فون بند ہو چکا تھا ۔۔۔
شاید میرا دل بند ہونے والا تھا
اس ایک پل میں ، میں سوال کی طرح جواب کی منتظر کھڑی رہ گئی ، خود کو محسوس کرنے کی کوشش کی تو دل کی دھڑکن اور سانس کی آواز سنائی دے رہی تھی۔
تیز تیز قدموں سے چل کر سرجری واپس گئی کہ کہیں میرا نام ڈاکٹر نے پکارا نہ ہو ۔۔ سامنے ہی ڈاکٹر مدحت سید شاید میرے ہی انتظار میں تھی ۔۔ اس کے کمرے میں پہنچنے تک بھی میں سوالوں سے بھرا غبارہ بن چکی تھی ۔ اس کو بتایا کہ ابھی ابھی ڈاکٹر رابعہ شیخ سے بات ہوئی ہے اس نے مجھے زوم پر میٹنگ کے لئے کہا ہے ۔
اس وقت میں صرف ایک مریض تھی اور شاید کے پنڈولم پر جھول رہی تھی ۔ مدحت ناصرف میری دوست تھی کہ ہم دونوں نے ایک ساتھ آسڑیلیا میں میڈیکل کے امتحانات پاس کیئے تھے ۔۔ لیکن اب وہ میری ڈاکٹر بھی تھی اسی لئے مجسم تسلی بنی مجھ سے باتیں کر رہی تھی ۔۔ اور میں ہمیشہ سے اچھی مریض تھی جو خاموشی سے سن رہی تھی اور جی جی کر رہی تھی اور مدحت جو بیماری کو بھی شفا میں لیپٹنے کا ہنر رکھتی تھی مجھے کہہ رہی تھی کہ نگہت قبل از وقت اندازے لگانا دانشمندی نہیں اور وہ بھی ایک ڈاکٹر کے لئے ۔۔
میں اس کے کمرے سے باہر نکلتے وقت یہی سوچ رہی تھی کہ کیا میرے مریض بھی ، میری طرح ، میرے کمرے سے باہر نکلتے وقت یہی سوچتے ہونگے ۔۔۔ کئی سوال ان کہے اور کئی ادھورے جواب لئے وہ چل دیتے ہونگے ۔۔۔ کیا اس وقت میں ہی صرف ایک مریض ہوں ؟ ۔
گاڑی چلاتے ہوئے سوچ رہی تھی آفتاب کو کیا بتاؤں ۔۔ ابھی تو مجھے بھی سوائے خدشات اور واہموں کے کچھ معلوم نہ تھا ۔ ۔۔ پر بتانا تو ہے ۔۔ اور ہاں دعا کے لئے بھی کہنا ہے ۔۔ میں سوچ رہی تھی کہ کیا دعاؤں سے ڈاکٹر رابعہ شیخ کی ٹیبل پر رکھی یا کمیوٹر پر آئی رپورٹ بدل جائے گی ۔۔۔۔ اس وقت مجھے سب سے زیادہ جو بات اچھی نہیںلگ رہی تھی وہ تھی میری بزدلی ۔۔ اپنا ایک “ عام سا انسان “ ہونا مجھے ستا رہا تھا ۔ ۔۔ آن واحد میں نتیجہ جانے بغیر ہی میری سوچیں میرے بس سے باہر ہو جایئں گی معلوم نہ تھا۔ اس وقت میری ڈگریاں ۔۔ میرے لیکچر ۔۔ میری روحانیت ۔۔۔ میرا ہمہ وقت مثبت ہونا ۔۔۔ سب میرے معمولی ہونے کا تماشا حیرانگی سے دیکھ رہے تھے ۔۔۔ اور ایک دوسرے سے کہہ رہے تھے ۔۔۔ دیکھتے ہیں ڈاکٹر نگہت نسیم اس چیلنج سے کیسے گزرتی ہے ؟
میری آنکھوں میں نمی سی اتر آئی ۔۔۔
میں تنہا اپنے گھر میں اپنی ہی سوچوں سے ہراساں ہورہی تھی ۔
میں سوچ رہی تھی یا شاید خود کو تسلی دے رہی تھی کچھ بھی تو ایسا خاصنہیں ہوا تھا کہ مجھے اتنا ڈر لگے ۔۔ اور ڈر بھی ایک رپورٹ سے لگے ۔۔ رپورٹ ہی تو ہے ناں !
پر رپورٹ پچیس مئی کو ہونے والی میری بائیوپسی کی تھی ۔
میری آنکھوں میں ایک ایک کر کے سارے منظر گھوم گئے ۔۔۔
اٹھارہ مارچ ( 18/3/220 ) بروز جمعہ کو مجھے کویڈ ہوا تھا جو تقریبا چار ہفتوں میں ٹھیک ہوا تھا جبکہ میں نے دونوں کویڈ ویکسینز اور بوسٹر ڈوز بھی لگوائی ہوئی تھی ۔ پھر بھی بخار اور سانس کے بحال ہونے میں اتنا وقت لگ گیا۔اپریل کے آخری ہفتے میں مجھےاندام نہانی کا یعنی ویجائینل انفیکشن
Vaginal Infection
ہوا ۔۔ جس کی بدبو والی ڈسچارج (رطوبت) نے مجھے چونکا دیا تھا ۔۔ اندام نہانی سے خارج ہونے والی رطوبت عام طور پر صاف یا دودھیا رنگ کی ہوتی ہے جو ناخوشگوار یا بدبودار نہیں ہوتی ہے۔ یہ جاننا ہمارے لئے بہت ضروری ہے کہ عورت کے ماہواری کے دوران اندام نہانی سے خارج ہونے والی رطوبت میں تبدیلی آتی ہے۔ اور یہ تبدیلیاں بیضہ دانی یعنی اووری
( Ovary)
سے وابستہ ہیں اور قدرتی ہیں جسے
Ovulation
کہتے ہیں ۔۔۔ لیکن رطوبت کے اخراج میں بدبو اور اس کا ہلکا سبز اور پیلا رنگ مجھے خبردار کر رہا تھا ۔
رمضان کا آخری عشرہ تھا ۔ میری بیٹی آمنہ کینبرا سے عید کرنے پہنچ چکی تھی اور روزوں کی وجہ سے مصروفیت اتنی بڑھ گئی کہ اپنی خبرگیری جیسے بھول سی گئی تھی ۔
عید دو مئی کو تھی ۔۔ بچے عید کرنے گھر پر جمع تھے ۔۔ آفتاب اور میں نے بھی اس بار عید پر ایک ہفتے کی چھیٹیاں لی ہوئی تھیں ۔۔ بچوں کی وجہ سے گھر میں جیسے جشن کا سا سماں تھا اور اس بار تو میری سات ماہ کی پوتی ایمیلیا کی پہلی عید تھی اور ہمارا بس چلتا تو اس کے لئے آسمان سے تارے ہی توڑ لاتے ۔
روزانہ بچوں کے پسند کے کھانے بناتے وقت گزر رہا تھا ۔۔کہ ۔۔ ایک دن اچانک مجھے بلیڈنگ
Vaginal Bleeding
ہو گئی ۔۔۔۔۔۔ میں تھوڑی پریشان تو پہلے سے تھی مگر اب فکر مند ہو چکی تھی ۔ ماہواری عموما پچاس سے باون برس میں بند ہو جاتی ہے ۔ اور میں یہ بھی جانتی تھی کہ ماہواری کے بند ہونےکے ایک سال بعد بھی اگر ماہواری جیسا تھوڑا سا خون آئے ، حتی کہ ٹشو پر دھبہ بھی لگے تو ٹھیک نہیں ہوتا ۔ مجھے تو ماہواری بند ہونے کے آٹھ برس کے بعد ایسا ہو رہا تھا ۔۔۔ پوسٹ مینو پازل بلیڈنگ
( Postmenopausal Bleeding )
کی جانچ بہت ضروری تھی ۔۔میں نے بیٹی آمنہ کو بتایا اور اس نے مجھے فورا ڈاکٹر مدحت کو بتانے کے لئے کہا ۔۔ پر میں سوچ میں پڑ گئی ، کہوں یا نہیں ، عید کا موقع ہے ۔۔وہ بھی اپنے بچوں کے ساتھ عید کی چھٹیوں پر تھی ۔۔ آمنہ کی مسلسل اصرار پر میں نے آخر مدحت کو میسج کر ہی دیا ۔ اس نے فورا جواب میں لکھا کہ وہ پانچ مئی جمرات کو واپس ڈیوٹی پر آئے گی اور میں اس سے اپنی اپوائنمنٹ بک کر لوں اور بلیڈنگ پر نظر رکھوں ۔۔ کسی بھی تبدیلی پر فورا ہسپتال جاؤں اور اسے بھی بتاؤں ۔ ۔۔ آمنہ کو تسلی ہوئی تو تھوڑا مجھے بھی حوصلہ ملا۔
منگل تک سب بچے واپس اپنے ٹھکانوں پر جا چکے تھے ۔
جمعرات پانچ مئی کو میں ڈاکٹر مدحت سید کے سامنے بیٹھی ہوئی تھی ۔۔ اففف پھر تو جیسے انویسٹیگیشن یعنی تشخیص کے در ہی کھل گئے تھے ۔۔۔۔۔۔
جاری ہے
ڈاکٹر نگہت نسیم














الله تعالیٰ مکمل صحت اور تندرستی سے نوازے آمین .یہ تکالیف اور پریشانیاں الله کی طرف سے اپنے محبوب بندے کی آزمائش ہوتی ہیں ..
پروردگار، آپ کو صحت کاملہ و عاجلہ عطا فرمائے ۔یہ فقط آپ بیتی نہیں ہے ایک دستاویز ہے ۔معلومات اور آگہی کی ۔ایک صدقہ جاریہ جو، آپ کے لیے زندگی میں ہی انشاء اللہ آپ کی مکمل صحت اور شفا کا باعث ھوگا ۔ہزاروں سال جیئیں صحت و سلامتی جے ساتھ ہم سب کو آپ کی ضرورت ہے ۔