رمضان کریم صوم و صلاہ خیر و برکت عبادت و غفران کا مبارک مہینہ ھے
رمضان کے روزے ھر مسلمان پر فرض کیے گئے ھیں اس لیے
دنیا بھر میں موجود کروڑوں مسلمان ماہ رمضان کا خصوصی اہتمام و استقبال کرتے ھیں
رمضان کریم صیام و قیام کی بہار لیکر آتا ھے یہ مہینہ عبادات اور قرب ربانی کی نعمتوں کا پیغام لیکر آتا ھے
روزے کی حالت میں مسلمان صبر و تحمل ضبط و بردباری پاکیزگی و استقامت کا سبق سیکھتا ھے
رمضان اپنی اھمیت و افافیت
تقدس واحترام اور احتشام عبادات کی وجہ سے بدنی اور روحانی فوائد کے انمول خزانے عطا کرتا ھے
رمضان میں جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ھیں شیاطین کو قید کر دیا جاتا ھے
روزے داروں کے لیے جنت کے ابواب وا کر دیے جاتے ھیں۔
روزے دار جنت میں باب الریان سے داخل ھونگے۔
اس ماہ مبارک کو
ماہ الدعا
ماہ صوم و صلاہ
ماہ قرآن الفرقان
ماہ قرب اللہ
بھی کہتے ھیں
اس ماہ قرآن نازل ھوا
روزے فرض ھوئے
شہر رمضان میں اللہ تعالٰی نے قرآن مجید نازل فرمایا
جو رشد و بدایت کی مقدس اسمانی کتاب ھے
آللہ پاک روزہ داروں کی دعاوں کو قبول فرماتا ھے
روزے کے بہت سارے فوائد ھیں
روزے دار سحور و فطور کے وقت اللہ پاک کی خاص رحمت کے ساے تلے ھوتا ھے
،اللہ پاک کی رضا و خوشنودی کے لئے روزہ رکھتے ھیں، محتاج و غریبوں کے لیے زکاہ اور فطرات کا اھتمام کرتے ھیں ، یہ وہ ماہ مبارک ھے جس پہلا عشرہ
رحمت
دوسرا عشرہ مغفرت
اور عشرہ اخیر میں دوزخ سے رہائی عطا کر دی جاتی ھے
رمضان میں سحری کے بارے میں کہا گیا ھے کہ اس کو ترک نہ کرو سحری برکت ھے اور دن بھر روزے دار کے لیے باعث تقویت بھی ھے
رمضان کا ھر دن رحمت و مغفرت کا دن ھے مگر آخری عشرے کی طاق راتوں کی عبادت کا بہت اجر و ثواب ھے
خدا کی جانب توجہ، اعمالِ صالحہ کی جانب رجحان اور روزے کی فرضیت کی بنا پر یہ مہینہ تزکیہ و تہذیب ِ نفس اور گناہوں سے چھٹکارے اور نجات کا مہینہ ہے۔
احادیث و روایات میں اس مہینے کو قرآن کی بہار قرار دیا گیا ہےلوگ اس مہینے میں قرآن کی جانب متوجہ ہوتے ہیں ،سال کے دوسرے دنوں کے مقابلے میں ماہِ رمضان کے ایام میں قرات ِ قرآن کا زیادہ اہتمام ہوتا ہے۔
عربی لغت کے ماہرین کی تشریحات کے مطابق ”رمضان“ لفظ ”رمض“ سے لیا گیا ہے اور انہوں نے ”رمض“ کے معنی بیان کرتے ہوئے دو مفاہیم کا تذکرہ کیا ہے۔
۱:-”العین“ نامی عربی لغت کے مئولف خلیل بن احمد کے بقول: ”رمض“ کے معنی موسمِ خزاں میں ہونے والی بارش ہے، جو سطح زمین سے گردوغبار اور گندگی کو دھو ڈالتی ہے۔
اس بنیاد پر، اس مہینے کو رمضان کہنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ انسان کی روح کو اور اس کے نفس کو آلودگیوں اور نجاستوں سے صاف اور پاک کردیتا ہے۔
۲:-طریحی نے ”مجمع البحرین“ میں اور احمد بن محمد نے ”مصباح المنیر“ میں لفظ رمضان کو ”رمض“ اور ”رمضا“ سے ماخوذ قرار دیا ہےجس کے معنی وہ گرم اور سلگتی ہوئی ریت اور پتھر ہیں جو سورج کی براہِ راست تپش سے جھلسنے لگتے ہیں۔
طریحی نے ”مجمع البحرین“ میں کہا ہے کہ: رَمَضَتْ قَدَمُهُ بِالْحرّ، اُحْتِرُقَتْ (رَمَضَتْ قَدَمُهُ یعنی اس کے پائوں جل گئے)
لہٰذا اس ماہِ مبارک کو رمضان کہنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ مہینہ اپنی خصوصیات کی وجہ سے گناہ اور گمراہیوں کے اسباب ختم کرکے، انسان کے راستے سے کمال کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرتا ہے، اور اس کے اخلاق کی اصلاح اور پاکیزگی کیلئے مواقع فراہم کرتا ہے۔
”زمخشری“ کہتے ہیں کہ: اس ماہ کو رمضان اس لئے کہا گیا ہے کہ اس مہینے میں گناہ جل کرختم ہوجاتے ہیں(تفسیر کشاف سورہ بقرہ کی آیت ۱۵۸ کی تفسیر میں)
جبکہ کچھ احادیث کے مطابق ”رمضان“ خدا کے ناموں میں سے ایک نام ہےسعد بن طریف کہتے ہیں: ہم سترہ افراد، امام محمد باقر علیہ السلام کی خدمت میں موجود تھےاس محفل میں رمضان کا ذکر چھڑ گیا، امام ؑنے فرمایا:
لاٰ تَقوُلوُ هذٰا رَمضٰانٌ، وَلاٰ ذَهَبَ رَمَضٰانٌ، وَلاٰ جٰاءَ رَمَضٰانُ، فَاِنَّ رَمَضٰانَ اِسْمٌ مِنْ أَسْمٰائِ اللّٰهِ عَزَّوَ جَلَّ لاٰ یَجِیی ءْوَلاٰ یَذْهَبُ
یہ نہ کہا کروکہ یہ رمضان ہے اور رمضان گیا، رمضان آیا، کیونکہ رمضان اللہ رب العزت کے ناموں میں سے ایک نام ہےجس کا آنے اور جانے (اور تغیر و تبدل) سے کوئی تعلق نہیں پھر فرمایاکہا کرو کہ: ماہ ِرمضان( فروع کافی ج ۴۔ ص ۶۹ اور۷۰)
دوسری متعدد احادیث میں بھی ماہ ِرمضان کو ”شہر اللّٰہ“ کہا گیا ہے۔
دوسرے تمام مہینوں پر ماہِ رمضان کی فضیلت اور بزرگی کی ایک علامت یہ ہے کہ شب ِ قدر اسی مہینے میں ہے، وہ رات جس کے بارے میں ارشادِ الٰہی ہے کہ:
لَیْلَُ الْقَدْرِ خَیْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَهْر
شب ِقدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے(سورہ قدر ۹۷آیت۳)
ایک شخص نے امام محمد باقر علیہ السلام سے سوال کیا: اس سے کیا مراد ہے کہ: شب ِ قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے؟ امام ؑنے جواب دیا: اس سے مراد یہ ہے کہ اس رات میں انجام دیا جانے والا نیک عمل، ایسے ہزار مہینوں میں انجام دیئے جانے والے نیک عمل سے بہتر ہے، جن میں شب ِ قدر نہیں ہوتی(فروع کافی۔ ج ۴ص ۱۵۸)
پروردگار ہم سب کو اس ماہ مبارک کی فیوض و برکات سے فیض یاب ہونے کی توفیق عطا کرے۔ آمین












