عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا کہنا ہے کہ انہیں پاک-چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے منصوبوں کے لیے حاصل کیے گئے قرضوں اور ان کی شرائط تک مکمل رسائی حاصل ہوئی ہے جبکہ یہ قرضے قابلِ انتظام ہیں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق نیشنل پریس کلب میں سینئر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے اسلام آباد میں آئی ایم ایف کی رہائشی عہدیدار ٹریسا ڈبن سانشیز نے فنانشل ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف)، صوبائی اخراجات کے رجحانات اور پارلیمان میں حکومت کی اکثریت نہ ہونے کے سبب 39 ماہ پر محیط 6 ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پیکج کو لاحق خطرات کے حوالے سے گفتگو کی۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے آئی ایم ایف کو سی پیک قرضوں کی تمام تر تفصیلات سے آگاہ کیا تھا، سی پیک کا منصوبہ توانائی اور انفرا اسٹرکچر میں زیادہ تر نجی شعبے کی سرمایہ کاری پر مشتمل ہے۔

ایک سوال کے جواب میں آئی ایم ایف عہدیدار کا کہنا تھا کہ توانائی کے منصوبوں نے بلا شبہ ملک میں بجلی کی کمی سے نمٹنے میں مدد فراہم کی ہے، جو ان منصوبوں کا ایک بہت مثبت پہلو ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ قرض کے استحکام سے متعلق تجزیے سے یہ بات سامنے آئی کہ سی پیک کی مد میں لیے گئے قرضے قابلِ انتظام تھے لیکن مجموعی طور پر ملکی قرضوں کی صورتحال مستحکم نہیں۔

ایک اور سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ مالی استحکام، ریونیو کی نقل و حرکت، مارکیٹ کی بنیاد پر شرح تبادلہ اور سماجی شعبے کا تحفظ نئے آئی ایم ایف پروگرام کے 3 بنیادی ستون ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY