اب میں اپنے مشاہدات اور تجربات بات کرونگی لیکن اس سے پہلے ایک ضروری بات جو آپکو کرنا ھے وہ یہ کے آپ جس ملک جارھے ھیں اس ملک کی کرنسی ضرور ساتھ لے لیں ھمارے ملک میں بھی دنیا کے مخلتلف ممالک کی کرنسی مل جاتی ھے آپ بھی سفر پر روانہ ھونے سے پہلے عراق کی کرنسی ضرور لے لیں جو پاکستان کے ہر بڑے شہر میں ان لوگوں سے مل جاتی ھے جو لوگ کرنسی کا کاروبار کرتے ھیں اسکے لئے ان کاروباری حضرات کے آفس ھوتے ھیں – اگر آپ کرنسی نھیں تبدیل کر رھے تھے بھی کوئی اتنا بڑا مسلہ نھیں ھے وہاں بھی آپکو کرنسی ایکسچینجر والے مل جائیں گے لیکن وہاں آپکو تھوڑا کم قیمت ملے گی کیونکہ کاروباری لوگ کرنسی تبد یل کرنے میں دوسرے ملک کی کرنسی کی قیمت تھوڑی کم لگاتے ھیں

ھم نے بھی وہاں سے جاکر کرنسی تبدیل کروائی تھی لیکن اگر ھم قافلہ کے ساتھ نیں جارھے تو ھمیں راستہ میں بھی ٹیکسی یا بس میں سفر کرنے کے لئے پیسے دینا ھونگے تو ضروری ھے ھمارے پاس عراق کی کرنسی ھو جو ھم اپنے ملک سے ھی لے کر جائیں –
اب آیئے اگے بڑھتے ھوئے سفر کی بات کرتے ھیں ھم لوگ بغداد پہنچنے سے پہلے دوحہ ایئر پورٹ پہنچے تھے تو وہاں دوحہ میں ھمیں ایئر پورٹ پر طرح طرح کے لوگ دکھائی دئے دوحہ انٹر نیشل اہر پورٹ ھے ادھر سے تقریبا پوری دنیا میں ھی فلائٹ جاتی ھیں تو لوگ بھی پھر مختلف ملکوں کے ھی وہاں پر دیکھنے کو ملے کوئی گورے کوئی کالے کوئی مشرقی کوئی مغربی کوئی ایشیائی ، لیکن ایک بات بہت دکھ کی بات تھی ھم میں سے یعنی پاکستانی ایسے بھی تھے جو نیم عریاں آنگریز عورتوں کو گھور گھور کر دیکھ بھی رھے تھے اور ساتھ ھی باتیں بھی کر رھے تھے دیکھیں جی یہ کتنا بے غیرت لوگ ھیں انکے لباس دیکھیں کوئی کہہ رہا تھا یہ شیطان ابلیس کے ساتھی ھیں ھیں یہ بے حیا ھیں ، جب کہ کوئی آنگریز ایسا نھیں تھا جسے ھم عجیب لگ رھے ھوں اور وہ ھمیں گھور رہا ھو بس وہ اپنے مگن تھے ادھر ادھر جارھے تھے اس بات سے بے نیاز کے کوئی ھمیں دیکھ رہا ھے یا کوئی کیا کر رہا ھے

جب کہ اگر ھمیں انکا لباس عجیب لگ رہا تھا تو ھم بھی تو انکو عجیب لگ رھے ھونگے کیونکہ اگر وہ ھم سے مختلف لباس میں تھے تو وہ ھم بھی تو ان سے مختلف تھے لیکن لوگوں پہ آوازیں کسنا ان پر ھسنا یا تمسخر اڑانا شاید ھماری قوم کی ھی فطرت ھے جب کہ یہ تعلیمات ھمارے دین اسلام کی ھیں کسی کا مزاق نا بناؤ کسی کو کم تر نا جانو اپنے دین کا یا اپنے دینی اصولوں کو دوسروں پر مسلط نا کرو کیونکہ اگر وہ اسلام کو نھیں مانتے تو یقینا اسلام کے اصولوں اور فرمان کو بھی نھیں مانتے ھونگے مگر ھماری قوم میں اتنا حوصلہ کہاں ھے کے دوسرے پر اپنی مرضی نہیں چلانی ہر کسی کی مرضی وہ جس طرح رھے جس طرح کا طریقہ جینے کے لئے اپنائے یہ فعل ہر انسان کا زاتی ھے اور ہر انسان خدا کو خود جواب دہ ھے اور خدا بھی خود ہر بندہ کے بارے میں جانتا ھے اور حساب لینا بھی خوب جانتا ھے یہ اللہ کا اختیار ھے بندے کا نھیں
ہاں ھمیں صرف اتنا کرنے کی اجازت ھے کہ ھم کسی بھی انسان اور غیر مذہب کو پیار اور معزرت و عاجزی کے ساتھ اسلام کی دعوت دے سکتے ھیں یا پھر ہر مسلمان اخلاقی طور پر اتنا اچھا اور پر درد پر احساس انسان بن جائے جسے دیکھ کر محسوس کر کے خود ھی دوسری قومیں اسلام کو پسندیدہ سمجھتے ھوئے دین اسلام میں آجائیں کیونکہ اچھے اخلاق محبت عدل و انصاف کی وجہ سے مسلمان کو اتنا اچھا سمجھیں کہ انھیں لگے کہ دنیا میں صرف ایک مسلمان قوم ھی ایسی ھے جو اچھی ھے یہ تب ھو گا جب ھم الگ الگ اپنی اپنی زات کی اصلاح کریں گے خود کو مثال بناکر ھی ہر دل عزیز بنا جاسکتا ھے یوں بے جا تنقید یا حقارت والی نظر دیکھنے سے کوئی مرعوب نھٰیں ھوتا تو کیا اچھا سمجھے گا –
اگر ھم کسی کا کوئی عیب دیکھ بھی رھے ھیں تو اس کو روکنے کے لئے محبت عاجزی کی ضرورت ھوتی ھے – اللہ پاک ھمیں توفیق دے ھم اپنی اصلاح کریں مکلمل عملی تصویر بنا کر دوسروں کے دکھائیں لوگ ھمارے بلند کردار دیکھ کر خود ھماری طرٖ ف کھچے آئیں –
آیئے اب سفر عراق کی طرف ، 6 ، 7 گھنٹے بعد ھم بغداد ایر پورٹ پہنچھے ادرھر جب ھم پہنچے رات کے تین بجے کا وقت ھوگا سامان چیک کراتے ھمیں صبح کے 4 بج گئے پھر ایر پورٹ سے باھر آئے وہاں ھمیں بس کے زریعے تیکسی یا بس سٹینڈ تک پہنچایا یہ بس ایر پورٹ کی تھی ، اب ھمیں ھمارا زیارات کا سفر شروع کرنا تھا ادرھر یہ بتاتی چلوں یہ قافلہ والے جب زائرین سے پییسے لے لیتے ھیں تو اپنا رویہ یا لہجہ ایک دم سے بدل لیتے ھیں اور بہت تنگ کرتے ھیں بعض دفعہ لہجہ بھی انتہائی سخت کرتے ھیں کیونکہ اب ھم پوری طرح انکے بس میں آچکے ھوتے ھیں

ھمارے پاسپورٹ ھمارے سفری اخراجات سب یہ ایڈوانس لے چکے ھوتے ھیں مطلب انکا پورا ھو چکا ھوتا ھے اب ھم لوگ الٹا ان کے زیر اثر ھوتے ھیں اگر ھم خود سے جائیں اور اپنی خود کی فیملی کے ساتھ جائیں تو حالات مختلف ھوتے ھیں ھم سفر بھی اپنی مرضی اور آسان طریقہ سے کر سکتے ھیں جیسے بغداد سے کاظمین کا سفر بہت کم ھے جیسے ھمارے ملک میں پنڈی اور اسلام آباد آپس میں جڑواں شہر بالکل ایسے ھی بغداد اور کاظمین ھیں – تو آپ بھی پہلے دن اپنے عراق میں داخلے کا سفر بغداد سے کاظمین جاتے ھوئے کریں کاظمین میں حضرت موسی کاظم کی مزار ھے جو شہر کے انتہائی پر رونق اور گنجان آبادی والے علاقہ میں ھے

جاری ہے
رافیعہ گیلانی۔ راجن پور












