عالمی اخبار کی ڈاکٹر نگہت نسیم کے والد کا انتقال

سڈنی آسٹریلیا میں مقیم معروف شاعرہ،افسانہ نگار اور معالج ڈاکٹر نگہت نسیم کے والد نسیم اشرفی دس دسمبر ۲۰۱۹ کو لاہور کے شیخ زید ہسپتال میں انتقال کر گئے

عالمی اخبار کی ڈاکٹر نگہت نسیم کے والد کا انتقال

عالمی اخبار کا ادارتی بورڈ اور قارئین ڈاکٹر نگہت نسیم کے اس نقصان میں برابر کے شریک ہیں اور ان سے تعزیت کرتے ہوئے مرحوم کی مغفرت کے لیئے دعا گو ہیں۔ عالمی اخبار کے مدیر اعلی صفدر ھمدانی نے ڈاکٹر نگہت سے انکے والد کی وفات پر تعزیت کی ہے اور انکے تمام اہل خانہ بھائیوں بہنوں سے تعزیت کرتے ہوئے انکے درجات کی بلندی اور مغفرت کی دعا کی ہے

مرحوم نسیم اشرفی کافی عرصے سے علیل تھے تاہم چند روز پہلے انہیں لاہور کے شیخ زید ہسپتال میں داخل کیا گیا جہاں وہ زندگی کی جنگ ہار گئے

انکے جسد خاکی کو لاہور سے ساہیوال لے جایا جائے گا جہاں انکی تجہیز و تکفین اور نماز جنازہ کے بعد انکی اپنی تعمیر کردہ مسجد میں ہی تدفین ہو گی

مرحوم نے اپنی زندگی فلاحی اور دینی کاموں کے لیئے وقف کر دی ہوئی تھی اور اس سلسلے میں ساہیوال میں ایک بڑی مسجد تعمیر کروائی تھی جس میں باقاعدہ لنگر خانہ وغیرہ بھی بنوایا

انہوں نے اپنی زندگی لکا کچھ حصہ اسوقت کے مشرقی پاکستان میں گزارا اور پھر بنگلہ دیش کے قیام کے وقت پاکستان آ گئے اوراسکے بعد لندن میں مستقل سکونت اختیار کر لی لیکن دینی کاموں کے سلسلے میں دنیا بھر کا سفر کرتے رہ

بانو قدسیہ  4/2/2017 کو ہم سے جدا ہو گئیں

عظیم راہیٹر، ڈرامہ نگار بانو قدسیہ  دس دن لاہور کے ہوسپیٹل میں بیمار رہنے کے بعد 4/2/2017 کو ہم سے جدا ہو گئیں اور آج دوپہر کو لاہور کے قبرستان میں ان کو سپرد خاک کر دیا گیا ۔بانو قدسیہ ہمارے لیے عظیم سرمایہ تھیں بہت اچھی انسان تھیں ۔

بانو آپا ہم کبھی آپ کو نہیں بھولیں گئے آپ ہماری تاریغ کا حصہ ہیں آپ کی اردو ادب اور پنچابی ادب میں خدمات ہمیشہ زندہ رہیں گئ۔اللہ پاک آپ کی معفرت کرے اور آپ کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے آمین

ڈاکٹر نگہت نسیم کے ابا جی آج ہوسپیٹل سے گھر چلے گئے

الحمداللہ ۔۔۔ عالمی اخبار کی نائب مدیرہ اور ہماری پیاری بہن ،دوست ڈاکٹر نگہت نسیم کے ابا جی آج ہوسپیٹل سے گھر چلے گئے ہیں جو کافی دن سے لاہور کے شیخ زاہد ہوسپیٹل میں زیر علاج تھے ۔بہت سن کر دل خوش ہوا ہے ۔۔۔۔۔۔  نگہت آپی اور سب اہل خانہ کو ابا جی کی صحت یابی کی بہت بہت مبارک ہو دُعا ہے اللہ پاک ابا جی کو صحت یابی کے ساتھ لمبی عمر عطا کرے آمین۔۔۔۔۔۔۔  دُعا گو ۔۔۔ نوشی عقیل17352098_1866610050246608_8317499745691740271_n

سڈنی میں درجہ حرارت 45 سنٹی ڈگری ریکارڈ کیا گیا

سڈنی میں آج شدید گرمی

آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں آج بے حد گرمی ہے درجہ حرارت 45 سنٹی ڈگری ریکارڈ کیا گیا وھاں کے  انسان توانسان پرن دے ،جانور سب پریشان ہیں اور اپنے رب سے گرمی کم کرنے کے منتظر ہیں اور اپنے رب سے اُمید کرتےہیں کہ جلد ہی رب  کریم ٹھنڈی ہواوُں کا رخ ان کی طرف کرے گا اور بارش کے ٹھنڈے مہکتے قطرے گرمی سے تپتی زمین پر برسائے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہماری بہت پیاری بہن ،دوست عالمی اخبار کی نائب مدیرہ  ڈاکٹر نگہت نسیم بھی سڈنی میں گرمی  سے پریشان ہیں آئیں سب مل کر دعا کرتے ہیں کہ رب کریم جلد کرمی کا زور کم کرے اپنا رحم کرے اپنا کرم  کرے آمین۔۔۔۔۔۔۔  پریشان زدہ لوگوں کی پریشانی دورکرے ۔۔آمین

نوشی عقیل

بانو قدسیہ کی وفات۔ داستان سرائے کے داستان گو گئے

عظیم راہیٹر بانو قدسیہ لاہور کے ہوسپیٹل میں دس دن بیمار رہنے کے بعد 4/2/2017 کو ہم سے جدا ہو گئیں اور آج دوپہر کو لاہور کے قبرستان میں ان کو سپرد خاک کر دیا گیا بانو قدسیہ آج اپنے اشفاق احمد سے جا ملیں ۔بہت اچھی انسان اور راہیٹر تھیں۔ بانو آپا ہم آپ کو کبھی نہیں بھولیں گئے آپ ہماری تاریغ کا حصہ ہیں آپ کی اردو ادب اور پنجابی ادب میں خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ۔۔۔اللہ پاک آپ کی مغفرت کرے اور آپ کو جنت الفردوس میں جگہ دے آمین

ابو جہل زندہ ھے ؟

ابوجہل زندہ ہے؟ سیدہ رافیعہ گیلانی

اب علم و حکمت کا کیا کام
کیونکہ ملک میں تو اسلام ھے
بس تم انسانیت کا قتل عام کرو
بلا تامل مساجد کو ویران کرو
بلا خوف رشوت و سود کا کاروبار کرو
پیار کرنا ہے تو بد عنوانی سے پیار کرو
کیونکہ ملک میں تو اسلام ھے
سنو۔ جس جس سے دل راضی نھیں تیرا
اس کو پھر کیوں ھے زندہ چھوڑا
سچے عاشق رسول بھی تم ھو
شریعت کے حقدار بھی تم ھو
سچ تو یہ کہ اسلام کے ٹھیکیدار بھی تم ھو
کیوںکہ ملک میں تو اسلام ھے
اللہ کے احکام کو، رسول ص کے فرمان کو
بے فکر ہو کر بھلا دو
بلا خوف انسانیت کی بھر پور تزلیل کرو
اور بحث مباحثے طویل کرو
جو اچھا نہ لگے اسے کافر قرار دے دو
جسکی عبات گاہ چاہو اُسے اگ لگا دو
کیونکہ ملک میں تو اسلام ھے

بلاگ ممبرز متحرک ہو جائیں ۔۔ اب کام کا وقت آ گیا

عالمی اخبار کے بلاگ دوستوں کو نوید ہو کافی آرام ہو چکا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب کام کا وقت آ گیا ۔۔۔۔
خوشی کی بات یہ ہے کہ دو ماہ سے زیادہ عرصے کے بعد عالمی اخبار کی نئی ویب سائٹ‌ منظر مشہود پر آ گئی ہے ۔ویب سائٹ‌کی تیاری اور اسے آن لائن ہونے تک کی تمام روداد میں جلد ہی تفصیلی لکھونگی ۔ لیکن اس وقت آپ تمام دوستوں سے درخواست کرنی ہے کہ پہلے کی طرح ایک بار پھر عالمی اخبار کے بلاگ کو فعال بنایا جائے ، اور ہم سب اپنی فکری اور علمی گفتگو سے ایک دوسرے کے علم میں اضافہ کرنے کے ساتھ ساتھ سوچ بچار کی نئی راہیں‌کھولیں‌۔

اب ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ ہم اپنے مزید دوسرے احباب کو بھی بلاگ پر مدعو کریں اور اپنی سوچ اور فکر کی روشنی تقسیم کریں ۔عالمی اخبار کے ادارتی ادارے نے نوشی عقیل کو بلاد کی ماڈریٹر کے طور پر زمیداری دی ہے ۔ مجھے یقین ہے کہ وہ اپنی نئی زمیداری کو خوش اسلوبی سے سر انجام دے گی ۔۔۔ انشاللہ ۔۔

دعاگو
ڈاکٹر نگہت نسیم

ممتاز شاعر صہبا اختر 30 ستمبر 1931ء کو جموں میں پیدا ہوئے۔

sehba-akhtar
اردو کے ممتاز شاعر صہبا اختر کا اصل نام اختر علی رحمت تھا اور وہ 30 ستمبر 1931ء کو جموں میں پیدا ہوئے۔
ان کے والد منشی رحمت علی، آغا حشر کاشمیری کے ہم عصر تھے اور اپنے زمانے کے ممتاز ڈرامہ نگاروں میں شمار ہوتے تھے۔

صہبا اختر نے بریلی سے میٹرک کا امتحان پاس کرنے کے بعد علی گڑھ یونیورسٹی میں داخلہ لیا مگر اسی دوران پاکستان کا قیام عمل میں آگیا اور انہیں اپنے اہل خانہ کے ہمراہ پاکستان آنا پڑا۔ پاکستان آنے کے بعد صہبا اختر نے بہت نامساعد حالات میں زندگی بسر کی پھر انہوں نے محکمہ خوراک میں ملازمت اختیار کی اور اسی ادارے سے ریٹائر ہوئے۔

صہبا اختر کو شعر و سخن کا ذوق زمانہ طالب علمی سے ہی تھا۔ وہ ایک زود گو شاعر تھے۔ انہوں نے نظم، قطعہ، گیت ، ملی نغمے، دوہے اور غزل ہر صنف سخن میں طبع آزمائی کی۔ ان کے مجموعہ ہائے کلام میں سرکشیدہ، اقرا، سمندر اور مشعل کے نام شامل ہیں۔ حکومت پاکستان نے انہیں ان کی وفات کے بعد صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔
٭19 فروری 1996ء کو صہبا اختر کراچی میں وفات پاگئے اور گلشن اقبال کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔
ان کا ایک شعر ملاحظہ ہو:

یہ کون دل کے اندھیروں سے شام ہوتے ہی
چراغ لے کے گزرتا دکھائی دیتا ہے

عالمی اخبار جلد ہی نئے انداز اور نئے جدید روپ میں

small_150ver
آن لائن صحافت کی دنیا کا ایک بے لاگ اور صحافت کے غیر تجارتی اصولوں کی بنیاد پر لگ بھگ نو سال سے جاری ۔۔۔ عالمی اخبار۔۔۔ اگلے چند ہی روز بعد ایک نئے انداز اور نئے جدید روپ میں اپنے قارئین کی خدمت میں پیش کیا جائے گا

عالمی اخبار کی نئی ویب سائٹ کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اول تو یہ خط نستعلیق میں ہو گی اور دوسرے اسے ٹیکنالوجی کے جدید ترین تقاضوں سے ہم اہنگ کیا گیا ہے۔

عالمی خبروں کے علاوہ پاکستان، علاقائی، براعظمی، تازہ ترین، سائینس، صحت، ادب، دین، کھیل، ملتی میڈیا اور متعدد دیگر اہم شعبوں کے علاوہ ایک حصہ انگریزی خبروں اور رپورٹس کے لیئے مختص ہے

اس نئی ویب سائٹ کی تیاری میں دو ماہ سے زیادہ کا عرصہ لگا ہے اور اسے تیار کرنے میں انٹر نیٹ سیکیورٹی اور ویب ڈیزائننگ میں مہارت رکھنے والےسلمان مرچنٹ اور مارکیٹنگ اور ویب سلوشنز کے ندیم زیدی کا بے لوث تعاون اور ہر قدم پر انکے مفید مشورے بھی شامل رہے ہیں

ادارہ عالمی اخبار جناب سلمان مرچنٹ اور ندیم زیدی کا ممنون ہے اور عالمی اخبار کے ادارتی بورڈ نے ان دونوں کرم فرما

ندیم زیدی اور سلمان مرچنٹ
حضرات کو ٹیکنالوجی اور ویب ڈیزائننگ کے شعبوں کے سربراہ کے طور پر عالمی اخبار کے ادارتی بورڈ میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے جسکا باقاعدہ اعلان بھی جلد ہی کر دیاجائے گا

پاکستان میں ویب ڈیزائننگ اور ڈیٹا بیس کے نام پر جو عطائی لوگ کام کر رہے ہیں اس نئے سفر میں انکے ہونے والے تجربات بھی ایک الگ داستان ہے جسے مناسب وقت پر تفصیل سے بیان کریں گے۔ یہ نام نہاد ادارے بیرونی ممالک کے لوگوں کو جتنا مالی، ذہنی اور وقت کا نقصان پہنچا سکتے ہیں پہنچاتے ہیں۔

عالمی اخبار کی نئی ویب سائٹ میں بلاگ کے شعبے کو ایک بار پھر سے فعال بنایا جا رہا ہے

ہمارے لاکھوں قارئین اس بات کے شاہد ہیں کہ ہم گزشتہ کئی برس سے کسی مالی منفعت یا تجارتی اغراض کے بغیر ایک پیسے کے اشتہار کے بنا عالمی اخبار کو چلاتے آ رہے ہیں اور ہمارے تمام ساتھیوں کی انتھک محنت اور غیر مفاداتی رویے کی وجہ سے آج عالمی اخبار کو آن لائن اردو اخبارات کی دنیا میں ایک اہم مقام حاصل ہے

ہمیں یقین ہے کہ قارئین کو عالمی اخبار کی نئی صورت اور جدید انداز پسندآئے گا اور ہم آپکی آراء کے منتظر رہیں گے

نعت

نعت

مری شان کعبہ، مری جاں مدینہ
وہاں پر مرا دل، وہاں پر سفینہ

خدا کا کرم ہے یہ درسِ محمد
سکھا ہمیں زندگی کا قرینہ

مزہ پھر بھی آیا ہے جنت کا مجھکو
جُھلستی ہوئ دھوپ شہرِ مدینہ

کروڑوں دُرود و سلام اُن کے اوپر
جنہوں نے سکھایا مجھے مر کے جینا

گنہ گار تھا ، ہے یہ ظرفِ محمد
بلایا ظفر کو بھی شہرِ مدینہ

TOP 100 PERSONALITIES OF THE WORLD

TOP 100 PERSONALITIES OF THE WORLD

by Michael H. Hart

A Ranking of the Most Influential Persons in History

1. Muhammad (P.B.U.H)
2. Isaac Newton
3. Jesus Christ
4. Buddha
5. Confucius
6. St.Paul
7. Ts’ai Lun
8. Johann Gutenberg
9. Christoper Columbus
10. Albert Einetein
11. Louis Pasteur
12. Galileo Galilei
13. Aristotle
14. Euclid
15. Moses
16. Charles Darwin
17. Shih Huang Ti
18. Augustus Caesar
19. Nicolaus Copernicus
20. Antoine Laurent Lavoisier
21. Constantine the Great
22. James Watt
23. Michael Faraday
24. James Clerk Maxwell
25. Martin Luther
26. George Washington
27. Karl Marx
28. Orville and Wilbur Wright
29. Genghis Kahn
30. Adam Smith
31. Edward de Vere
32. John Dalton
33. Alexander the Great
34. Napoleon Bonaparte
35. Thomas Edison
36. Antony van Leeuwenhoek
37. William T.G. Morton
38. Guglielmo Marconi
39. Adolf Hitler
40. Plato
41. Oliver Cromwell
42. Alexander Graham Bell
43. Alexander Fleming
44. John Locke
45. Ludwig van Beethoven
46. Werner Heisenberg
47. Louis Daguerre
48. Simon Bolivar
49. Rene Descartes
50. Michelangelo
51. Pope Urban II
52. ‘Umar ibn al-Khattab’
53. Asoka
54. St. Augustine
55. William Harvey
56. Ernest Rutherford
57. John Calvin
58. Gregor Mendel
59. Max Planck
60. Joseph Lister
61. Nikolaus August Otto
62. Francisco Pizarro
63. Hernando Cortes
64. Thomas Jefferson
65. Queen Isabella I
66. Joseph Stalin
67. Julius Caesar
68. William the Conqueror
69. Sigmund Freud
70. Edward Jenner
71. Wilhelm Conrad Roentgen
72. Johann Sebastian Bach
73. Lao Tzu 74. Voltaire
75. Johannes Kepler
76. Enrico Fermi
77. Leonhard Euler
78. Jean-Jacques Rousseau
79. Nicoli Machiavelli
80. Thomas Malthus
81. John F. Kennedy
82. Gregory Pincus
83. Mani
84. Lenin
85. Sui Wen Ti
86. Vasco da Gama
87. Cyrus the Great
88. Peter the Great
89. Mao Zedong
90. Francis Bacon
91. Henry Ford
92. Mencius
93. Zoroaster
94. Queen Elizabeth I
95. Mikhail Gorbachev
96. Menes
97. Charlemagne
98. Homer
99. Justinian I
100. Mahavira

ہم کہاں ہیں

ایرانی، تُرک یا عرب اپنی ایرانی، تُرک یا عرب تاریخ پر فخر کرتے ہیں۔ جبکہ ہم بجائے تاریخِ پاکستان کے مسلمانوں کی تاریخ پر فخر کرتے ہیں۔ اس پر عربوں کا جواب ہوتا ہے کہ یہ تو ہماری تاریخ ہے تُم کدھر سے آگئے؟ ہم پاکستانی ہونے پر فخر نہیں کرتے ؟ ہمارے پاس پنجابی، سندھی، بلوچ، پختون، سرائیکی، کشمیری، اُردو کلچر تو ہے لیکن پاکستانی کلچر کیا ہے ، یہ بڑا مشکل سوال ہے۔ اس کا جواب شاید آپ کے پاس ہو۔

مسلمانوں میں مفاہمت

جسقدر سعودی عرب ماضی میں پاکستان کی مالی مدد کرتا رہا ہے اس کے پیشِ نظر پاکستان کو اس بات کا اختیار نہیں ہے کہ وہ اسوقت جبکہ سعودی بادشاہت دباؤ میں ہے اس کی مدد نہ کرے۔ اپنے محسن کی مدد کرنا یقیناً ہمارا فرض ہے۔ لیکن اتحادِ بینالمسلمین کی ہمیں سخت ضرورت ہے۔ ترکی اور پاکستان اس وقت اس پوزیشن میں ہیں کہ یہ دونوں طاقتور ممالک اس وقت ملکر سعودی عرب اور ایران کے مابین ایک متحرک اور پُر عزم ثالث کا کردار ادا کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان غلط فہمیوں کو دور کروائیں۔ سعودی عرب کو سب سے بڑا ڈر اپنے آئل کا ہے۔ انکی آئل فیلڈز جنوبی عراق سے جُڑی ہوئ ہیں جہاں کے عوام سعودی بادشاہوں سے خوش نہیں ہیں۔ ان پر سعودی بادشاہوں نے ہمیشہ ظلم ہی کیا ہے۔ تُرک بھی ان بادشاہوں سے نالاں رہے ہیں کیونکہ انہوں نے انگریزوں سے ملکر خلافتِ عثمانیہ کو ختم کروادیا اورخود بادشاہ بن بیٹھے۔ بہرکیف ترکوں نے اس وقت بڑا دل کرکے اتحادِ بینالمسلمین کا بیڑہ اُٹھایا ہے۔ پاکستان مسلمانوں کا سب سے زیادہ طاقتور ملک ہے۔ ترکی اور پاکستان اسوقت ملکر ایران اور سعودی عرب کو گلے ملواسکتے ہیں۔ یہ مسلمانوں پر سب سے بڑا احسان ہوگا ۔ ایرن کو یہ یقین دہانی کروانے کی ضرورت ہے کہ وہ ان بادشاہتوں میں کوئ ماخلت نہیں کریگا ۔ جبکہ سعودی بادشاہوں کو بھی دوسرے مسالک میں مداخلت سے دور رہنے کی ضرورت ہے۔

کھیل،سیاست یا عدم دلچسپی

کرکٹ ورلڈ کپ ہورہا ہے اور کھیل میں ہار بھی ہوتی ہے اور جیت بھی۔ لیکن کھیل میں لڑنا یا نہ لڑنا کھلاڑی اور ٹیم کے ہاتھ میں ہوتا ہے عرب امارات میں کچھ ہی عرصہ قبل پاکستانی ٹیم نے ٹیسٹ میچز میں جس طرح نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کو شکست سے دوچار کیا تھا ، جس طرح پاکستانی بلّے بازوں نے سنچریوں کا انبار لگایا تھا اُسکے بعد یہ اُمید ہوئ تھی کہ اس مرتبہ پاکستان شاید ولڈ چیمپین بن جائے۔ لیکن ویسٹ انڈیز کے خلاف پاکستانی ٹیم نے جس بے دلی سے کھیلنے کا مظاہرہ کیا ہے اُسکی مثال نہیں ملتی۔ Continue reading کھیل،سیاست یا عدم دلچسپی

فرانس جیسے ممالک سے درآمدات کو بند کردینا چاہئے

دہشتگردی مسائل کا حل نہیں ہے۔ دہشت گردی کی وجہ سے مسلمان بالعموم اور پاکستان بالخصوص دنیا کی نفرت کا نشانہ بن رہے ہیں۔ اگر کوئ بھی ملک مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرتا ہے تو اُس ملک پر سارے مسلمان ممالک کو او آئ سی کے پلیٹ فارم پر کھڑا ہوکر اُس ملک پر سینکشنز لگادینے چاہئیں۔ سب سے بڑا سینکشن یہ ہوگا کہ مسلمان ممالک ایسے ملکوں سے درآمداد بند کردیں۔ اُنکی اشیا استعمال نہ کریں۔

طالبان کے حمائتی

جب تک مولانا فضل الرحمٰن، جنرل حمید گُل، نواز شہباز شریف، عمران خان، شدت پسند ملا یا جنرل بیگ سے طالبان کے مدر پدر آزاد حمائتی آزاد گھومتے رہیں گے پاکستان میں عوام آرام سے نہیں سوسکتے۔ Continue reading طالبان کے حمائتی