طارق بٹ ۔۔۔شاید مجھے نکالنا نہ چاہتے ہوں آپ

0
745

سینیٹر پرویز رشید ویسے تو بہت سنجیدہ شخص ہیں مگر جب سے ان کے قائد نواز شریف نا اہل ہوئے ہیں نجانے ہر دس پندرہ دن بعد انہیں کیا شرارت سوجھتی ہے کہ وہ چودھری نثار علی خان کے بارے میں کوئی نہ کوئی شرلی چھوڑ دیتے ہیں اور اس کے بعد چودھری صاحب پر لازم ٹھہرتا ہے کہ وہ بھرپور انداز میں اس شرلی کا جواب شرلے سے دیں ۔ گذشتہ دنوں بھی ایسا ہی ہوا کہ نواز شریف کی احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر ان کے ساتھ آئے سینیٹر پرویز رشید کو صحافی برادری نے اپنے گھیرے میں لے لیا اور پہلا ہی سوال نواز شریف کی نااہلی کے بعد اختیار کئے جانے والے چودھری نثار علی خان کے مستقبل کے حوالے سے داغ دیا ۔ اندھے کو دو آنکھوں کے علاوہ اور کیا چاہئے پرویز رشید شائید اسی موقع کی تلاش میں تھے۔ فورا گویا ہوئے ” چھوڑو یار اس کے مستقبل کا کیا پوچھتے ہو اس نے خود اپنے روئیے سے اپنے مستقبل کا فیصلہ کر لیا ہے چودھری نثار کی مثال اس شخص جیسی ہے جو خود کو بڑا پارسا سمجھتا ہے پھر وہی شخص مشکل وقت میں نہ صرف اپنے لیڈر کا ساتھ چھوڑ دیتا ہے بلکہ جہاں موقع ملے اپنے لیڈر کی پیٹھ میں چھرا گھونپتا ہے اس کی پارسائی، اخلاقیات اور انسانی قدروں کا اندازہ اس کے روئیے سے ہو جاتا ہے چودھری نثار نہ اپنے عوام کے ساتھ مخلص ہے اور نہ ہی اپنے لیڈر کے ساتھ ۔ اس کی شخصیت کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ مشکل وقت میں اپنے لیڈر کا ساتھ چھوڑ دو اور اچھا وقت آئے تو فورا اپنے لیڈر کی گاڑی کا اسٹیئرنگ سنبھال لو “۔

چودھری نثار علی خان کہاں خاموش رہنے والے تھے انہوں نے جواب آں غزل کے طور پر ایک پریس ریلیز جاری فرما دی جس میں ارشاد فرمایا ” مہروں اور کٹھ پتلیوں کے ذریعے مجھ پر الزامات کا سلسلہ جاری رہا تو تفصیلی وضاحت کا حق محفوظ رکھتا ہوں ۔ ایک سال سے بڑے صبر اور تحمل سے حالات اور معاملات کو برداشت کر رہا ہوں ۔کوشش کی ہے کہ کسی معاملے میں اس حد تک رد عمل نہ دوں جس سے پارٹی کو نقصان پہنچے۔ میں نے کافی حد تک اپنے آپ کو قومی سیاست سے الگ کر کے حلقے کی سیاست تک محدود کر لیا ہے مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ خاص طور پر پچھلے آٹھ دس مہینوں میں ایک مخصوص گروپ کی طرف سے میری ذات کو مختلف طریقوں سے نشانہ بنایا جاتا رہا کبھی خود ساختہ لطیفے کبھی طنزیہ جملے اور کبھی نہ ہونے والے واقعات کا حوالہ دے کر میری ذات کو نشانہ بنایا جاتا رہا ۔ جب اور کچھ نہ بنا تو اپنے چند منظور نظر صحافیوں سے طے شدہ سوالات کرا کے اشاروں ہی اشاروں میں میری تضحیک کی کوشش کی گی اس کا واضح مہرہ تو صرف ایک شخص تھا جس کا نہ تو مسلم لیگ سے کوئی نظریاتی اور نہ ہی سیاسی ناطہ ہے مگر کٹھ پتلی کبھی اپنی طاقت پر نہیں ناچتی۔ نواز شریف کے گذشتہ دنوں پڑھے گئے شعر اور کلمات اور ان کی بیٹی کے بیان نے مجھے مجبور کیا ہے کہ میں اپنا رد عمل دوں ۔ میاں صاحب احسان انسان نہیں کرتا اللہ تعالی انسانوں پر کرتا ہے مگر آپ اگر یہ سمجھتے ہیں کہ آپ نے لوگوں پر احسان کئے ہیں تو بہت سارے لوگوں نے آپ کو بھی اس مقام پر پہنچانے میں مدد اور احسان کیا ہو گا آپ کو ان کا بھی احساس اور احسان مند ہونا چاہیے ۔ جہاں تک مریم نواز کا تعلق ہے تو اس کی تند و تیز زبان کی وجہ سے پارٹی بند گلی میں جا رہی ہے میں اس کی بات کا اسی پیرائے میں جواب دے سکتا ہوں مگر میرے دل میں اس کے خاندان کا آج بھی احترام ہے ۔اس لئے صرف منیر نیازی کے شعر کے ذریعے اتنا کہوں گا کہ، ادب کی بات ہے ورنہ منیر سوچو تو ، جو شخص سنتا ہے وہ بول بھی تو سکتا ہے ۔ میں یہ بھی واضح کر دوں کہ اگر مہروں اور کٹھ پتلیوں کے ذریعے مجھ پر الزامات کا سلسلہ جاری رہا تو میں تفصیلی وضاحت کا حق محفوظ رکھتا ہوں “۔

چودھری نثار علی خان کی مسلم لیگ اور نواز شریف کے ساتھ وابستگی کوئی نئی بات نہیں ابتدا ہی سے دونوں میں چولی دامن کا ساتھ ہے میاں نوازشریف کی چولی میں چودھری نثار علی خان نے کئی بار چھید کئے جو میاں شہباز شریف کو رفو کرنے پڑے مگر اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ 1985 سے 2017 تک کئی مواقع ایسے آئے کہ جب گڑھے کھودنے والوں نے میاں نواز شریف کے چاروں جانب گڑھے کھود دئیے تو انہیں پاٹنے میں سب سے اہم کردار بھی چودھری نثار علی خان ہی نے ادا کیا اب اسے دونوں کی بد نصیبی کہہ لیں کہ دونوں ہی انا پرست واقع ہوئے ہیں ضدی اور اڑیل ۔ نواز شریف تو اپنی اس ضدی طبیعت کی بنا پر کئی بار چوٹ کھا چکے بلکہ 1999 میں تو چوٹ کھانے کے بعد جب انہوں نے پلٹ کے کمین گاہ کی جانب دیکھا تھا تو پرائے تو پرائے اپنے بھی غائب پائے گئے تھے مسلم لیگ ق کا وجود عمل میں آ چکا تھا اور گڑھے پاٹنے والے چودھری صاحب بھی گھر میں نظر بند تھے ایسے میں ٹھوکریں اور ماریں کھانے کی ذمہ داری اک بہادر آدمی ہاشمی ہاشمی کے کندھوں پر ڈال دی گئی اور جماعت کو زندہ اور متحرک رکھنے کے لئے بیگم کلثوم نواز کو شہر شہر گھومنا پڑا بالآخر حالات نے پلٹا کھایا ۔ پھر مشکلیں اتنی پڑیں کہ آساں ہو گئیں کے مصداق نواز شریف کے راستے کی رکاوٹیں ہٹنے لگیں ہر طرف آسانیاں ہی آسانیاں دکھنے لگیں ایسے میں بقول سینیٹر پرویز رشید محترم چودھری نثار علی خان نے ایک بار پھر سے اپنے دوست اور قائد نواز شریف کی گاڑی کا اسٹیئرنگ سنبھال لیا ۔

وقت کا پنچھی اپنی مدھر رفتار سے محو پرواز تھا کہ اچانک پاناما کا ہنگامہ برپا ہو گیا پیپلز پارٹی کے سیانوں نے نواز شریف کو بہت سمجھایا کہ انصاف کے بلند ایوانوں کا رخ مت کرو یہ اپنی داڑھی دوسروں کے ہاتھ دینے والا معاملہ بن جائے گا یہی موقف چودھری نثار علی خان کا بھی تھا مگر اقتدار اور طاقت کے نشے میں چور اونچی ہواوں میں پرواز کرنے والے نواز شریف نے ان میں سے کسی کی ایک نہ مانی اور پاناما کا دانہ چگ لیا اس دانے کے ساتھ بندھی باریک ڈوری نواز شریف کی نظروں سے اوجھل رہی اب ڈوری باہر ہے اور دانہ اندر نہ نگلا جا رہا ہے نہ اگلا ۔ ڈوری ہلانے والے ہاتھوں کو چودھری نثار علی خان سے بہتر کون جانتا ہے اسی لئے تو وہ JIT میں حساس خفیہ اداروں کی موجودگی پر اپنے تحفظات سے نواز شریف کو آگاہ کرتے رہے مگر نواز شریف ان تحفظات کو خاطر میں نہ لائے اور بالآخر اپنی اچھی خاصی خاطر کروا لی۔ وزارت عظمی بھی گئی اور پارٹی صدارت بھی مگر JIT میں پیشیوں کے دوران چودھری نثار علی خان کا کردار سمجھ سے باہر رہا کہ ایک طرف تو تحفظات کا اظہار اور دوسری طرف نہ صرف نواز شریف بلکہ شہباز شریف اور اسحاق ڈار کو بھی گاڑی کو ہولے ہولے چلا کر خود کٹہرے میں چھوڑ کر آئے پھر فیصلہ آنے کے بعد نواز شریف کے بوریا بستر لپیٹ کر لاہور روانگی پر موٹر وے کا راستہ نہ اپنانے پر ناراض ہو کر گھر بیٹھ گئے ۔

سوکھی ہوئی جھاڑیوں میں تیلی سلیم صافی نے لگائی کہ ایک انٹرویو کے دوران مریم نواز کی قیادت میں کام کرنے کا پوچھ بیٹھا ۔قیادت کی جانب سے مشاورت کے عمل سے الگ کئے جانے پر تپے بیٹھے چودھری صاحب نے وہ جواب دیا کہ تمام بھرم جاتے رہے اپنے آپ کو سیاسی یتیم نہ سمجھنے والے چودھری نثار علی خان کو اس کے بعد ایسی چوٹیں لگیں کہ پہلے سے موجود زخم آئے روز ہرے ہونے لگے اعتزاز احسن اور خورشید شاہ تو شاید تھے ہی اسی موقع کی تلاش میں مگر سینیٹر پرویز رشید کی ہر چوتھے روز چھوڑی جانے والی شرلیاں بھی جلتی پر تیل کا کام کرتی نظر آئیں اور تو اور خود میاں محمد نواز شریف نے ایسی بے رخی برتی کہ اپنے دست راست اور دوست چودھری نثار علی خان کے بارے میں پوچھے جانے والے کسی بھی سوال کا جواب دینا کبھی گوارا نہ کیا کبھی اور کوئی سوال، کبھی ہنس کے ٹال دیا اور کبھی منہ پھیر لیا، کبھی ارشاد ہوا آپ لوگ یکدم مشرق سے رخ پلٹ کے مغرب کو چل پڑتے ہیں، مطلب کہ میرے نزدیک کوئی اہمیت نہیں ۔ ان حالات میں چودھری صاحب کا پلٹنا جھپٹنا جھپٹ کر پلٹنا تو بنتا تھا وہی ہوا کہ اسی پس منظر میں مذکورہ بالا پریس ریلیز جاری فرما دی باقیوں کو تو موقع ملا ہی ملا اک بہادر آدمی بھی لنگوٹ کس کے مریم نواز کی حمایت میں میدان میں کود پڑا دوسری جانب پرویز رشید بھی شرلی پہ شرلی چھوڑے جا رہے ہیں انہوں نے بات یہاں تک پہنچا دی کہ الیکشن میں ٹکٹ کی توقع نہ رکھنا مگر چودھری نثار علی خان ہیں کہ اپنی انا کے خول میں بند یہ سوچنے کو قطعا تیار نہیں کہ طویل رفاقت کا دم بھرتے ہوئے پل بھر کے لئے اتنا تو سوچا ہوتا کہ رفیق جب چو مکھی لڑائی لڑ رہا ہو تو اگر اس کا ساتھ نہیں دے سکتے تو کم از کم اس کی توجہ تو تقسیم نہیں کیا کرتے ۔مگر موصوف اپنے ہم دم دیرینہ کے لئے ہر چوتھے روز ایک نیا مسئلہ کھڑا کر دیتے ہیں چودھری نثار علی خان ان تمام حالات کے باوجود ابھی تک مسلم لیگ کے اندر امید کا دامن تھامے بیٹھے ہیں ان کی خوش فہمی پر مبنی سوچ یہی معلوم ہوتی ہے۔
شاید مجھے نکالنا نہ چاہتے ہوں آپ
محفل میں اس خیال سے بیٹھا ہوا ہوں میں ۔۔۔

SHARE

LEAVE A REPLY