خیبر پختون خوا میں ضم ہونی والی افغان سرحد پر واقع ضلع کرم میں زچہ بچہ گائنی کی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے قیمتی جانیں ضائع۔۔ تفصیلات کے مطابق وزیر صحت ہشام انعام اللہ نے چند ماہ پہلے شلوزان نامی گاوں میں ایس آر ایس پی پراجیکٹ کے تعاون سے زچہ بچہ گائنی کی سہولیات و جدید آلات سمیت کرورڑوں روپے کی لاگت سے لیبر روم لیڈی ڈاکٹر نرسز وایل ایچ اوی کے علاوہ انتظار گاہ سمیت سہولیات سے آراستہ ماڈل بی ایچ ایو کی توسیع کا افتتاح کیا تھا۔۔۔لیکن تبدیلی سرکار کے دعووں کے برعکس کئی ماہ گزرنے کے باوجود اس ہسپتال کو اس بنیادی صحت مرکز کو لیڈی ڈاکٹر نرسزو گائنی کا عملہ مہیا نہ ہوسکا۔جسکی وجہ سے قیمتی جانیں ضائع۔۔۔ اس سلسلے میں ضلع کرم میں نئے آنے والے ہلال احمر پاکستان ریڈ کرسنٹ سوسائٹی کے گائنی زچہ بچہ سنٹر کو شلوزان کی بنیادی صحت مرکز میں تعینات کیا جائے کیونکہ شلوزان اور اس کے ارد گرد درجنوں دیہات کی ایک لاکھ سے زائد آبادی دوردراز اے ایچ کیو تک مریضوں کو لے جاتے ہوئے خراب سڑک اور بعض اوقات برساتی نالوں میں طغیانی کع وجہ سے کئی مریض راستے میں دم توڑ جاتے ہیں اور مزید غریب عوام پرائیوٹ گاڑیوں کو تین سے پانچ ہزار تک سپیشل اے ایچ کیو آنے جانے کا معاوضہ بھی ادا نہیں کرسکتے۔
ضلع کرم کے عوامی و سماجی حلقوں کے نمائندوں اور قبائلی عمائدین نے حکومت اور ارباب اختیار سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ شلوزان گاوں اور اس کے ارد گرد درجنوں دیہات دراوی،گڑے،درہ،برکلے،، لر کلے، حاجی کلے، لرزر ،جبہ،لقمانخیل،نورکی،بوغرہ،علیشاری،خواجہ کوٹ،درگاہ،علی منگلہ،غنڈی خیل،وغیرہ وغیرہ کی ایک لاکھ سے زائد آبادی اور ضلع کرم میں سب سے زیادہ او پی ڈی والے شلوزان صحت مرکز کو گائنی زچہ بچہ کے لئے سٹاف مہیا کیا جائے۔۔۔اور ہلال احمر پی آر سی ایس کی تعیناتی کے احکامات شلوزان میں صادر کئے جائے۔۔۔یا پھر ڈسٹرکٹ سرجن ڈی ایچ او آفس میں مفت میں بیٹھ کر تنخواہ وصول کرنے والے مخفلف دیہات گاوں کے لئے سکول سپورٹ پراجیکٹ میں ڈی ایچ او آفس میں براجمان دو لیڈی ڈاکٹرز میں سے ایک کو ہنگامی بنیادوں پر بی ایچ یو شلوازان مین تعینات کیا جائے۔۔۔
وگرنہ مجبورا شلوزان اور اس کے مضافات کے درجنوں دییہات کے ایک لاکھ سے زائد آبادی اپنے جائز حق کے لئے نہ ختم ہونیوالی احتجاجی تحریک شروع کریں گے۔












