کہ 7سے کم ادائیگیوں کی شکایت موصول ہوئی۔

باربار لکھنے کے باوجود سماء انویسٹی گیشن کو وزارت صحت کے حکام نے سوالات کے جواب نہیں دے۔

SHARE

LEAVE A REPLY