احتساب عدالت نے سابق وزیر ریلوےخواجہ سعد رفیق اور ان کے بھائی سابق صوبائی وزیر خواجہ سلمان رفیق کی پیراگون سٹی اسکینڈل میں فرد جرم ختم کر کے بریت کی درخواست مسترد کردی۔
احتساب عدالت کے جج جواد الحسن نے گزشتہ سماعت میں محفوظ کیا گیا فیصلہ سنایا اور دونوں ملزمان کے جوڈیشل ریمانڈ میں توسیع بھی کردی۔
خیال رہے کہ احتساب عدالت نے 4 ستمبر کو پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی خواجہ سعد رفیق اور ان کے بھائی و رکن پنجاب اسمبلی خواجہ سلمان رفیق کے خلاف پیرا گون ہاؤسنگ سوسائٹی میں مبینہ بے ضابطگیوں پر دائر ریفرنس میں فرد جرم عائد کی تھی۔
جس پر خواجہ برادران کی جانب سے ان کے وکلا نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ درخواست گزاروں کی فرد جرم ختم کر کے انہیں الزام سے بری کردیا جائے۔
اپنی درخواست کے حق میں دلائل دیتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ نجی کاروبار کا تنازع نیب آرڈیننس 1999 کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا، جبکہ درخواست گزاروں کے خلاف بحیثیت سرکاری افسران قومی خزانے کے غلط استعمال کے کوئی شواہد بھی موجود نہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ کمپنیز ایکٹ 2017 کے تحت ان معاملات کی نگرانی کرنا سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن پاکستان (ایس ای سی پی) کا کام ہے۔
تاہم نیب پراسیکیوٹر حافظ اسداللہ اعوان نے بریت کی درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس حوالے سے سپریم کورٹ کا حکم موجود ہے کہ ٹرائل کورٹ فرد جرم عائد کرنے کے بعد اس قسم کی درخواستوں کی سماعت نہیں کرسکتی۔
جس پر احتساب عدالت نے 14 اکتوبر کو فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے بدھ کے روز سنانے کا اعلان کیا تھا۔












