پیرس میں 13 نومبر 2015 ءکو حملہ کرنے والے دہشت گردوں میں سے واحد دہشت گرد صالح عبد اسلام کا مقدمہ بیلجیئم اور یورپ کے دارالحکومت برسلز میں شروع ہوگیا۔
اس موقع پر انتہائی سخت سیکیورٹی کے انتظامات کیے گئے تھے، عدالت کی جانب سے پوچھے گئے پہلے سوال پر ہی ملزم نے کہا کہ وہ کسی سوال کا جواب نہیں دینا چاہتا، جبکہ ملزم کے وکیل نے کہا کہ اس کے مؤکل کی خواہش ہے کہ اسے میڈیا پر نہ دکھا یا جائے ۔
سن 1989ء میں برسلز کے مسلم اکثریتی علاقے مولن بیک میں پیدا ہونے والے 28 سالہ صالح پر الزام ہے کہ وہ فرانس کے دارالحکومت پیرس میں 13 نومبر 2015ء کو حملہ کرنے والے گروہ کا حصہ ہے جس میں 130 افراد ہلاک ہوئے تھے ۔
پولیس کے مطابق ملزم بھی خودکش حملہ آور ہےلیکن بارود سے بھری جیکٹ میں خرابی کے بعد وہ اسے اتار کر بھاگ گیا تھا۔
اس موقع پر پولیس نے ایک اور شخص سفیان ایاری کو بھی عدالت میں پیش کیا۔
پولیس کے مطابق پیرس حملے کے بعد 22 نومبر 2016ء کو برسلز میں ہونے والے خود کش حملے میں بھی ان دونوں کا کردار ہے۔
برسلز ایئرپورٹ اور ایک انڈر گراؤنڈ میٹرو سٹیشن پر حملوں میں 32 افرادہلاک ہوگئے تھے، خیال کیا جاتا ہے کہ اس مقدمے کے ملزمان کو 40 سال تک کی سزا ہو سکتی ہے۔












