وقت تیزی سے گزر رہا تھا ۔۔ ایکبار پھر ہمت کا دامن پکڑا اور خود کو تیار کرنے لگی ۔
اب مجھے بچوں کو دائمی جدائی کا فلسفہ بھی سمجھانا تھا۔
مجھے انہیں یہ بھی بتانا تھا ۔۔۔ کہ ۔۔ زندگی موت کے بعد بھی ہوتی ہے ۔۔ جس گریس
(Grace)
سے جیتے ہیں اسی گریس سے مرتے بھی ہیں۔

مجھے بچوں کو یہ بھی بتانا تھا ۔۔۔ کہ ۔۔ کفن دفن کیسے کرتے ہیں ۔۔مرنے والوں کے لئے فاتحہ کیوں پڑھتے ہیں ۔۔ رونے کی بجائے صدقہ جاریہ کا کام کرتے ہیں ۔ میں نے ابھی چیرٹی اور منت والی ڈائری کھولی ہی تھی کہ آفتاب آ گئے ۔۔۔ انہوں نے مسکرا کر مجھے گلے سے لگا لیا ۔
ڈر لگ رہا ہے
اب نہیں
ڈرنے کی ضرورت بھی نہیں ۔۔ کینسر کا دراصل نام ہی ڈراؤنا ہے ورنہ سب اپنی زندگی جی کر ہی جاتے ہیں
جی نہ کم نہ زیادہ
یس جب تک ویزہ نہ آجائے
ہم دونوں ہنس رہے تھے ۔۔۔
ویزے پر یاد آیا کہ بہت سال پہلے میرا دیور طارق ہوسپٹل میں داخل ہوا تو اس کے برابر والے بیڈ پر ایک بوڑھا مریض تھا جو تکلیف میں اتناکراہتا کہ میری ساس اللہ بخشے گھبرا جاتیں ۔ ۔۔ تیسرے دن وہ بوڑھا اپنے بستر پر نہ تھا۔ انہوں نے طارق سے پوچھا کہ وہ شور کہاں گیا تو طارق نے اوپر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا اس کا ویزہ آگیا تھا ۔۔چلا گیا ۔ ۔۔جب سے ہم سب کسی کے بھی مرنے کے لئے ویزے کا لفظ استعمال کرتے ۔۔ اس کے بعد جانے کتنے ہی ویزے آئے اور اپنے پرائے ایک ایک کر کے سب چلے گئے ۔
میرے سسرال سے بھی تسلی بھرے پیغام آ رہے تھے ۔ ۔۔ ویزے والی بات کو ہنسی میں اڑا رہے تھے یا شاید مجھے بہلا رہے تھے ۔
لیکن مجھے اللہ بخشے اپنی ماں مماثل ساس صاحبہ “رشیدہ بیگم “ کی بات یاد آئے جا رہی تھی ۔۔ وہ کہتی تھیں
“ بیٹی جو آیا اس نے جانا ہی ہے ۔۔
جتنی سانسیں ہیں اس سے ایک کم نہیں اور ایک زیادہ نہیں ۔۔۔
زندگی تو دکھ سکھ کی کہانی ہے ۔۔ انہوں نے تو آنا اور جانا ہی ہے ، بس دعا کیا کرو کہ دکھ آیئں تو خیر کے دکھ ہوں ۔
کوئی جتنا مندا( برا) بھی کرے بس تو چنگا ( اچھا) کرنا ہے
جھوٹ کیوں بولنا
کسی کی پیٹھ پیچھے برائی نہیں کرنی
مل جل کر رہنے ہی میں برکت ہے
بس میری ایک ہی دعا ہے کہ میرا خدا مجھے کسی کا محتاج نا کرے ۔۔ بس جب جاؤں تو تم سب یہ کہا ارے ابھی تو تھیں اور اب نہیں ہیں “
امی جی آپ کی کن کن باتوں کو یاد کروں ۔۔ کیا کیا بتاؤں ۔۔
آپ ابھی تھیں اب نہیں ہیں ۔چار جنوری دو ہزار اٹھارہ کے دن نور والی نور دے ویلے چلی گئی ۔۔۔۔۔انا للہ وانا الیہ راجعون ۔۔!
مجھے ابھی بھی یاد جیسے کل کی بات ہو انہوں نے مجھ سے فون پر بات کی تھی اور دعا دی تھی کہ “ دکھ جب بھی آئیں بس خیر کے دکھ ہوں “ ۔ ان کی دعا میں ایسی جادوگری تھی میں نظم لکھے بغیر نہ رہ سکی ۔ میں بعد از حیات بھی ان کی احسانمند رہونگی ۔ اللہ پاک مجھے ان کے دل و نظر میں ہمیشہ سرخرو اور باوفا رکھے ۔۔الہی آمین
پیاری ماں
تم میرے دل کی دوست ہو
میری روح کی ساتھی ہو
تم نے مجھے نظمیں کہنا سکھائیں
افسانے بنا کر حقیقتیں سمجھائیں
تم نے ہی تو مجھے بتایا
اللہ کا دیا ہی نیتوں کی رکھوالی کر سکتا ہے
تسکین دے سکتا ہے ۔۔۔ چین آ سکتا ہے
پیاری ماں
تم نے کل
مجھے دعا دینا بھی سکھا دیا
کتنی محبت سے کہا تھا
میری بیٹی !
کبھی آرزردہ نا ہونا اور ہمیشہ دعا کرنا
جب بھی آئیں ۔۔ بس خیر کے دکھ ہوں
الہی آمین

آفتاب چائے بنا لا ئے تھے ۔۔ ہم دونوں ہی مناسب لفظوں کی کھوج میں چپ بیٹھے تھے ۔
کیونکہ ۔۔ اب ہم دونوں پر جو سب سے اہم مرحلہ درپیش تھا، وہ تھا بچوں کو بتانے کا ۔۔ میں دل ہی دل میں ورد کر رہی تھی میرے مالک بس خیر کے دکھ ہوں ۔۔آیئں اور چلیں جایئں ۔۔ ہم سب سنبھل جایئں۔
منیب نے وکالت پڑھی ہوئی ہے ، بہت بردبار اور سنجیدہ ہے ۔ دونوں بچوں کا بڑا بھائی ہے اور بڑوں ہی کی طرح ہر مسلے کو سلجھاتا ہے ۔ ہم دونوں کو یقین تھا کہ وہ اس خبر کو اپنے انداز میں سہہ جائے گا اور اپنے بہن بھایئوں کو سنبھال لے گا ۔ پھر اس کے ساتھ جیسیکا جیسی خوبصورت اور خوب سیرت ہمسفر بھی ہے ۔۔ دونوں کی بیٹی ایمیلیا ہماری جان ہے ۔ منیب کے بہلنے کے پاس بہلنے کے بہت سارے جواز ہیں ۔
نجیب ایم بی اے کر رہا ہے اور ساتھ ساتھ ایمازون میں نوکری بھی ، بہت ہی ذہین فطین اور رونقی انسان ہے لیکن وہ تکلیف دہ موقعوں پر خاموش ہو جاتا ہے ۔ اس کو اپنے جذبات کو سمجھنے اور ان سے گزرنے میں وقت لگتا ہے ۔۔۔ مجھے اس کی بہت فکر تھی ۔ مجھے یاد ہے پچھلے برس کوویڈ کے وقت جان بوجھ کر میرا ہسپتال جو اس کے زون میں آتا بھی نہیں تھا ، پر وہ ویکسین لگوانے وہیں آیا اور ویکسین لگوانے کے بعد دو گھنٹے تک میرے ساتھ رہا ۔۔ مجھے دیکھے جاتا ، کبھی گلے سے لگاتا تو کبھی میرا ماتھا چومتا ۔ایسے جیسے اب کبھی نہ دیکھ پائے گا ۔ فیس چیٹ پر کھانے بنانے سیکھتا کہ ہمارے کھانے اور ذائقہ وراثت میں اس کے پاس رہے ۔ وہ فیملی ریسیپی کی کتاب شائع کرنا چاہتا ہے تاکہ ہمارے ہاتھ کے ذائقے دائم آباد رہیں ۔ اس نے منیب اور آمنہ سے کہہ رکھا تھا کہ جس گھر ہم رہ رہے ہیں ، ہمارے بعد وہ اپنے بہن بھایئوں سے یہ فیملی گھر خرید لےگا ۔ اسے اس گھر سے ہماری مہک آتی ہے ۔ آفتاب اور میں کبھی ملک سے باہر ہوں تو نجیب گھر کا چکر ضرور لگاتا۔ گزشتہ تین برس سے وہ اپنی جاب اور تعلیم کے سلسلے میں سڈنی سٹی کے قریب نیوٹاؤن رہتا تھا۔

آمنہ جو ہم دونوں کی لاڈلی اکلوتی بیٹی بہت ہی پیار کرنے والی ہے ۔گزشتہ سات برسوں سے وہ کینبرا میں اپنی جاب کے سلسلے میں مقیم ہے ۔ لیکن کوئی ایک دن بھی ایسا نہیں ہوتا کہ رات سونے سے پہلے ساڑھے آٹھ بجے اس کا فون نہ آتا ہو ۔ یہ بات اس نے آفتاب سے سیکھی تھی ۔ آفتاب بھی اپنی امی جی کو جب تک وہ حیات رہیں روزانہ فون کرتے چاہے وہ دنیا کے کسی بھی کونے میں رہ رہی ہوتیں ۔ میری بیٹی بہت جذباتی ہے ۔۔ زرا زرا سی بات اسے رنجور کر دیتی ہے ۔ میں جانتی تھی میری بیٹی سر جھکا کر روتی رہے گی اور ہم میں سے اسے کوئی تسلی نہ دے پائے گا ۔ آمنہ میرے لئے میری ہمزاد تھی ۔ ہر بات اس سے شیئر کرتی ۔ ابھی دوہفتے پہلے ہی آئی تھی ۔ مجھے شاپنگ پر لے گئی اور جانے کیا کیا سیل کے نام پر اکٹھا کر کے گھر لے آئی ۔ اس کو لگتا تھا جیسے اس کے والدین دنیا کے اسمارٹ ترین لوگ ہیں جن پر ہر طرح کا رنگ اور فیشن سوٹکرتا ہے ۔ مجھے کئی بار مینی کیور ، پیڈی کیور ، فیشیل اور مساج اسی کی خاطر کرانے پڑتے ۔ ۔۔ پھر ہم کئی موضوعات پر باتیں کرتے ۔ میرا ایڈکشن اور اس کا شعبہ سائبر کرائم اور کرمنالوجی کا ہے ۔ ۔۔ ہم دونوں بے تکان پروفیشنل گفتگو کرتے ۔
ہمارے تینوں بچوں میں ادب ، فلم ، آرٹ اور سیاحت کا شوق ہم جیسا ہی تھا سو ان کے آنے سے گفتگو کے کئی رنگ کھل جاتے اور ہم سب ایک یادگار وقت گزار کر دوبارہ ملنے کے لئے اپنے اپنے گھروں کو لوٹجاتے ۔۔ عید تہوار ایک ساتھ کرتے ۔۔۔یوں لگتا جیسے بچے ہمارے ساتھ ہی رہتے ہیں ۔ اس خبر کے بعد ان کے لئے ایک ساتھ مل بیٹھنے کی ایک اور وجہ دریافت ہو چکی تھی ۔

آفتاب نے ہمارے فیملی گروپ “ آفتابز پلس ون “ پر وڈیو کال کر دی ۔۔ آفتاب ہم پانچوں اور پلس ایمیلیا تھی اور یہ نام نجیب ہی نے ایمیلیا کے ہونے کے بعد رکھا تھا ۔۔
میں نے سوچا ۔۔۔
جاری ہے
ڈاکٹر نگہت نسیم














سلام
دل کر رہا ہے آپ کو گلے سے لگا کےڈھیر سارا پیار دوں اتنی بہا دری سے آپ اس مرض کا مقابلہ کررہی ہیں پاکستان آئیں تو میں آپ سے ملناچاہوں گی یاد رکھیے گا
زہے نصیب
انشاءللہ ضرور ملونگی
سلامت ریئے
ڈھیر سارا پیار اور دعایئں
ڈاکٹر نگہت نسیم
bus dheron dher duaein aur bay inteha piyaar
روتے روتے پڑھ رہی ہوں ۔اللہ آپ کو جلد اس تکلیف سے مکمل نجات دے ۔اولاد سے تو، آنول نال کا رشتہ ہوتا ہے ۔جو الگ نہیں ھوتا ۔آپ نے ہی یہ فلسفہ بھی سمجھایا تھا ۔بہت مشکل مرحلہ رہا ھوگا یہ شاید سب سے زیادہ مشکل ۔لیکن یہ وقت بھی آپ نے کس تحمل سے گزار لیا ۔بہت اچھا اور بہت، زیادہ بولنے اور چہکنے والی نگہت نسیم نے اس، تکلیف کو سمندر کی سی خامشی سے جھیلا ہے ۔اشتراک تو، آپ اب کررہی ہیں لیکن جس سمے یہ سب ھورہا تھا آپ کے حوصلے کی داد ہے ۔دعاؤں کے قافلے آپ کی سمت، ۔۔۔۔۔بے شمار، بار بار کی جانے والی دعائیں ۔۔۔سلامتی ہی سلامتی