سید فخرالدین بلے ۔ تحریر: ممتاز احمد طاہر

0
1302

سید فخرالدین بلے ۔ دُنیائے ادب و صحافت کی آبرو
تحریر: ممتاز احمد طاہر ، چیف ایڈیٹر روزنامہ آفتاب ، ملتان‘لاہور‘ کراچی

اردو صحافت کے دوسوسالہ جشن پر میں ایک ایسی قد آور علمی ، ادبی اور
صحافتی شخصیت سید فخرالدین بلے کی فنی خدمات پر قلم اٹھانا چاہتاہوں ،
جنہوں نے مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں بی ایس سی کے طالب علم کی حیثیت
سے اپنے صحافتی کیرئیر کا آغازماہنامہ جھلک کے بانی ایڈیٹر کی حیثیت سے
کیا ۔اب پاک و ہند کی اردو صحافت نے اپنی زندگی کی تیسری صدی میں قدم
رکھ دیا ہے۔ پہلا اردو اخبار جام جہاں نما متحدہ ہندوستان کے شہر کولکتہ
سے 1822 میں جاری ہواتھا۔اگرچہ گزشتہ دو صدیوں کے دوران اردو
صحافت نے بہت ترقی کی۔ شہر شہر سے اردو اخبارات شائع ہونے کاسلسلہ
شروع ہوگیا۔بہت سے اخبارات رجحان ساز ثابت ہوئے ۔بہت سی سیاسی ،
سماجی، روحانی اورتہذیبی تحریکیں بھی اردو اخبارات و رسائل نے چلائیں
اور ان میں سے بیشتر کامیابی اور کامرانی سے ہم کنار بھی ہوئیں ۔اس حقیقت
سے انکار نہیں کہ جہاں جہاں اردو لکھی ، بولی اور پڑھی جاتی ہے ، وہاں
اردو اخبارات و رسائل کے قارئین کرام بڑی تعداد میں موجود ہیں اور یہ بھی
ایک حقیقت ہے کہ پاکستان اوربھارت ہی کیا دنیا کے کسی بھی ملک سے اگر
کوئی بھی اردو اخبار یا جریدہ نکلا ، اس نے اردو کے پہلے اخبار جام جہاں
نما ہی کاکردار ادا کیا ۔ اخبارات و جرائد ہی نہیں الیکٹرانک میڈیا بھی اسی
راستے پر گامزن رہا اور آ ج بھی ہے ۔یہی نہیں ڈیجیٹل میڈیا اور سوشل میڈیا
بھی جام جہاں نما ہی کی روش پر چلتا پھرتا اور دوڑتا نظر آرہاہے۔پہلے اردو
اخبار جام جہاں نما میں وہی کچھ نظرآتاتھا ،جو کچھ دنیا میں ہورہاہے اور
اخبارات و جرائد ہوں یا الیکٹرانک میڈیا، ڈیجیٹل میڈیا یا سوشل میڈیا ، دنیا بھر
میں جوکچھ ہورہاہے ، اسی کا آئینہ آج کا میڈیا پیش کرتاہے۔یایوں کہئے کہ
پرنٹ میڈیا نے جو نقوش چھوڑے ہیں ۔ آج کا میڈیا انہی کی پیروی کررہا
ہے۔نت نئی ایجادات نے میڈیا انڈسٹری میں ایک انقلاب ضروربرپا کردیا

ہے۔گھر بیٹھے خبریں اور تصویریں مل رہی ہیں ۔اطلاعات کاایک سیلاب ہے،
جوہروقت آیارہتا ہے۔اسے سمیٹنے کیلئے اخبارات کے صفحات ناکافی ہیں ۔اسی
لئے خبروں ،تصویروں ،اور دیگر اشاعتی مواد کے چناﺅ کی ضرورت پڑتی
ہے۔تجربہ کار صحافی حضرات اپنے تجربے، پیشہ ورانہ مہارت ،ٹیلنٹ
،قارئین کرام کی ضروریات اور اپنی پالیسیوں کی بنیاد پراہم ترین خبروں
کاانتخاب کرکے اخبارات کے صفحات سجاتے ہیں۔ بعض دانشوروں کے اس
خیال سے مجھے اتفاق نہیں کہ اخبارات دم توڑ رہے ہیں۔ اخبارات کاغذ سے
ویب سائیٹ پر ضرور چلے گئے ہیں ۔اس لئے یہ کہنا زیادہ مناسب معلوم
ہوتاہے کہ نئی ٹیکنالوجی نے اخبارات و جرائد کونئی زندگی دی ہے۔
میں نے اپنی صحافتی زندگی کاآغاز نوجوانی کی دہلیز پر قدم رکھنے کے ساتھ
ہی کردیاتھا۔ستر کی دہائی میں مدینة الاولیاءملتان سے روزنامہ آفتاب ملتان
جاری کیا۔اب اس کی اشاعت کے قریباً پچاس سال مکمل ہورہے ہیں۔یہ اخبار
ملتان کے ساتھ ساتھ لاہور اور کراچی سے بھی بیک وقت شائع ہورہاہے۔اس
اخبار کی اشاعت کے چند سال بعد وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت
کے خلاف پورے ملک میں تحریک نظام مصطفی چلی ۔"آفتاب"نے اپنے
مفادات کو پس پشت ڈال دیا اور ایک بڑے کاز کیلئے اس تحریک میں بڑھ
چڑھ کر حصہ لیا۔اخبار کی مانگ اتنی بڑھ گئی کہ یہ اخبار، رات گئے تک
چَھپتا رہتا تھا اور اس کی مانگ پوری کرنا مشکل ہوگیاتھا۔ایسا ٹیم ورک تھا کہ
بیان سے باہر ہے۔میں اس کامیابی کو اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کے سوا کوئی
نام نہیں دے سکتا۔ تحریک ،نظام مصطفی کے نام پر چلی ۔اس لئے خاتم النبیین
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رحمتیں بھی ہمارے ساتھ ساتھ رہیں۔اس صحافتی
سفر میں میرے چھوٹے بھائی عزیز انجم بھی میرے دست و بازو بنے رہے۔وہ
تومدتوں پہلے امریکا میں جابسے اور آج کل میرے دونوں بیٹے اسد ممتاز اور
محسن ممتاز میرے ساتھ آفتاب کااجالا پھیلارہے ہیں۔مجھے اللہ تعالیٰ نے
اخباری سیاست میں بھی بے حد عزت سے نوازا ۔ گزشتہ تین دہائیوں سے
متعدد مرتبہ میں اے پی این ایس اور سی پی این ای میں نائب صدر ،چیئرمین

ریجنل پریس کمیٹی ، چیئرمین پنجاب کمیٹی جیسے اہم مرکزی عہدوں پر
خدمات سرانجام دے رہا ہوں ۔ آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی کے فورم سے
میں نے علاقائی اخبارات و جرائد کی ترقی کیلئے جدوجہد کی اوراے پی این
ایس کی تاریخ میں منعقد ہونے والے دونوں ریجنل پریس کنونشنز کا چیف
آرگنائزر بننے کا اعزاز بھی میرے حصہ میں آیا۔ خواجہ فریدکلچرل فورم
پاکستان کے صدر کی حیثیت سے بھی میں نے روہی چولستان کے عظیم
المرتبت شاعر خواجہ غلام فرید کی تعلیمات اور آفاقی کلام کو عام کرنے کے
لئے جوخدمات انجام دیں ،وہ آفتاب کے شماروں کی شکل میں آپ کے سامنے
ہیں۔سرائیکی وسیب کی محرومیوں کی نشان دہی کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں
دور کرنے کیلئے بھی میں نے حکمرانوں کی توجہ بھر پور انداز میں مبذول
کرانے کاسلسلہ جاری رکھا اور اس میدان میں بھی سید فخر الدین بلے میرے
مربی و محسن بنے اور مجھے ہر قدم پر ان کی رہنمائی حاصل رہی۔
مجھے یہ جان کرخوشی ہوئی کہ بین الاقوامی سہ ماہی اردوجریدے ورثہ
نیویارک نے دوسوسالہ جشن صحافت نمبر کی اشاعت کافیصلہ کیا ہے ۔میری
عمر بھی اسی دشت کی سیاحی میں گزری ہے۔اس لئے میں منتظمین کواس
اشاعت خاص پر دلی مبارک باد پیش کرتا ہوں۔میں نے بہت سوچ بچار کے
بعداس اشاعت خاص کیلئے جس موضوع کاانتخاب کیا ہے۔وہ ہے سید فخرالدین
بلے ۔ آبروئے ادب و صحافت ۔اس موضوع کاانتخاب میں نے محض اس لئے
نہیں کیا کہ میری سیدفخرالدین بلے مرحوم کے ساتھ نیاز مندی کوبھی آدھی
صدی ہوچکی ہے اور ان سے مجھے ہمیشہ شفقت اور محبت بھی ملی اور
انہوں نے میری پیشہ ورانہ رہنمائی میں کبھی کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا
بلکہ اس لئے بھی کہ دنیائے ادب و صحافت کی بڑی بڑی ہستیوں کو میں نے
ان کا مداح پایا۔ میں نے انہیں بڑی روانی کے ساتھ اردو اور انگریزی زبانوں
میں ڈکٹیشن دیتے دیکھا ۔انہیں اردو، انگریزی اورفارسی سمیت کئی زبانوں پر
غیرمعمولی عبور حاصل تھا۔ اپنے پورے صحافتی کیرئیر میں ،میں نے جوبہت
لائق فائق شخصیات دیکھیں ۔ان میں سے کچھ کو میں نے بہت اعلیٰ ظرف

،اپنے پیشے کاماہر اوراپنی ذات میں ایک ادارہ پایا، اورایسی صف اول کی
شخصیات میں سید فخرالدین بلے نمایاں ہیں۔وہ محض ممتاز ماہر تعلقات عامہ
نہیں تھے بلکہ وہ اپنی ذات میں خود ایک متحرک ادارہ ، تعلقات عامہ کا جیتا
جاگتا انسٹی ٹیوشن اور بقول ڈاکٹر عاصی کرنالی ایک چلتی پھرتی یونیورسٹی
تھے۔یہ صرف میرا تاثر اور خیال نہیں بلکہ ان کے عہد کی بڑی بڑی ادبی ،
علمی، تہذیبی اور صحافتی شخصیات کی رائے بھی ہے۔پروفیسر پریشان خٹک
نے اپنے ایک تعزیتی بیان میں کہا تھا کہ یہ وہ شخصیت تھے ،جن کا کام کئی
اداروں کی کارکردگی پر بھاری تھا۔میں نے کئی بار سوچا کہ اس شخصیت نے
جوصحافتی خدمات انجام دیں ، ان پر تفصیل کے ساتھ لکھوں یا جو کچھ بڑے
بڑے ادیبوں اور صحافیوں نے لکھا ہے ، انہیں یکجا کرکے ایک کتاب کی
صورت دے دوں لیکن ان کے چاہنے والے بازی لے گئے اور میں سوچتا ہی
رہ گیا۔ جمیل الدین عالی نے جنگ میں ایک طویل کالم لکھا ، جس کاعنوان تھا
۔سیدفخرالدین بلے۔ایک آدرش ۔ ایک انجمن ۔ یہ کالم تین قسطوں میں روزنامہ
جنگ میں شائع ہوا۔ اولڈ بوائز ایسو سی ایشن مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کویہ
عنوان اتنا پسند آیا کہ اس ادب دوست تنظیم نے اسی عنوان کے تحت ایک
خوبصورت کتاب ترتیب دے دی ،جسے "ریختہ" پرپڑھاجاسکتاہے۔معروف
شاعر اورادیب اور مدیراقدار شبنم رومانی نے۔ سیدفخرالدین بلے کی بیاض کے
ساتھ سات دن گزارے اور ان کے منتخب اشعار پرمبنی کتاب ترتیب دے کرادب
دوستی کا ثبوت مہیاکردیا۔ پاکستان اور بھارت کے ادیبوں ، شاعروں ،
دانشوروں ، اسکالروں ،علماءاورنامورصحافیوں نے سید فخرالدین بلے پر بہت
کچھ لکھاتھا۔اسے اولڈ بوائز ایسوسی ایشن مسلم یونیورسٹی علی گڑھ نے جمع
کرکے ایک کتاب کی شکل میں شائع کردیا ہے۔اس کاپبلشر عالمی اخبار
انگلینڈہے۔بھارت سے ہجرت کے بعد سید فخرالدین بلے نے بہاولپور کی
سرزمین پر پڑاﺅ ڈالا تھا اوران کی سرکاری ملازمت کاسلسلہ بھی وہیں سے
شروع ہواتھا ۔اس کے بعد وہ ترقی کرتے چلے گئے اور خانہ بدوشی کی زندگی
اس لئے اختیارکرنے پر مجبور ہوئے کہ اس ملازمت میں تبادلوں پر تبادلے
ہوتے رہے۔ملتان، لاہور،راولپنڈی،سرگودھا ،قلات، خضدار ،کو ئٹہ اور اسلام

آباد سمیت بہت سے شہروں میں انہوں نے زندگی گزاری ۔ ہر شہر میں قلم
کاروں کے مفادات کاخیال رکھا۔ صحافیوں اورصحافتی تنظیوں کے ساتھ ان
کے بڑے مستحکم تعلقات اس لئے بھی رہے کہ وہ اپنے سرکاری اثرو رسوخ
کی بناءپر ان کے کام آتے رہے۔ جہاں جہاں اور جس جس شہر میں وہ تعینات
رہے، وہاں کے ارباب ادب و صحافت ان کے دور کوآج بھی یاد کرتے ہیں۔ان
کے گھر پرادیبوں اورشاعروں کا اکثر میلہ سجارہتاتھا۔انہوں نے ایک ادبی اور
ثقافتی تنظیم "قافلہ" بھی بنارکھی تھی، جس کی ماہنامہ محفلیں برسوں ان کے
گھر پرسجتی رہیں۔حال ہی میں ان کے دیرینہ دوست اور نامور شاعر،
ادیب،اور سیاستدان سیدتابش الوری نے ایک کتاب تالیف کی ہے۔عنوان
ہے۔سیدفخرالدین بلے۔ ایک داستان ۔ایک دبستان۔اس کے مقدمے میں انہوں نے
ان کی شخصیت کے بہت سے پہلو اجاگرکئے ۔مندجہ ذیل سطور میں ، میں ان
کے مقدمے کاایک اقتباس پیش کررہاہوں۔
"بَلّے صاحب پیدائشی طور پر تعلقات عامہ کے خوبصورت سانچے میں ڈھلے
ہوئے ایک سحرکار آدمی تھے، جوصحافیوں کے دلوں میں اترکے ہر مشکل
آسان کرنے کاہنر بھی جانتے تھے اور انہیں ارباب بست و کشاد سے برابری
کی بنیاد پر دلائل کے ساتھ اپنا موقف منوانے کازبردست ملکہ بھی حاصل
تھا۔اسی حوالے سے دوران ملازمت کئی شہروں میں تعینات رہے اور جہاں
بھی رہے ،داستاں چھوڑ آئے۔
بَلّے صاحب اپنی ذات میں ایک کائنات تھے۔بوقلموں ،گوناگوں ،رنگارنگ !۔
بیک وقت ایک کرشمہ ساز افسر،ایک عظیم انسان،ایک پختہ کار شاعر،ایک
برق رفتار نثّار،ایک غیر جانب دار محقق،ایک ہمہ جہت دانشور،،ایک تیزطرار
صحافی،ایک جدت طراز موسیقی نواز اورایک فعال ادبی اور ثقافتی
سفیر!۔قدرت نے انہیں عجیب رنگ و آہنگ سے تراشا تھااوران کے رگ و پے
میں بجلیاں سی بھر دی تھیں۔ہردم کچھ نہ کچھ کرنے کے لئے بے قرار! ہر
لمحہ کوئی نیا فیصلہ،نیامنصوبہ، نیاراستہ، نئے مرحلے،نئے اقدام ،نئے چیلنج

نئی فکر،نئی مہم ،نئی منزل ۔ گویا ۔ایک چکر ہے مِرے پاءوں می زنجیر نہیں
"۔
سید تابش الوری نے مزید لکھا ہے "تعلیم و تربیت،تہذیب و تمدن ،علم و فن
،تجربہ و مشاہدہ ،ذہانت و مہارت اور ریاضت نے ان کے صفاتی خدوخال اور
زندگی کے احوال کوایسے دھنک رنگ سانچے میں ڈھالاتھا ،جس کی تصویر
سب کی جیسی بھی تھی اور سب سے الگ بھی ! خوش اندامی،خوش اخلاقی
،خوش لباسی ،خوش دلی اور خوش فکری کاوہ ایک دلکش پیکر تھے ۔سراپا
خود دار۔سراپا انکسار۔جرات و جسارت کے کوہسار ۔فراست و فطانت کی آبشار
! رکیں تو لالہ زار اور چلیں تو باد بہار!۔میرے نزدیک بَلّے صاحب بنیادی
طور پر شاعر تھے مگر ان کی بیشتر تخلیقی توانائی تعلقاتِ عامہ اور ابلاغیات
نے لوٹ لی۔اس کے باوجود انہوں نے ایک قادرالکلام شاعر کے طور پرخود
کومنوایا۔ان کی شاعری روایت اور جدت کادلکش اتّصال تھی۔ "
سیدتابش الوری نے ان کی کثیرالجہت شخصیت کے جو خدو خال متذکرہ بالا
چند جملوں میں سمیٹے ہیں ،ان کی کتاب "سیدفخرالدین بلے ایک داستان۔ ایک
دبستان " میں نامورادیبوں کی تحریریں ان پرتفصیل کے ساتھ روشنی ڈالتی نظر
آتی ہیں۔جوش ملیح آبادی، فیض احمد فیض ،افتخارعارف ، میرزا ادیب، احمد
ندیم قاسمی،ڈاکٹر وزیرآغا،اشفاق احمد،بانوقدسیہ،آل احمدسرور،پروفیسرجگن
ناتھ آزادسرپرست اعلیٰ سہ ماہی ورثہ ، نیویارک،علامہ سیدارتضیٰ عاطف
شیرازی آف اٹلی ،پروفیسر ڈاکٹر امام اعظم کولکتہ، مناظر عاشق
ہرگانوی،رئیس امروہوی، جون ایلیا، مدیرسیپ نسیم درانی، صدیقہ بیگم
مدیراعلیٰ ادب لطیف، مدیر اطراف محمود شام، مدیرالاقرباءمنصور
عاقل،غزالی ءزماں،رازی ءدوراں اورامام اہل سنت والجماعت علامہ سیداحمد
سعید کاظمی ،علامہ نصیرالاجتہادی، وقار انبالوی، حبیب اللہ اوج، عبدالرحیم
انجان کینیڈا، ڈاکٹر ثروت رضوی مدیرہ قومی زبان،ڈاکٹر عنوان چشتی،ڈاکٹر
فوق کریمی علیگ ،شکیل بدایونی،سابق وائس چانسلر مسلم یونیورسٹی علی گڑھ
سید حامد،معروف افسانہ نگار انتظار حسین، مزاح نگاراورڈرامہ نویس کمال

احمد رضوی،حنیف رامے ،مرتضیٰ برلاس،علامہ سید غلام شبیربخاری
علیگ،جاویداحمد قریشی،مدیرنقوش محمد طفیل،محسن بھوپالی،محسن نقوی،
ڈاکٹر اسلم انصاری ، ڈاکٹر عاصی کرنالی،پروفیسر خالد پرویز،ڈاکٹر
انورسدید،علامہ طالب جوہری،مخدوم طالب المولیٰ ،این میری شمل ،خواجہ
نصیرالدین نصیر آف گولڑہ شریف ،مسعود اشعر،تاریخ داں پروفیسر منورعلی
خان علیگ،ڈاکٹر علی عباس امید علیگ،الطاف حسین قریشی مدیر اردو ڈائجسٹ
،ضیاءالاسلام انصاری، مدیراعلیٰ مشرق، صفدر ہمدانی مدیراعلیٰ عالمی اخبار
انگلینڈ،صہبالکھنوی مدیراعلیٰ افکار،کراچی،پروفیسر اصغر ندیم سید ، سرفراز
سید، عذرا اصغرمدیر اعلیٰ ماہنامہ تجدید نو، خالد احمد مدیر اعلیٰ ماہنامہ
بیاض ،لاہور، مختار مسعود علیگ،راورڈاکٹر اجمل نیازی کے ساتھ ساتھ شہر
شہر اور دیس دیس کی اتنی بڑی بڑی ادبی شخصیات ہیں ، جنہوں نے
سیدفخرالدین بلے کی شخصیت کے بہت سے رنگ ہمیں دکھائے ہیں ۔یہ
شخصیات اتنی بڑی تعداد میں ہیں کہ اگر اُن کے صرف نام ہی لکھ دئیے جائیں
تو اخبار کے کئی صفحات درکار ہوں گے۔ میراارادہ ہے کہ بر صغیر پاک و
ہند کے مشاہیر ادب و صحافت نے بلے صاحب کے بارے میں جتنا کچھ لکھا
ہے، ان کے اقتباسات لکھنے والوں کے ناموں کے ساتھ حروف تہجی کے
اعتبار سے یکجا کرکے انہیں کتابی صورت دے دوں۔اس طرح بکھرا ہوا کام
بھی سمٹ جائے گا۔اور مجھے لگتاہے کہ میں ان سے اپنی محبت کا حق بھی
کسی حد تک اداکرسکوں گا۔
اپنے پچاس سالہ کیرئیر کے دوران سیدفخرالدین بلے کی ادارت میں جورسائل
شائع ہوئے،ان کے ناموں کی فہرست جمیل الدین عالی کے کالم نقارخانے میں
موجود ہے۔وہ جن جریدوں کے بانی چیف ایڈیٹر رہے، ان میں ماہنامہ جھلک ،
علی گڑھ، ماہنامہ اوقاف ،اسلام آباد، ماہنامہ ہم وطن اسلام آباد،ماہنامہ یاران
وطن اسلام آباد،ماہنامہ ہمارا ملتان،ماہنامہ مسلم لیگ نیوز لاہور، ہفت روزہ آواز
جرس لاہور بھی شامل ہیں۔ ان کے علاوہ بھی بلے صاحب دیگر کئی رسائل
کے ایڈیٹر اور چیف ایڈیٹر رہے۔

سیدفخرالدین بلے اردو روزناموں میں باقاعدگی کے ساتھ ایک طویل عرصے
تک قطعات بھی لکھتے رہے ہیں۔ حالات حاضرہ پران کی خوبصورت نظمیں
بھی اہل ادب کی توجہ سمیٹتی رہی ہیں ۔انہوں نے کچھ اخبارات میں کالم بھی
باقاعدگی کے ساتھ لکھے۔کبھی اپنے نام سے، کبھی ادب دوستوں کے نام
سے۔شاید اس لئے کہ بقول مدیرمحفل لاہور طفیل ہوشیار پوری ،بلے صاحب
چَھپنے کے بجائے چُھپنے کی کوشش کیا کرتے تھے۔انہوں نے چُھپنے کی
چاہے جتنی بھی کوشش کی ہو، کئی ملکوں میں ان کے حوالے سے تحقیقی کام
ہوا ہے اور ہورہاہے۔ایران کے شہرقُم کے نامور اسکالرمولانا علامہ کلب حسن
نونہروی نے ایک کتاب بڑی تحقیق کے بعد لکھی ہے ۔ جس کانام ہے ۔سات
صدیوں بعد سیدفخرالدین بلے کاقول ترانہ ۔ معرفت کاانمول خزانہ ۔یہ کتاب
منظرعام پرآچکی ہے اور نیٹ پر دستیاب ہے ۔اس میں بھی ناموردانشوروں
اورعلمائے دین کی نگارشات کے اقتباسات موجود ہیں ، جنہوں نے امیر خسرو
کے سات سو سال بعد سیدفخرالدین بلے کی اس کاوش کوتاریخ ساز کارنامہ
قراردیاہے۔یہاں یہ بات لکھتے ہوئے مجھے فخر محسوس ہو رہا ہے کہ جب
مدینة الاولیاءملتان میں امیرخسرو کے سات سوسالہ جشن ولادت کے
بعدسیدفخرالدین بلے نے نیاقول ترانہ تخلیق کیاتھا تو یوم علی کرم اللہ وجہہ پر
روزنامہ آفتاب ملتان نے اس پر خصوصی اشاعت کااہتمام کرکے اسے اپنے
ایڈیشن کے سر ورق کی زینت بنایاتھا ۔ اور معروف شاعر اہل بیت اطہار
محسن نقوی نے لکھا تھا سیدفخرالدین بلے نے من کنت مولاہ فعلی مولا ہ کی
بنیاد پرجو تحقیقی کتاب ولایت پناہ حضرت علی مرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم
لکھی ہے، یہ نیا قول ترانہ اس کانچوڑ ہے۔اصل میں بلے صاحب کی شخصیت
کے بہت سے پہلو اور ان گنت رنگ ہیں ،انہیں کسی ایک مضمون میں سمیٹنا
میرے بس کی بات نہیں ، لیکن ایک بات طے ہے اور وہ یہ کہ ان کی پوری
زندگی بڑی بھر پور رہی اور انہوں نے خود کو ادب، تصوف ، ثقافت،تاریخ
،تحقیق اورصحافت کے لئے وقف کئے رکھا ۔اسی بات کااظہار انہوں نے اپنے
ایک شعرمیں بھی کیاہے اور اسی پر میں اپنے مضمون کو ختم کررہاہوں۔

تلاش رزق ہویا جستجوئے معرفت بلے
ہماری زندگی شعرو ادب یوں بھی ہے اور یوں بھی
سید فخرالدین بلے ۔ دُنیائے ادب و صحافت کی آبرو

تحریر: ممتاز احمد طاہر
چیف ایڈیٹر روزنامہ آفتاب ، ملتان،لاہور،کراچی
چیف ایڈیٹر ڈیلی بزنس نیوز ملتان، لاہور، کراچی
چیئرمین اے پی این ایس ریجنل پریس کمیٹی
صدر خواجہ فریدکلچرل فورم پاکستان
سابق نائب صدر آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی(APNS)
سابق نائب صدر کونسل آف پاکستان نیوز پیپرز ایڈیٹرز(CPNE)

SHARE

LEAVE A REPLY