افغان طالبان نے دعویٰ کیا ہے کہ طالبان تحریک اور امریکہ کے نمائندوں کے درمیان بات چیت کا ایک اور دور بدھ سے قطر میں شروع ہورہا ہے۔
طالبان کے ایک سینئر رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کو بتایا ہے کہ مذاکرات کا فیصلہ دونوں فریقین نے باہمی مشاورت سے کیا ہے جو دو روز جاری رہیں گے۔
طالبان کے ایک اور سینئر رہنما نے قطر میں ہونے والے مذاکرات کی تصدیق کرتے ہوئے ‘رائٹرز’ کو بتایا ہے کہ بات چیت میں افغان حکومت اور کسی دوسرے ملک کے نمائندے شریک نہیں ہوں گے۔
طالبان رہنما کے مطابق اس باروہ صرف امریکی حکام سے بات کرنا چاہتے ہیں۔ رہنما کے بقول مذاکرات میں افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا، قیدیوں کے تبادلے اور طالبان رہنماؤں کی نقل و حرکت پر عائد پابندیاں اٹھانے کے معاملات زیرِ غور آئیں گے۔
امکان ہے کہ بدھ کو ہونے والے مذاکرات میں امریکی وفد کی قیادت امریکہ کے خصوصی ایلچی برائے افغان مفاہمت زلمے خلیل زاد کریں گے۔












